پاکستان طالبان کی کارروائیوں کا ذمہ دار یا ان کا ترجمان نہیں : عمران خان

  • جمعرات 29 / جولائی / 2021
  • 5070

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے افغانستان میں افغان عوام  کی منتخب کردہ حکومت کو قبول کی اجائے گا۔ اور اس کے ساتھ بہترین تعلقات استوار ہوں گے۔ ہمارا کوئی پسندیدہ نہیں ہے اور نہ ہی نوے کی دہائی کی طرح اب افغانستان میں تزویراتی گہرائی جیسی کوئی پالیسی ہے۔

اسلام آباد میں پاک افغان یوتھ فورم کے تحت وزیراعظم کی افغان سے ملاقات اور سوال و جواب کا سیشن منعقد کیا گیا۔ ایک افغان صحافی کی جانب سے افغانستان، بھارت اور پاکستان پر مشتمل سہ فریقی مذاکرات سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 5 اگست کو بھارت نے یک طرفہ طور پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو مسترد کرتے ہوئے کشمیریوں سے ان کی ریاست کا حق چھین لیا۔ 1948 میں اقوامِ متحدہ کی قرارداد میں کشمیریوں کے استصوابِ رائے کا حق رکھا گیا تھا جو انہیں نہیں دیا گیا اس لیے کشمیر کے عوام نے اس حق کی جدوجہد کی جس کی پاکستان نے حمایت کی۔ تاہم 5 اگست 2019 کو بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے بعد پاکستان نے بھارت کے ساتھ تمام سفارتی تعلقات منقطع کردیے اور جب تک بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال نہیں کردیتی، ہم بھارت، افغانستان کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ میں افغانستان گیا ہوں، افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ میرے اچھے تعلقات ہیں اور ہمارے باہمی تعلقات بھی اچھے ہیں لیکن افغان رہنماؤں کے حالیہ بیانات میں افغانستان کی صورتحال کا الزام پاکستان لگایا گیا جو بڑی بدقسمتی کی بات ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ طالبان کو پہلے امریکا کے ساتھ اور پھر افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے مذاکرات کی میز پر لانے میں پاکستان سے زیادہ کسی ملک نے دباؤ نہیں ڈالا۔ ہم نے اپنی بھرپور کوشش کی اور کسی ملک نے اتنی محنت نہیں کی جتنی ہم نے کی۔ اس بات کی تصدیق امریکا کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے بھی کی۔

افغانستان میں کھیل کی سرگرمیوں کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ 3 سال کے دوران میرے پاس کھیلوں کے لیے وقت نہیں تھا کیوں کہ دیگر مسائل تھے لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ کرکٹ کی تاریخ میں جتنے کم وقت میں افغانستان میں بہتری آئی وہ کسی اور ملک کی ٹیم میں نہیں آئی۔ افغانستان جس مقام پر پہنچ چکا ہے وہاں تک پہنچنے کے لیے دیگر ممالک کو 70 برس لگے ہیں۔ افغانوں نے بنیادی طور پر مہاجر کیمپوں میں کرکٹ سیکھی جو قابل ستائش ہے۔

