پاکستان، افغانستان میں تشدد کم کرنے میں مدد کرے گا: امریکا

  • ہفتہ 31 / جولائی / 2021
  • 4570

امریکی انتظامیہ نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان پڑوسی ملک افغانستان میں تشدد کم کرنے میں مثبت کردار ادا کرے گا کیونکہ افغانستان میں خانہ جنگی پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے امور  جنوبی ایشیا کے ترجمان زیڈ تارڑ نے صحافیوں کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ کووڈ کے خلاف جنگ میں امریکا نے پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے لیے کووڈ 19 وبائی مرض سے نمٹنا ایک بڑی ترجیح ہے اور انتظامیہ وبا کو عالمی سطح پر شکست دینے کے لیے انتھک محنت کر رہی ہے۔

زیڈ تارڑ کا کہنا تھا کہ امریکا نے پاکستان کو پہلے مرحلے میں 22 لاکھ اور اس کے بعد رواں ہفتے موڈرنا ویکسین کی 30 لاکھ خوراکیں فراہم کی ہیں۔ پاکستان کو کووڈ 19 سے نمٹنے کے لیے 6 کروڑ ڈالر کی امداد بھی دی گئی ہے۔  ترجمان نے کہا کہ ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر وبائی مرض پر قابو پاسکتے ہیں۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے وزیر اعظم عمران خان سے ٹیلی فونک رابطہ کیوں نہیں کیا؟ تو زیڈ تارڑ نے بتایا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے، میں اس طرح کا پیغام نہیں دوں گا، اگر آپ ہمارے مجموعی تعلقات کو دیکھتے ہیں تو ہمارے مسلسل رابطے ہیں۔

سینئر پاکستانی حکام اپنے امریکی ہم منصبوں سے بات کر رہے ہیں اور ہم اس کا اعلان شفاف انداز میں کر رہے ہیں۔ اگر ہم دعوت ناموں اور فون کالز پر تبصرے شروع کردیں تو احمقانہ حرکت ہوگی اور یوں بڑی تصویر دیکھنے سے محروم رہیں گے۔  انہوں نے مزید کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ ایک دفتر یا ایک انتظامیہ کے ذریعے تعلقات نہیں دیکھتے بلکہ وہ دوطرفہ احترام پر مبنی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فون کال کیوں نہیں ہوئی اس کی لاجسٹکس نہیں جانتا لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ امریکا اور پاکستان کے تعلقات بہت پرانے ہیں۔ اگر آپ ہمارے اقدامات دیکھتے ہیں مثال کے طور پر اسلام آباد کو 30 لاکھ ویکسین کی فراہمی، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے تعلقات مضبوط ہیں۔

زیڈ تارڑ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اور امریکا کے مشترکہ مفادات ہیں جس میں کوئی دوری نہیں ہے۔ اس بنیاد پر ہم پاکستانی حکومت کے عہدیداران سے ہر سطح پر بات کرتے رہتے ہیں۔ افغانستان میں امریکی کردار کے بارے میں ایک سوال پر امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان کا مستقبل افغان لوگوں کے ہاتھ میں ہو، ہم افغانستان کو نہیں چھوڑ رہے۔ ہم بہتر مستقبل کی جانب کام کریں گے لیکن یہ فوجی حل نہیں ہے، افغانستان کے لیے ہماری سفارتی امداد جاری رہے گی۔

زیڈ تارڑ نے کہا کہ جو بائیڈن اور سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن دونوں تسلیم کرتے ہیں کہ افغانستان میں خانہ جنگی خطے میں کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ انٹونی بلنکن کے حالیہ دورہ نئی دہلی اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بحث میں کمی سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مسائل پر کوئی خاموشی نہیں ہے۔ اتحادیوں سے متعلق مسائل ہوتے ہیں تو معاملات زیر بحث آتے ہیں لیکن ہر چیز کی تشہیر نہیں کی جاتی تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی چیز کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ ’جنوبی ایشیا میں علاقائی تنازعات کا ایک ہی حل ہے اور وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت ہے‘۔