لاک ڈاؤن لگانے سے پہلے یومیہ اجرت والوں کا سوچیں: وزیر اعظم

  • اتوار 01 / اگست / 2021
  • 4530

وزیر اعظم عمران خان نے سندھ میں مکمل لاک ڈاؤن کی مخالفت کی ہے اور کہا کہ پہلے یومیہ اجرت والے لوگوں کا خیال کیا جائے۔

عوام کے سوالات کا براہ راست جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے یہ مشورہ ایک ایسے وقت دیا ہے جب پاکستان میں کورونا وائرس کی چوتھی لہر میں تیزی آگئی ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5 ہزار 26 کیسز رپورٹ ہوئے جو 29 اپریل کے بعد سب سے بڑی تعداد ہے۔ کراچی میں کورونا کے پھیلاؤ میں زیادہ شدت دیکھی جارہی ہے۔

سندھ حکومت نے حال ہی میں صوبے میں جزوی لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔ اس پر متعدد وفاقی وزرا بھی بیان دے چکے ہیں۔ اب وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے ہے کہ لاک ڈاؤن سے کورونا پھیلنے سے رکتا ہے لیکن مسئلہ عوام کا ہے جو یومیہ اجرت کما کر اپنا گزر اوقات کرتے ہیں، وہ کیسے گزارا کریں گے۔ انہوں نے حکومت سندھ کو مخاطب کرکے کہا کہ جب تک آپ کے پاس اس کا جواب نہیں ہے تب تک مکمل لاک ڈاؤن مت کریں۔ ایسی غلطی بھارت نے کی تھی جس سے ان کے ملک میں تباہی کا منظر ہے، ان کی معیشت کو غیرععمولی نقصان پہنچا۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ملک کورونا وائرس کی چوتھی لہر کا سامنا کررہا ہے ایسے حالات میں علما کرام کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے مساجد میں ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنایا۔  انہوں نے کہا کہ بھارت سے آنے والا ڈیلٹا ویرینٹ سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ لیکن خطرے کو ماسک کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے۔

عمران خان نے ماسک پہننے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوامی مقامات پر جانے سے قبل ماسک پہنیں کیونکہ اس سے 70 فیصد امکان ہوتا ہے کہ آپ وائرس سے متاثر نہ ہوں۔  انہوں نے کہا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کی وجہ سے پاکستان پڑوسی ملک بھارت کے مقابلے میں بہت بہتر حالت میں ہے۔

عمران خان نے کہا کہ کورونا سے مکمل تحفظ کا واحد حل ویکسینیشن ہے۔ ابھی تک پاکستان میں 3 کروڑ افراد کو ویکسینیٹڈ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، حکومت بھرپور کوشش کررہی ہے کہ ویکسین کی کمی نہ ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بچوں اور ٹیچرز کو ویکسین لگوانے تک اسکول بھی نہیں کھولنے چاہیے لیکن معیشت کو نقصان نہ پہنچے اس امر کا بھی خیال رکھنا ہے۔

عوام کے سوال و جواب کا براہ راست سلسلہ میں ایک  کالر نے کہا کہ وہ صحافی ہے۔ اس نے  لائیو سیشن کی شفافیت کا جائزہ لینے کے لیے کال کی ہے۔  وزیر اعظم عمران خان نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ قانون توڑنے، کرپشن کرنے، قانون کی بالادستی کے بجائے طاقت کی بالادستی پر یقین رکھنے والے حکمران ہمیشہ آزاد میڈیا سے ڈرتے ہیں۔  میں نے کرپشن کی ہو، لندن میں جائیداد بنائی ہو یا چوری سے جائیداد بنائی ہو تو ہمیشہ آزاد میڈیا سے خوفزدہ رہوں گا۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ آزادی رائے ملک کے لیے بہت بڑی نعمت ہے کیونکہ اسی میڈیا کے ذریعے ہم حالات و واقعات سے آگاہی حاصل کرتے ہیں اور میڈیا سے مجھے اس وقت اختلاف ہوتا ہے جب جعلی خبر چلائی جاتی ہیں۔ میڈیا سے اختلاف کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف جعلی اور جھوٹی چلنے کے لیے ای وی ڈس انفارمیشن لیب تیار کی اور بدقسمتی سے اسے پاکستان کے صحافی ’فیڈ‘ کررہے ہیں۔  میرا موقف ہے کہ تنقید ملک کے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔

