میاں صاحب! اپنے بیانیے میں لچک پیدا کیجئے
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 31 / جولائی / 2021
- 7140
پاکستان کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے عوام ہی نہیں خواص بھی خاصے بددل اور پریشان ہیں، سوائے طاقتوروں کے یا ان کی کٹھ پتلیوں کے۔
اگر ہم انسانی تاریخ پر عمیق نظر ڈالیں تو لازم نہیں ہے کہ شعور کی آواز ہمیشہ سربلند ہوئی ہو۔ کئی مواقع پر اسے پیہم دھیمی رہنا پڑا ہے۔ بیشتر مواقع پر مفاداتی طاقتوں نے خردمندوں کو زہر پلایا یا صلیبوں پر چڑھایا اور اپنی برتری کا لوہا منوایا ہے:
ہوئی نہ عام جہاں میں کبھی حکومتِ عشق
سبب یہ ہے کہ محبت زمانہ ساز نہیں
اس تلخ نوائی کی غایت یہ نہیں کہ مایوس ہو کر خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں چاہے وہ کھائی میں لے جا پھینکیں۔ عرض مدعا یہ ہے کہ حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے آئیڈیل ازم سے تھوڑا نیچے آ کر بھلے زمانہ سازی نہ کریں مگر اصل حقائق کی مطابقت میں اپنی پلاننگ پر نظرثانی ضرور فرما لیں۔ آج ہی ایک محترم دوست سے بات ہو رہی تھی کہ ہر باذوق انسان باغیچے میں قیام چاہتا ہے لیکن اگر دلدل، کھائی یا گٹر میں گرنے کا اندیشہ ہو تو باامر مجبوری کچرے پر بھی قیام کیا جاسکتا ہے۔ ملے نہ پھول تو کانٹوں سے دوستی کرلی۔
ہمارے کئی عظیم المرتبت صوفیا نے وقت یا زمانے کو خدائی مرتبے تک گردانا ہے جس کےبدلنے سے تمام تر فقہائے عظام کے نزدیک احکام شریعہ تک بدل جاتے ہیں ۔ جو اس رمز کو سمجھ جائے اس پر آیات الہیہ کے نسخ کا مدعا بھی واضح ہو جائے گا، “یہ ہم ہیں جو اپنی آیات کی تنسیخ کر دیتے ہیں یا ان سے بہتر لے آتے ہیں”۔ امام جلال الدین سیوطی تو محض دو دہائیوں کی محدود مدت میں اس منسوخی کو ڈھائی سو تک لے گئے ہیں۔
ایک ذہین سیاستدان کی قابلیت بدلتے حالات و واقعات کے تیور کا ادراک ہی نہیں ان کی مطابقت میں پالیسیوں کی تشکیل نو ہے۔ ایک قدیمی عرب سیاستدان نے کہاتھا کہ میں حالات کی مطابقت میں اپنا مقام بدل لیتا ہوں کوئی میری منشا کے بالمقابل زیادہ قریب آئے تو دوری اختیار کرتا ہوں، دوری دکھائے تو قریب ہو جاتا ہوں۔ عصر جدید کے عرب سیاستدان نے کہا اپنے جیسے کا مقابلہ تو کرسکتا ہوں لیکن سپرپاور سے جنگ نہیں لڑ سکتا۔ ہمارے قومی شاعر اگر ممولے کو شہباز سے لڑانے کی ترغیب دلاتے ہوئے یہ فرماتے ہیں کہ مومن ہےتو بے تیغ بھی لڑتا ہےسپاہی، تو شاعر کی تخیل پرواز اور سیاستدان کے زمینی ادراک میں موجود تفاوت کو سمجھنا چاہئے ۔جنہوں نے نہیں سمجھا وہ اپنے تئیں جتنےبھی تیس مار خان تھے قصۂ ماضی بن گئے۔
جو وقت کے ساتھ چلا وہ مرد ہے ، جو پیچھے رہ گیا وہ راستے کی گرد ہے۔
