کمشنر صاحب بہادر کا کتا
- تحریر رضی الدین رضی
- جمعہ 30 / جولائی / 2021
- 8400
کمشنر گوجرانوالا کے کتے نے جس طرح شہرت حاصل کی سچ پوچھیں تو ہم اس سے بہت متاثر ہوئے ہیں ۔ یہ پہلا کتا ہے جس نے کمشنر صاحب بہادر سے زیادہ شہرت حاصل کی ہے۔ ورنہ تو اس سے پہلے شہرت صرف کمشنروں کا مقدر ہوتی تھی ۔
اس کتے کا سوشل میڈیا پر جس طرح ذکر ہوا اس نے تو اس کتے کو بالکل ہی کتا بنا دیا ۔ ہم نے جب فیس بک پر لکھا کہ کتا اگر کمشنر کا ہو تو پھر وہ کتا نہیں ہوتا تو ہمارے دوست اور معروف صحافی ضیغم خان نے گرہ لگائی کہ ” کمشنر کا کتا تو کتوں کا کمشنر ہوتا ہے“۔ کمشنر صاحب کے عملے نے جس طرح اس کتے کو ایک دو روز میں ڈھونڈ نکالا اور جس طرح بعد ازاں اس کتے کے ساتھ گروپ فوٹو بنوائے اس نے ہمیں اور بھی متاثر کیا ۔ ہماری بیورو کریسی عوام کے ساتھ سلوک تو خیر ویسا ہی کرتی ہے لیکن کاش کہ کبھی لوگوں کو اہمیت بھی ویسی ہی مل جائے جیسی اس کتے کو ملی ۔ لیکن یہ ممکن اس لیے نہیں کہ اس کے لیے اس کتے کی طرح کمشنر ہاؤس کا مکین ہونا ضروری ہے ۔
اس موضوع کو یہیں ختم کرتے ہیں اور اب عمومی کتوں کی با ت کرتے ہیں ۔ کہ ہمیں بھی اپنی پنڈلی عزیز ہے ۔ انسانوں کی طرح بعض کتے بھی ایسے ہوتے ہیں کہ جنہیں دنیا جہان کی کوئی مصروفیت نہیں ہوتی۔ فارغ قسم کے کتے۔ جیسے منہ میں سونے کی ہڈی لے کرپیدا ہوئے ہوں۔ جس طرح بعض لوگوں کودن بھر چارپائیاں یا کرسیاں توڑنے اور غیبت کرنے کے سوا کوئی اورکام نہیں ہوتا بالکل اسی طرح ان کتوں کوبھی دن بھر دم سے زمین صاف کرنے، سڑکیں اور گلیاں ماپنے اور گاہے گاہے بھونکنے کے سوا کوئی اورمصروفیت نہیں ہوتی۔ کوئی توجہ دے یا نہ دے وہ وقت بے وقت ”وف“ کرنے سے بازنہیں آتے۔ کبھی محلے کے ایک کونے میں دم ہلاتے نظرآئیں گے تو کبھی دوسرے کونے میں۔
فارغ لوگوں کا یہ کام ہوتاہے کہ وہ دن بھر مختلف محفلوں اوررات کو ہوٹلوں یا تھڑوں پر بیٹھےگپ لگاتے ہیں مگر یہ جو فارغ قسم کے کتے ہوتے ہیں ان کاالمیہ یہ ہوتا ہے کہ انہیں محفلوں یا چائے خانوں میں تو کوئی گھسنے نہیں دیتا سو یہ ہوٹلوں اور چائے خانوں کے باہر منڈلاتے ہیں۔ کوئی ساتھی کتا اگر کہیں سے ہڈی چھین لائے تواس کی جانب لپکتے ہیں۔ ہڈی حاصل کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ اگرکامیابی ہوجائے تو ٹھیک ورنہ شرمندہ ہونے کی بجائے بڑے اطمینان کے ساتھ دم ہلاتے ہوئے کسی اور ہڈی بردار کے انتظار میں ٹہلنے لگتے ہیں۔
ایک زمانہ تھا کہ میونسپل کارپوریشن والوں کا ایک کتا مار سکواڈ ہواکرتاتھا۔ ہم بچپن میں دیکھتے تھے کہ ایک اہلکار بندوق گلے میں ڈال کر سائیکل پر گھومتا تھا۔جہاں کوئی آوارہ کتا نظرآتا اسے ٹھاہ کردیتا۔ سو گلی محلوں میں پہلے ایک زوردار دھماکے اور پھرجانکنی کے عالم میں تڑپنے والے کسی کتے کی آواز سنائی دیتی تھی۔ اب دھماکے کی آواز صرف کسی بارات کی آمد پر سنائی دیتی ہے۔ مگر اس کے بعد تڑپنے کی آواز سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ اس زمانے میں آوارہ کتے کی پہچان یہ ہوتی تھی کہ اس کے گلے میں پٹہ نہیں ہوتا تھا اور بغیر پٹے والے کتے کو قابل دست اندازی کارپوریشن سمجھا جاتا تھا۔ اب ایسا نہیں ہوتا ۔ آوار ہ اور پالتو کتوں کی پہچان ختم ہوگئی اور کارپوریشن نے کتے مار مہم ہی ترک کردی۔ نتیجہ یہ نکلاکہ ہر طرف فارغ قسم کے کتے بکثرت دکھائی دینے لگے ہیں۔