افغانستان کے بارے میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور سول حکومت میں کتنی ہم آہنگی پائی جاتی ہے کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں ایک احساس یہ پایا جاتا ہے کہ پاکستان کو ملٹری اسٹیبلشمنٹ کنٹرول کرتی ہے اور بدقسمتی سے اسے بھارت نے جان بوجھ کر پروان چڑھایا۔ میری حکومت کی خارجہ پالیسی گزشتہ 25 برسوں سے میری پارٹی کے منشور کا حصہ ہے اور میرا ہمیشہ یہ مؤقف رہا ہے کہ افغانستان کا کوئی عسکری حل نہیں ہے۔ ہم نے ہمیشہ کہا کہ بالآخر افغانستان کا مسئلہ سیاسی تصفیے کے ذریعے حل ہوگا۔ میری حکومت کا 3 سال سے یہی مؤقف ہے جو میں 15 برسوں سے کہہ رہا ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کو پاک فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے اور میں نے ہمیشہ بھارت کے ساتھ امن چاہا ہے۔ فوج نے بھارت کے ساتھ امن سے متعلق میرے تمام اقدامات کی حمایت کی ہے، یہ بھارت ہے جو امن نہیں چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ کیوں کہ بھارت کو اس وقت آر ایس ایس نظریات کی حامی جماعت کنٹرول کررہی ہے جو پاکستان اور مسلمان مخالف ہے۔ اس کا مظاہرہ آپ نے کشمیر اور بھارت کے دیگر علاقوں میں دیکھا ہے کہ بھارت مسلمانوں کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کررہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہی چیزیں بھارت کے ساتھ امن میں رکاوٹ ہیں لیکن پاک فوج نے میرے ہر اقدام کی حمایت کی ہے اور ہمارے بیچ کوئی اختلاف نہیں ہے۔ دنیا کے تمام ممالک سے بڑھ کر پاکستان، افغانستان میں امن چاہتا ہے کیوں کہ وہاں امن کی صورت میں پاکستان کا وسطی ایشیائی ممالک سے رابطہ ہوگا۔ ہم نے ازبکستان کے ساتھ مزار شریف پشاور ریلوے لائن کے لیے پہلے ہی سمجھوتہ کیا ہوا ہے اس لیے ہمارے مستقبل کی تمام اقتصادی حکمت عملی کا انحصار افغانستان میں امن سے منسلک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام افغان عوام کو پڑوسیوں کے بجائے بھائی سمجھتے ہیں جنہوں نے 40 سال مشکلات برداشت کی ہیں، اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان کو امن کی اشد ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اگر افغان حکومت اور طالبان کے درمیان خانہ جنگی جاری رہتی ہے تو اس کے اثرات پاکستان کے قبائلی اضلاع پر پڑیں گے اور جب ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لیا اس کے نتیجے میں جنگ کے اثرات ہمارے قبائلی اضلاع پر آئے اور 70 ہزار پاکستانیوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔

ہمیں خدشہ ہے وہ یہ کہ اگر یہ خانہ جنگی طویل المدتی ہوئی تو پاکستان میں منتقل ہوگی، پاکستان میں پہلے ہی 30 لاکھ افغان مہاجرین مقیم ہیں اور شورش کے نتیجے میں مزید آئیں گے اور پاکستان کی اقتصادی صورتحال مزید افغان مہاجرین برداشت نہیں کرسکتی۔ اس لیے افغانستان کے سیاسی حل کے لیے پاکستان اپنی ہر ممکن کوشش کررہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان میں طالبان جو کچھ کررہے ہیں اس کا ہم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔آپ کو طالبان سے اس بارے میں بات کرنی چاہیے کہ وہ کیا کررہے ہیں۔ ہم اس کے ذمہ دار نہیں ہیں اور نہ ہی ہم طالبان کے ترجمان ہیں۔ لیکن 2 راستے ہیں 20 سال تک افغانستان میں امن کے لیے عسکری حل کی کوشش کی جاتی رہی جو ناکام ہوگئی۔ دوسرا ایک جامع حکومت بنائی جائے۔ ہم صرف افغانستان میں امن چاہتے ہیں، پاکستان میں 30 لاکھ افغان مہاجرین مقیم ہیں اور تقریباً تمام پشتون ہیں جن میں سے اکثریت طالبان کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ روزانہ تقریباً 25 سے 30 ہزار افغان مہاجرین افغانستان آتے جاتے ہیں تو پاکستان کس طرح یہ چیک کرسکتا ہے وہاں کون لڑنے کے لیے جارہا ہے لیکن پاکستان مستقل یہ کہہ رہا ہے کہ اگر تمام افغان مہاجرین اپنے ملک واپس چلے جائیں پھر ہمیں ذمہ دار ٹھہرا سکتے ہیں۔ لیکن جب 30 لاکھ موجود ہوں اور چند سو افغانستان لڑنے کے لیے جائیں اور ان کی لاشیں واپس پاکستان آئیں تو ہمیں کیسے ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 5 لاکھ افراد کے مہاجر کیمپ موجود ہیں تو ہم کیسے ان مہاجر کیمپوں میں جاکر فیصلہ کریں کہ کون طالبان کا حامی ہے کون نہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد برائے نام تھی اس لیے پاکستان سے جانے اور آنے والوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ہم نے بھاری لاگت سے سرحد پر باڑ لگائی۔ ہم سرحد پر نقل و حرکت کنٹرول کرنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں خانہ جنگی میں پاکستان کا کیا مفاد ہوسکتا ہے؟ ان دنوں میں پاکستان کی کوشش تھی کہ افغانستان میں اپنے حامی رکھے لیکن اب میری حکومت کا اس بات پر یقین ہے کہ افغانستان کو باہر سے کنٹرول نہیں کیا جاسکتا، افغانستان کی ایک تاریخ ہے۔ افغان ہمیشہ آزاد رہے ہیں۔ ہماری حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ افغان عوام جسے منتخب کریں گے ہمارے اس کے ساتھ بہترین تعلقات ہوں گے۔ ہمارا کوئی پسندیدہ نہیں ہے اور نہ ہی نوے کی دہائی کی طرح اب افغانستان میں تزویراتی گہرائی کی کوئی پالیسی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ افغان صدر اشرف غنی چاہتے تھے کہ ہم سرحد پار نقل و حرکت روکنے کی کوشش کریں۔ ہم نے انہیں بتایا کہ ہم مشترکہ معائنہ کریں گے، آپ ہمیں بتائیں کہ لوگ کہاں سے سرحد عبور کررہے ہیں ہم ان کے خلاف کارروائی کریں گے، ہم نے انہیں اس کی یقین دہانی کروائی ہے۔ اگر آدھے افغانستان پر طالبان کا قبضہ ہے تو وہ پاکستان آ کر کیا کریں گے۔

