شہباز شریف کی سیاسی پریشانی
- تحریر سلمان عابد
- جمعہ 30 / جولائی / 2021
- 5630
مسلم لیگ ن میں دو سیاسی بیانیہ کی لڑائی اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ نواز شریف اور مریم نواز نے سیاسی بیانیہ کی بنیاد پر سول بالادستی کی جنگ میں اداروں سے ٹکراؤ کی جو پالیسی اختیار کی ہوئی ہے اس پر پارٹی کے ایک بڑے طبقہ میں کافی تشویش پائی جاتی ہے۔
اس طبقہ کی قیادت عملی طور پر شہباز شریف کے ہاتھ میں ہے۔ وہ مزاحمت یا اداروں سے ٹکراؤ کے مقابلے میں مفاہمت او راداروں کے ساتھ باہمی معاونت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔شہباز شریف کی یہ ڈھکی چھپی پالیسی نہیں بلکہ اس کا وہ برملا اظہار کرتے ہیں او ران کے بقول ٹکراؤ کی پالیسی پارٹی کے مفاد میں نہیں۔لیکن نواز شریف اور مریم نواز سمجھتی ہیں کہ اب مزاحمت کی سیاست کو ہی طاقت دے کر اپنی ہی شرائط پر اسٹیبلیشمنٹ سے معاملات طے کرسکتے ہیں۔
حالیہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں بھی ہم نے مسلم لیگ ن کے بیانیہ کی سیاسی جنگ کا ٹکراؤ دیکھا ہے۔ شہباز شریف عملی طور پر اس پوری انتخابی مہم سے علیحدہ رہے۔ انتخابی مہم براہ راست مریم نواز نے چلائی۔ کیونکہ مریم نواز، شہباز شریف کو پارلیمانی سیاست تک محدود رکھنا چاہتی ہیں جبکہ خود پارٹی کی سیاسی میدان میں قیادت کرنا چاہتی ہیں اور سیاسی فیصلوں میں اپنی برتری بھی قائم رکھنا چاہتی ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پارٹی کے سربراہ شہباز شریف نہ صرف گومگو کی کیفیت میں ہیں بلکہ وہ مریم نواز کی سیاست سے عملی طور پر سیاسی فاصلہ رکھے ہوئے ہیں، یہ سیاسی فاصلہ نمایاں طور پر دیکھا بھی جاسکتا ہے۔
آزاد کشمیر کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کی شکست نے مسلم لیگ ن کی قیادت میں پہلے سے موجود پریشانی میں اور زیادہ اضافہ کردیا ہے۔ کیونکہ یہ تو یقینی بات تھی کہ وہاں حکومت تحریک انصاف کی ہی بنے گی مگر یہ مسلم لیگ ن کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکہ ہے کہ وہ ان انتخابات میں دوسری پوزیشن کی بجائے تیسری پوزیشن پر کھڑا کری ہے۔پیپلز پارٹی کا گیارہ نشستوں پر کامیابی حاصل کرنا ظاہر کرتا ہے کہ مسلم لیگ ن کے بیانیہ او راسٹیبلیشمنٹ سے ٹکراؤکی پالیسی کا بڑا فائدہ پیپلزپارٹی کو ہورہا ہے اور وہ خود کو متبادل کے طور پر پیش کررہی ہے۔ اس انتخابی شکست کے بعد مسلم لیگ ن میں موجود مفاہمت سے جڑے گروپ کا شہباز شریف پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ آگے بڑھ کر سیاسی معاملات کو خود سنبھالیں۔کیونکہ مریم نواز کی سیاسی مقبولیت اور بڑے بڑے جلسوں کی سیاست سے ان کو ووٹ کی سیاست میں مدد نہیں مل رہی اور ٹکراؤ کی اس پالیسی کی وجہ سے پارٹی میں بالخصوص انتخابی سیاست سے جڑے افراد زیادہ پریشان نظر آتے ہیں۔ کیونکہ ان کو لگتا ہے کہ اگر پارٹی اس داخلی بیانیہ کے بحران سے باہر نہیں نکلتی او راسی تضاد میں آگے بڑھتی ہے تو اس کی بھاری قیمت ہمیں 2023کے عام انتخابات میں بھی دینی پڑے گی۔اب سیالکوٹ میں پی پی 38میں مسلم لیگ ن کی شکست نے پارٹی کو بڑا دھچکہ دیا ہے او راس سے پارٹی کا مورال کافی حد تک گرگیا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ پارٹی میں گہرائی کے ساتھ سوچ وبچار شروع ہوگئی ہے کہ کیاوجہ ہے کہ پارٹی اوپر جانے کی جائے نیچے کی طرف جارہی ہے اور اس کی کیا وجوہات ہیں اور کیااس بحران سے نمٹنے کے لیے مستقبل کی کیاحکمت عملی ہونی چاہیے۔
مریم نواز کی پالیسی اور ٹکراؤکی سیاست سے شہباز شریف خاصے نالاں ہیں او راس کا اظہار وہ مختلف نجی محفلوں میں پارٹی او رمیڈیاکے مختلف لوگوں سے کررہے ہیں۔ شہباز شریف کا مسئلہ یہ ہے کہ مریم ان کی بجائے نواز شریف کی طرف دیکھتی ہیں او رپارٹی کے صدر ہونے کے ناطے ان کی پالیسی کو کوئی اہمیت نہیں دیتی۔شہباز شریف اس بات کا گلہ نواز شریف سے کرچکے ہیں کہ ٹکراؤ کی پالیسی خاندان او رجماعت کے مفاد میں نہیں۔نواز شریف کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ شہباز شریف کے مقابلے میں مریم نواز کو سیاسی متبادل کے طور پر دیکھتے ہیں او ریہ ہی تضاد اس وقت نواز شریف اور شہباز شریف کی سیاست میں غالب نظر آتا ہے۔ شہباز شریف چاہتے ہیں کہ نواز شریف خود سے ان کے حق میں فیصلہ کریں کہ وہی پارٹی معاملات کو آگے بڑھائیں گے او رمریم نواز کو ان کی پالیسی کے تحت ہی چلنا ہوگا۔ لیکن بظاہر لگتا ہے کہ نواز شریف اس کے لیے فی الحال تیار نہیں۔