احساس پروگرام میں وسعت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت متعدد امور انجام دیے جارہے ہیں۔ ہمارے پاس ڈیٹا جمع ہوگیا ہے جس کی بنیاد پر ہم ضرورت مند خاندانوں کو براہ راست سبسڈی دے سکیں گے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ میری ’ٹریل پی ایچ ڈی‘ اسپورٹس میں ہے، معیشت سمیت دیگر ملکی مسائل پر اتنی توجہ مرکز ہوگئی کہ اسپورٹس کے لیے وقت نہیں نکال سکا۔  ہم نے اسپورٹس کی دنیا میں بھرپور نام کمایا لیکن پھر تنزلی بھی دیکھی۔ بدقسمتی سے سابقہ دونوں حکومتی ادوار میں صرف کرپشن نہیں کی گئی بلکہ اداروں کو بھی تباہ کردیا گیا۔ پیسہ لوٹنے کے لیے اداروں کو کمزور کرنا پڑتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے پہلی مرتبہ بڑے بڑے ناموں پر ہاتھ ڈالے جبکہ اس سے قبل ادارہ محض چھوٹے چھوٹے لوگوں کو پکڑ رہا تھا اور نیب میں کرپشن بڑھتی جارہی تھی۔  یہ وہی نیب سے جو گزشتہ دس برس سے قائم تھا لیکن اب کیوں ادارے پر تنقید ہورہی ہے۔ اس سے قبل حکومتیں اپنے لوگ تعینات کرکے نیب کو اپنی ایما پر چلا رہی تھیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اسپورٹس کے اداروں میں اپنے سیاسی لوگوں کو مقرر یا تعینات کیا گیا اور اس کے نتیجے میں اسپورٹس کے زوال کا عمل شروع ہوگیا۔ آج یہ دن بھی دیکھنا پڑا کہ پاکستانی کی ہاکی ٹیم اولمپکس گیمز کے لیے کولیفائی نہ کرسکی۔ ملک میں اسپورٹس کی ترقی کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اسپورٹس کو ایک ادارہ بنایا جائے۔

عمران خان نے عزم کا اظہار کیا کہ حکومت کے آخری دو برس میں اسپورٹس کی ترقی کے لیے بھرپور کوشش کروں گا، ہم نے یونین کی سطح پر بھی گراونڈ بنانے کی ہدایت دی ہے تاکہ بچوں کو کھیلنے کا موقع ملے۔

سابق سفیر کی بیٹی نور مقدم کے قتل سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے یقین دہانی کرائی کہ واقعے میں ملوث عناصر کو راہ فرار کا موقع نہیں ملے گا۔  انہوں نے کہا کہ مبینہ بااثر خاندان سے تعلق رکھتا ہے لیکن میں یقین دلاتا ہوں کہ کسی مجرم کو نہیں بخشا جائے گا۔ اگر کوئی سوچ رہا ہے کہ وہ امریکی شہری ہے اور بچ جائے گا تو ایسا نہیں ہے۔ یہ بات خیال سے نکال دیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ واقعہ سے پورے ملک کو صدمہ پہنچا، اسی طرح افغان سفیر کی بیٹی کے ساتھ جو معاملہ پیش آیا اس پر یہ بتانا چاہوں گا کہ اس کیس کو اس طرح فالو کیا جس طرح وہ میری اپنی بیٹی ہو۔ افغانستان میں اپنے ہی لوگ ہیں، ہم انہیں اپنا بھائی سمجھتے ہیں، پولیس کو داد دیتا ہوں جنہیں احسن طریقے سے پورے کیس کو عیاں کیا۔