طالبان کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکس لینے لگے
- بدھ 28 / جولائی / 2021
- 5210
پاکستان نے افغانستان سے متصل اہم سرحدی گزرگاہ چمن اسپن بولدک کے ذریعے دو طرفہ تجارتی سرگرمیاں بحال کر دی ہیں۔ یہ تجارت افغانستان کی جانب سے اب طالبان کے زیرِ انتظام چلائی جا رہی ہے۔
تاجروں نے سرحدی تجارت کی بندش ختم کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ چمن اسپن بولدک سے تجارت کی اجازت ملنے کے بعد سوموار کو درجنوں ٹرک پاکستان سے افغانستان میں داخل ہوئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر چمن کیپٹن (ریٹائرڈ) جمعہ داد خان نے بتایا ہے کہ چمن اسپن بولدک سرحدی گزرگاہ روزانہ پانچ گھنٹے دو طرفہ تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھلی رہے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ مخصوص اوقات میں پیدل آمد و رفت بھی جاری رہے گی۔
اس سے قبل پاکستان کی جانب سے سرحد کو صرف عام آمد و رفت کے لیے کھولا گیا تھا۔ سرحدی گزرگاہ سے آمد و رفت کے لیے سفری دستاویزات اور کرونا وائرس ٹیسٹ کا سرٹیفکٹ لازمی ہے۔ واضح رہے کہ اسٹریٹجک حوالے سے افغانستان کے اہم ضلعے اسپن بولدک پر طالبان کے قبضے کے بعد سرحد کی بندش کے نتیجے میں ہزاروں افراد دونوں اطراف پھنس گئے تھے اور دوطرفہ تجارت معطل ہوکر رہ گئی تھی۔
طالبان کا کہنا تھا کہ انہوں نے امریکی افواج کے انخلا کے دوران چمن اسپن بولدک سرحدی گزرگاہ پر قبضہ کر کے اہم ترین ہدف حاصل کیا ہے۔ چمن کے مقامی صحافی اختر گل فرام نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ پاکستانی حکام کی گزشتہ ہفتے طالبان کے ساتھ ہونے والی فلیگ میٹنگ میں دوطرفہ اور ٹرانزٹ ٹریڈ کی بحالی پر اتفاق ہوا تھا۔ سرحد پر موجود مال بردار ٹرکوں، کنٹینرز کی طویل قطاروں اور تاجروں کے نقصان کو دیکھتے ہوئے دونوں جانب سے تجارت کی بحالی کا فیصلہ کیا گیا۔
وہ کہتے ہیں کہ پاکستانی حکام کے لیے یہ فیصلہ مشکل تھا کیوں کہ طالبان کے قبضے کے بعد کسٹم کا باقاعدہ نظام نہیں چل رہا اور سوموار کو تجارت کی بحالی پر ہاتھ سے لکھی گئی رسیدوں پر انحصار کرنا پڑا۔ سرحدی گزرگاہ سے ہونے والی تجارت پر کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکس طالبان حاصل کر رہے ہیں اور پاکستانی تاجروں کو اس بات کی بھی تشویش ہے آیا ان کا سامان متعلقہ جگہ تک پہنچ رہا ہے جس کی تصدیق کا فوری نظام کسٹم ہاؤس بند ہونے کی وجہ سے موجود نہیں۔
یاد رہے کہ چمن اسپن بولدک سرحدی گزرگاہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان آمد و رفت اور تجارت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ افغان حکومتی اعداد وشمار کے مطابق اس راستے سے یومیہ 900 ٹرکوں کی آمد و رفت ہوتی ہے۔ اس سرحدی گزرگاہ پر قبضے کے بعد طالبان نے افغان قومی پرچم اتار کر ’اسلامی امارت افغانستان‘ کا پرچم لہرا دیا تھا۔ افغانستان میں طالبان کے زیر کنٹرول آنے والے علاقوں میں دن بہ دن تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور انہوں نے حالیہ ہفتوں میں ایران، تاجکستان، ترکمانستان اور پاکستان کے ساتھ اہم سرحدی گزرگاہوں پر قبضہ کیا ہے۔
طالبان کے مطابق وہ شورش زدہ وسطی ایشیائی ملک کے 85 فی صد علاقوں پر کنٹرول حاصل کر چکے ہیں تاہم کابل انتظامیہ جنگجوؤں کے ان دعووں کی تردید کرتی ہے۔ پاکستان کے سابق سفارت کار آصف درانی کہتے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے سرحدی گزرگاہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کھولی گئی ہوگی کیوں کہ دونوں طرف ہزاروں افراد پھنسے ہوئے تھے۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اگر سرحد پر لوگوں کو زیادہ عرصے تک روکا جاتا تو یہ انسانی مسئلہ بن جاتا لہذا یہ فیصلہ وقت کی ضرورت تھا۔ پاکستان کے اس اقدام کو دنیا کیسے دیکھتی ہے اس سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ موجودہ وقت میں کوئی انسانی المیہ جنم نہ لے۔