چین کا طالبان سے تمام دہشت گرد گروپس سے رابطے ختم کرنے کا مطالبہ

  • جمعرات 29 / جولائی / 2021
  • 4320

چین کے وزیر خارجہ وینگ ای نے  طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ تمام دہشت گردوں کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات ختم کریں۔ جن میں چین مخالف ترکستان اسلامی تحریک بھی شامل ہے۔ انہوں نے بدھ کت روز طالبان لیڈر ملا عبدالغنی برادر سے ملاقات کی تھی۔

دونوں جانب کے عہدے داروں نے بتایا ہے کہ ملا برادر نے نو ارکان پر مشتمل وفد کے ساتھ تیانجن میں چینی وزیر خارجہ سے ملاقات کی۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس ملاقات سے عالمی سطح پر طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے لیے چین کے نرم گوشے کی اہمیت کا اظہار ہوتا ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کے مطابق طالبان افغانستان میں اہم فوجی اور سیاسی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں اور ملک کے امن، مفاہمت اور تعمیر نو کے عمل میں ان کا کردار اہم ہو گا۔ یہ بات چیت ایسے ماحول  میں ہوئی ہے جب افغانستان سے امریکہ اور نیٹو کی افواج کا انخلا تقریباً مکمل ہونے والا ہے۔ فوج کی واپسی کا یہ عمل فروری 2020 میں طالبان کے ساتھ امریکہ کے تاریخ ساز سمجھوتے کی بنیاد پر عمل میں آیا۔

امریکہ کی سرپرستی میں باغیوں اور افغان حکومت کے درمیان ہونے والی امن بات چیت کی سست روی کا شکار ہے۔ جس کی وجہ سے یہ خدشات موجود ہیں کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد ملک میں بین الافغان تنازع بڑھ کر خانہ جنگی کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کا فوری انخلا دراصل افغانستان سے متعلق امریکی پالیسی کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ سیکیورٹی کے حوالے سے کسی قسم کا کوئی خلا باقی نہ رہے، ضروری تھا کہ غیر ملکی افواج کی واپسی ذمہ دارانہ طریقے سے ہوتی۔

امریکی زیر قیادت غیر ملکی افواج نے ملک سے باضابطہ انخلا کا آغاز کیا ہے، طالبان نے افغان سیکیورٹی فورسز کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے شروع کر دیے ہیں اور ملک کے ایک وسیع علاقے پر قبضہ جما لیا ہے۔ سیکیورٹی کی دگرگوں صورت حال کے نتیجے میں یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد گروہ اکٹھے ہو کر بین الاقوامی حملوں کی منصوبہ سازی کر سکتے ہیں۔

امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں طالبان نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ القاعدہ سمیت تمام دہشت گرد گروپوں کے ساتھ قطع تعلق کریں گے اور کسی طور پر امریکی قومی سیکیورٹی کے مفادات کے لیےخطرے کے باعث بننے والے دہشت گردوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ ناقدین اور اقوام متحدہ کی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ابھی تک دہشت گردوں کے ساتھ ان کے تعلقات منقطع نہیں ہوئے۔