درویش معافی کا خواستگار ہے یہاں اولوالعزم ہستیوں کے عزم و استقلال کی نفی مقصود نہیں۔ ان کی عظمتوں کو ہزاروں سلام جنہوں نے جابروں کا وزیر مشیر بننے کی بجائے پابند سلاسل ہونا اور وہیں مرنا قبول کرلیا۔ اس کے بالمقابل اہل خرد کی ایک اور جہت یا منزل بھی ہے، امام ابو یوسفؒ، کیا خوب استدلال ہے، اگر میں نے اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے کی بجائے اس سے کنارہ کشی اختیار کی تو نااہلیت اس سلطنت پر چھا جائے گی۔ نااہل لوگوں کے ان معزز مناصب پر فائز ہونے سے ان عہدوں کی جوتحقیر ہوگی اسے پوری قوم بھگتے گی۔ آج کون ہے جو اس عظیم استاد کے ذہین شاگرد پر زبان طعن دراز کرے۔
اپنے اپنے زمانی و زمینی حقائق کی مناسبت سے پالیسیاں تشکیل و تبدیل ہو سکتی ہیں۔
ہمارا یہ سارا منظر نامہ تشکیل پایا ہی اسی طرح تھا، کون غریب آدمی تھا جو عوام کے اندر سے جمہوری پراسس طے کرتے ہوۓ ابھر کر سامنے آیا تھا؟ یہ بڑے بڑے نواب زادے، زمیندار اور وڈیرے تھے جن کے تب کی پی ٹی آئی میں تشریف لانے سے تحریک یا تشکیل کا رونق میلہ شروع ہوا یا آگے بڑھا، کسے معلوم نہیں کہ برٹش انڈیا کی افواج میں مسلم ریشو، حصہ بقدر جثہ سے کس قدر آگے بڑھی ہوئی تھی۔ سر کا بوجھ اخیر پیروں پر ہی آنا تھا سو آیا اورپوری طاقت سے آیا ۔
غصہ والی کیا بات ہے؟ آپ تھوڑی دیر کےلیے مان لیجئے ہم مقدس ملک سعودی عرب ہیں یا پوتر مملکت اسلامی جمہوریہ ایران ہیں۔ ہماری تمامتر عوامی اتھارٹی یا بنیادی جمہوریت خادم حرمین یا ولایت فقیہہ کے زیر سایہ ہے۔ آپ سیاہ بوٹوں کی شان میں رطب اللسان نہیں ہوسکتے تو بھی دل پر پتھر رکھ کر کچھ عرصے کےلئے تنقیدی گھوڑے دوڑانےکی بجائے خاکی پرچم کے پھریرے پر دو ایک روایتی نعرے لگا دیں۔ بقول شخصے کوئی ڈراؤنا بھوت بھی ہے تو کیا ہوا، اپنا ہی بھوت ہے، ازلی دشمن ہندوستان کا تو نہیں ہے۔ معیشت تباہ ہے یا جمہوریت، کوئی بات نہیں، اپنا اگربھوکا پیاسا رکھ کربھی مارے گا پھر بھی دھوپ میں تو نہیں پھینکے گا۔
میاں صاحب اپنا بیانیہ تھوڑی سی مدت کے لئے بدل لیجیے۔ عوامی دکھوں کا احساس و ادراک کیجیے، سمندر میں رہ کر مگرمچھ سےبیر نہیں کیا جاسکتا۔ آپ نے اس کی تلخی اگر دھرنے کے دوران نہیں دیکھی تھی تو 2018 میں دیکھ لینی چاہیے تھی۔ گلگت بلتستان میں واضح نہیں ہوا تو کشمیر میں شیشہ ہو جانا چاہیے اور پھر اب آپ کا گڑھ پنجا ب، کیا اب بھی ستم ظریفی میں کوئی کسر رہ گئی ہے؟
چھوٹے بھائی کی طرح آپ بھی لمحے بھر کو طاقت کی عظمت پر ایمان لے آئیں۔ سمجھ جائیں پوری قوم اسی جذبۂ ایمانی سے سرشار ہے کیونکہ بچپن کےتعلیمی قاعدے سے لے کر پورے جدید قومی میڈیا تک سبھی یہی شراب طہور ان معصوموں کے حلق میں اتار رہے ہیں۔ لہٰذا جو اس کےبرعکس سوچے گاوہ قوم کا غدار کہلائے گا یا مودی کا یار۔ ہم بنون وقت کا یہی بیانیہ ہونا چاہیے۔