انہوں نے پاکستان میں طالبان کے خاندانوں کی بات کی تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان ان کے اہلِ خانہ کو جیل میں ڈال دے، پاکستان کیا کرسکتا ہے؟ اور اگر کچھ طالبان رہنماؤں کے خاندان یہاں موجود بھی ہیں تو ہم ان پر صرف یہی اثر رسوخ استعمال کرسکتے تھے کہ جس کی وجہ سے انہوں نے امریکیوں سے مذاکرات کیے اور اگر ہم انہیں جیل میں ڈال دیتے تو یہ اثر و رسوخ ختم ہوجاتا۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ افغان حکومت چاہتی ہے کہ ہم ان کے خلاف عسکری کارروائی کریں، ہم سب کچھ کریں گے لیکن عسکری طاقت استعمال نہیں کریں گے۔

 پہلے ہم کسی اور کی جنگ لڑتے رہے اور 70 ہزار پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس لیے پاکستان میں اتفاق رائے ہےکہ عسکری کارروائی نہیں ہوگی اس کے علاوہ ہم اپنی بھرپور کوشش کریں گے جتنا بھی ہوسکے گا طالبان پر دباؤ ڈالیں گے کیوں کہ امن ہمارے مفاد میں ہے۔

افغان سفیر کی بیٹی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ان کی استعمال کی گئی ٹیکسیوں کی تفصیلات موجود ہیں اور ہم نے لوگوں سے تفتیش کی لیکن ان کے بیان اور کیمروں کی فوٹیج بالکل مختلف ہیں۔ بدقسمتی سے ہمیں سوالوں کے جواب نہیں ملے اور وہ واپس چلے گئے ہیں اس لیے ہم ان سے تصدیق نہیں کرسکتے اور ہم افغانستان سے آنے والی ٹیم کو تمام تر معلومات فراہم کریں گے۔

کوئٹہ اور پشاور میں طالبان کی موجودگی کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ افغان حکومت سے کہتے رہے ہیں کہ ہمیں بتایا جائے کہ یہ کوئٹہ شوریٰ یا پشاور شوریٰ کہاں ہیں؟ لیکن اگر یہ مہاجرین کیمپوں میں موجود ہیں تو وہاں لاکھوں افراد ہیں اس لیے ہمارے لیے آسان نہیں کہ بتائیں کہ کون آرہا ہے کون جارہا ہے۔