شہباز شریف کو اس بات کابھی گلہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں نواز شریف کی افغان سیکورٹی ایڈوائزر اور وفد سے ملاقات کیوں کی او راس ملاقات کی وجہ سے شہباز شریف کی مفاہمت کی سیاست کو نقصان پہنچا ہے۔ کیونکہ ایک ایسے موقع پر جب افغان حکومت بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے کھیل کا حصہ بنی ہوئی ہے او رپاکستان پر سنگین الزامات کی بوچھاڑ ہے تو ایسے میں پارٹی سربراہ نواز شریف کو بھی اس ملاقات سے گریز کرنا چاہیے تھا۔ کیونکہ وہ جب بھی مفاہمت کی سیاست کو آگے بڑھاتے ہیں تو اس میں نواز شریف یا مریم نواز کا سیاسی ایجنڈا غالب آجاتا ہے جو ان کو سیاسی طور پر کمزور کرتا ہے۔شہباز شریف سمجھتے ہیں کہ مریم نواز کے گرد جو ایک سیاسی گروہ ہے وہ خود ٹکراؤ کی سیاست کا حامی ہے اور یہ لوگ پارٹی کے مفاد سے زیادہ اپنے کسی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ شہباز شریف کے پاس کیا سیاسی آپشن ہیں۔ کیونکہ آب تک کی سیاست کا جائزہ لیں تو سمجھ میں یہ ہی آتا ہے کہ شہباز شریف اسٹیبلیشمنٹ سمیت پارٹی کے اندر بھی بغیر کسی ٹکراؤ کے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔لیکن پارٹی کے معاملات او ربیانیہ کی اس جنگ میں ٹکراؤ پہلے بھی موجود تھا اور اب یہ بڑھ گیا ہے۔مسلم لیگ ن کو یہ کریڈیٹ دینا ہوگا کہ وہ ان تین برسوں میں بطور پارٹی متحد رہی ہے اور ان میں بڑی تقسیم پیدا نہیں ہوسکی۔ لیکن بے یقینی کی یہ صورتحال برقرار رہتی ہے تو پھر پارٹی کے اندر نہ صرف تقسیم یقینی ہوگی بلکہ پارٹی کمزور بھی ہوگی۔شہباز شریف کو عام انتخابات سے قبل پارٹی کو اس بحران سے نکالنا ہے لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا کہ وہ خود سے آگے بڑھ کر اپنی قیادت کی عملی شکل پیش کریں۔ سیاست میں جب تک قیادت دو ٹوک موقف کے ساتھ سامنے نہیں آتی اور اپنے موقف پر بڑا سٹینڈ نہیں لیتی تو وہ خود بھی سیاسی مواقع کو ضائع کردیتی ہے۔یہ تاثر بھی بڑھ رہا ہے کہ نواز شریف بھارت، افغان، امریکی لابی سمیت ان قوتوں کے زیادہ قریب ہیں جو پاکستان مخالف ایجنڈے پر کھڑے ہیں۔
شہباز شریف کوچاہیے کہ وہ پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سمیت جنرل کونسل اور پارلیمانی پارٹی کے اجلاس طلب کریں اور موجودہ صورتحال میں پارٹی کی داخلی پالیسی او رحکمت عملی پر غوروفکر کرکے کچھ نیا تلاش کریں۔ کیونکہ اگر واقعی شہباز شریف مفاہمت کی سیاست کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں تو ان کے پاس بھی وقت بہت کم ہے۔ وہ پہلے ہی اپناکافی وقت ضائع کرچکے ہیں اور اب سیاسی ماحول میں 2023کا سیاسی ایجنڈا اور ماحول غالب ہورہا ہے تو ایسے میں مسلم لیگ ن کو داخلی کشمکش اور تناؤ سے باہر نکلنا ہوگا۔ شہباز شریف اس کام میں اپنی پارٹی کے سرکردہ افراد اور ارکان قومی،صوبائی اور سینٹ میں موجود ارکان کی مدد سے نواز شریف پر دباؤ بڑھاسکتے ہیں کہ وہ معاملات کا کنٹرول شہباز شریف کودیں۔اگر شہباز شریف ایسا نہیں کرتے تو وہ خود بھی سیاسی طور پر تنہا ہوں گے۔ پہلے ہی ان کے پارے میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ وہ بڑا فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور نہ ہی وہ نواز شریف کو چیلنج کرسکتے ہیں۔
البتہ شہباز شریف کی ایک سیاسی برتری یہ ہی ہے کہ پارٹی پر ان کا کنٹرول مریم نواز سے زیادہ ہے او رپارٹی کے لوگ جو طاقت ہیں ہیں وہ شہباز شریف کے حامی ہیں کیونکہ یہ ہی سمجھتے ہیں کہ شہباز شریف کی مفاہمت کی سیاست ہی ان کے لیے اقتدار کی سیاست میں موجودمشکلات کو کم کرکے اقتدار کی سیاست کی راہ ہموار کرسکتے ہیں۔