افغان مہاجرین کو ان کے وطن میں رکھا جائے: معید یوسف
- اتوار 01 / اگست / 2021
- 6020
قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے کہا ہے کہ بے گھر افغانیوں کو پاکستان میں دھکیلنے کے بجائے ان کے ملک کے اندر رکھنے کے انتظامات کیے جائیں۔
واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معید یوسف نے کہا کہ پاکستان اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کررہا ہے کہ افغانستان میں کشیدگی مزید خونریزی کا باعث نہ بنے۔ لیکن اگر کوئی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو یہ بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ افغانستان کے اندر ایک محفوظ علاقہ بنائے۔
ان سے سوال کیا گیا کہ کیا اسلام آباد مزید افغان مہاجرین کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے؟ انہوں نے کہا کہ ’انہیں در بہ در کیوں کیا گیا؟ ان کے لیے ان کے ملک کے اندر انتظام کریں، پاکستان مزید مہاجرین کو برادشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ خیال رہے کہ معید یوسف 27 جولائی کو انٹر سروسز انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل فیض حمید کے ساتھ افغانستان اور دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کے لیے واشنگٹن پہنچے تھے۔
آئی ایس آئی کے سربراہ وائٹ ہاؤس میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کے ساتھ مذاکرات کے ایک دن بعد واشنگٹن سے روانہ ہوئے تھے جس میں دونوں اطراف کے دیگر سیکیورٹی حکام بھی شریک تھے۔ آئی ایس آئی کے سربراہ کی امریکی آمد سے متعلق معید یوسف نے کہا کہ ہمیں براہ راست تکنیکی ’ان پٹ‘ کی ضرورت تھی، یہ ایک اعلیٰ سطح کا سیاسی دورہ نہیں تھا اور اس میں تکنیکی مسائل پر توجہ دی گئی۔
پاک امریکا تعلقات کی تعمیر نو کا عمل 27 مئی کو جنیوا میں معید یوسف اور ان کے امریکی ہم منصب کے درمیان ملاقات کے ساتھ شروع ہوا۔ معید یوسف نے کہا کہ بات چیت تعلقات کی تعمیر نو کی طرف جاری رہے گی۔ لیکن آپ کو وہی احساس نہ ہو جو آپ نے بڑی ملاقاتوں، بڑی تصویروں اور سرخیوں کے ساتھ ماضی میں کیا تھا، یہ مذاکرات اب نتیجہ پر مبنی ہوں گے۔
انہوں نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا کہ پاکستان کا اثر و رسوخ ہے کہ وہ افغان طالبان کو کچھ ایسا کرنے پر مجبور کرسکتا ہے جو وہ نہیں چاہتے تھے۔ معید یوسف نے کہا کہ ہمارے پاس معمولی، کم لیوریج ہے لیکن اگر اثر و رسوخ ہوتا تو ہم انہیں 1990 کی دہائی میں بامیان بدھ مت کو تباہ کرنے سے روک دیتے۔ انہیں کم از کم ٹی ٹی پی کو زبردستی نکالنے پر آمادہ کر سکتے تھے۔
پاکستان پر امریکی دباؤ کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے معید یوسف نے کہا کہ چھوٹی چھوٹی پریشانیاں غیر ضروری ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بھارتی وزیر خارجہ نے بھی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) پر اثر انداز ہونے کا اعتراف کیا۔ ’ہم ان مسائل کو اٹھاتے اور ان پر تبادلہ خیال کرتے ہیں اور یہ ایک جاری رہنے والا عمل ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان سب سے اہم اور فوری مسئلہ ہے لیکن یہ بات چیت اس بات پر مرکوز ہے کہ کئی مسائل پر کیسے آگے بڑھا جائے۔ معید یوسف نے تسلیم کیا کہ ’پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آئے ہیں لیکن ہمیں آگے کام کرنے کی ضرورت ہے اور ہمیں آگے بڑھنے کے حوالے سے بہت مثبت جواب ملا ہے۔