چینی جوہری اسلحے کے ذخائر میں اضافے پر امریکی تشویش
- جمعرات 29 / جولائی / 2021
- 4060
امریکی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چین کے مغربی حصے میں جوہری میزائلز کے 'سائلو فیلڈز' یا زیر زمین ٹھکانوں کا ایک جال بنا رہا ہے۔
امریکی سائنسدانوں کی ایک تنظیم فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹس نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ سنکیانگ صوبے کی سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس علاقے میں 110 سے زیادہ 'سائلوز' تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ امریکہ کے دفاعی حکام نے چین کے جوہری ہتھیاروں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران چین کے مغربی حصہ میں یہ دوسری 'سائلو فیلڈ' ہے جس کی تعمیر کے بارے میں خبر آئی ہے۔
امریکہ کے اخبار واشنگٹن پوسٹ نے گزشتہ ماہ خبر دی تھی کہ گانسو صوبے میں یومین کے صحرا میں جوہری میزائل داغنے کے 120 کے قریب زیر زمین ٹھکانے بنائے گئے ہیں۔
ایف اے ایس نے پیر کو اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یومین سے شمال مغرب میں تقریباً 380 کلو میٹر دور ہامی کے علاقے میں اس کی طرح تعمیرات ابتدائی مراحل میں ہیں۔ 2020 میں پینٹاگون نے کہا تھا کہ چین اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں اضافہ کر رہا ہے۔ یہ خبر ایک ایسے موقعے پر سامنے آئی ہے جب امریکہ اور روس تخفیفِ اسلحہ کے مذاکرات کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
تاہم چین تاحال کسی بین الاقوامی سطح پر مذاکرات کے کسی ایسے سلسلے کا حصہ نہیں بنا ہے۔ امریکہ کی سٹریٹجک کمانڈ جو امریکہ کے ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ کا حصہ ہے اور جو اس بات کا بھی ذمہ دار ہے کہ 'سٹریٹجک ڈیٹرنس' قائم رکھے، نے ایک ٹویٹ میں چین کی جوہری تیاریوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ کی دفاعی کمانڈ کا کہنا تھا کہ دو ماہ میں ایسا دوسری مرتبہ ہوا ہے کہ لوگوں کے علم میں یہ آیا ہو جو ہم ایک عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ دنیا کے لیے خطرہ بڑھ رہا ہے اور جس طرح اس کو خفیہ رکھا جا رہا ہے۔
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ چین کے پاس دو سو کے قریب جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ ہے اور وہ اس کو دگنا کرنا چاہتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے پاس کم از 3800 جوہری ہتھیار موجود ہیں۔