یوں توکتوں کی بہت سی قسمیں اور نسلیں ہیں مگر ایک قسم ایسی بھی ہے جو بے ضرر اور زمانے کی ستائی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ یہ آپ کو کہتی تو کچھ نہیں مگر زچ ضرور کرتی ہے۔ آپ نے بارہا دیکھا ہوگا کہ آپ خراماں خراماں اپنے گھر کی جانب جارہے ہیں اور اچانک آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ ایک کتا بھی آپ کے پیچھے چلا آرہاہے۔آپ گلی مڑتے ہیں کتا بھی آپ کے ساتھ گلی میں مڑ جاتا ہے۔ آپ تھوڑا سا چوکس ہوتے ہیں، کتا بھی ذرا سا چوکس ہوجاتا ہے۔ آپ تھوڑا تیز چلتے ہیں۔ اپنے اورکتے کے درمیان فاصلہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کتابھی رفتار تیز کردیتاہے۔ اس دوران کتا آپ کے حواس پر طاری ہوجاتا ہے دوسری جانب کتا بھی اس قسم کی ذہنی کیفیت سے دوچارہوتا ہے۔ آپ کو کچھ سمجھ نہیں آتا کہ اس کتے سے کیسے جان چھڑائیں۔
شدید سردی میں بھی آپ کے اور کتے کے ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہوجاتے ہیں۔آپ کچھ دیر کےلئے رک جاتے ہیں کہ کسی طرح کتا آگے نکل جائے ۔کتابھی رک جاتا ہے۔ آپ ٹینشن دور کرنے کےلئے سگریٹ سلگاتے ہیں۔دھوئیں کے مرغولے فضا میں چھوڑتے ہیں۔سردی میں کتے کے منہ سے بھی بھاپ نکل رہی ہوتی ہے۔ سگریٹ ختم کرکے آپ دوبارہ تیز تیز گھر کی جانب رو انہ ہوتے ہیں۔ تیزی سے دوتین گلیاں تبدیل کرتے ہیں۔کچھ دیر بعد آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ کتے کو جل دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ آپ کو کافی دیر تک کتے کی چاپ سنائی نہیں دیتی۔ آپ فاتحانہ انداز میں آگے بڑھتے رہتے ہیں۔5یا10منٹ گزرجاتے ہیں ” کتے نے جان چھوڑی ہے یانہیں“ یہ اطمینان کرنے کے لئے آپ مڑ کر دیکھتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ کتا بھی مڑ کر آپ کودیکھ رہاہے۔
ساری خوش فہمی غارت ہوجاتی ہے ۔فتح کانشہ کافور ہوجاتا ہے۔ ایک کتا آپ کوشکست دینے پر تلا ہوا نظرآتا ہے ۔آپ جھنجھلاہٹ میں کتے کوپتھر مارنے کےلئے لپکتے ہیں۔ پھرآپ کو 14ٹیکے اور اپنے چھوٹے چھوٹے بچے یاد آجاتے ہیں۔اسی دوران گھر کادروازہ سامنے آجاتا ہے۔ آپ تیزی سے دروازہ کھولتے ہیں اور ”کتا نہ ہوتو“، کہہ کر گھر میں داخل ہوجاتے ہیں۔آپ بھی سکھ کاسانس لیتے ہیں اور کتابھی۔
آپ تو پسینہ پونچھ کر بستر میں جا دبکتے ہیں اور وہ کتا۔وہ کتا بے چارہ ”اب کسے رہنماکرے کوئی“ کہتا ہوا کسی اور راہگیر کی تلاش میں نکل جاتا ہے۔ جیسے کمشنر صاحب کا کتا نکل گیا تھا۔
(بشکریہ: گرد و پیش ملتان)