ملک بھر میں ہفتے میں دو دن چھٹی، کاروبار رات 8 بجے بند کرنے کا اعلان
- سوموار 02 / اگست / 2021
- 4540
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے سربراہ اسد عمر نے کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح بڑھنے کے پیش نظر ملک کے اہم شہروں میں 31 اگست تک نئی پابندیوں کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔
اسلام آباد میں ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کی جانب سے پابندیوں کی منظوری کے بعد اہم شہروں میں نئی پابندیوں کے نفاذ کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ان بندشوں کے ہمارے کمزور اور غریب طبقے پر بہت اثرات مرتب ہوتے ہیں، اسی لیے کئی لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ آپ 3 مراحل میں لاک ڈاؤن کیوں کرتے ہیں اور پہلی دفعہ میں ہی مکمل لاک ڈاؤن کیوں نہیں کرتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے ملک کے ایک بہت بڑے دیہاڑی دار طبقے کے روزگار کا تحفظ بھی کرنا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نے ابتدائی تین لہروں میں جس حکمت عملی پر عمل کر کے کامیابی سے دفاع کیا ہے تو اسی کو دیکھتے ہوئے ہم نے کچھ فیصلے کیے ہیں اور اگر آپ وبا کے پھیلاؤ کو دیکھیں تو پچھلے ایک ہفتے میں بہت تیزی سے اضافہ ہوتا ہوا نظر آیا ہے۔ ہمارے مثبت کیسز کی تعداد اور شرح میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارے ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
لہٰذا مندرجہ ذیل نئی پابندیوں کو نافذ کیا جا رہا ہے۔ ہفتے میں دو دن چھٹی ہو گی۔ مارکیٹ 8 بجے تک کھولنے کی اجازت ہو گی۔ ان ڈور ڈائننگ پر پابندی اور آؤٹ ڈور ڈائننگ کی 10 بجے تک کی اجازت ہو گی۔ شادیوں میں 400 سے زائد افراد کو بلانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ دفاتر میں 50 فیصد افراد کو آنے کی اجازت ہو گی اور بقیہ عملہ گھر سے کام کرے گا۔ پبلک ٹرانسپورٹ 50 فیصد گنجائش کے ساتھ چلانے کی اجازت دی جائے گی۔ نئی پابندیوں کا اطلاق 3 اگست سے ہو گا۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے مزید کہا کہ اسلام آباد کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر میں میرپور اور گلگت بلتستان میں گلگت اور اسکردو میں بھی ان پابندیوں کا اطلاق ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ان پابندیوں کا آغاز 3 اگست سے ہو گا اور یہ 31 اگست تک نافذ رہیں گی۔ جبکہ ہفتے میں ایک دن کے بجائے اب دو دن چھٹی ہو گی، جنہیں 'سیف ڈیز' کا نام دیا گیا ہے البتہ اس بات کا اختیار صوبے کو ہو گا کہ وہ کن دو دنوں میں چھٹی کریں گے۔
یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مارکیٹ کے اوقات کار رات 10 بجے سے کم کر کے 8 بجے تک کردیے جائیں۔ ہم نے ویکسینیشن کرانے والے افراد کو ان ڈور ڈائننگ کی اجازت دی تھی لیکن بدقسمتی سے اس کا اطلاق بالکل بھی نہیں ہو رہا اور اس پر عملدرآمد میں کمزوریاں سامنے آئی ہیں جبکہ انتظامیہ بھی یہ کہہ رہی تھی کہ ہر ریسٹورنٹ میں جا کر دیکھنا ممکن نہیں کہ صرف ویکسینیشن والوں کو آنے دیا جا رہا ہے یا نہیں۔
اس لیے ان ڈور ڈائننگ کو بند کیا جا رہا ہے البتہ باہر بیٹھ کر کھانا کھایا جا سکتا ہے لیکن اس کا وقت بھی 12 بجے سے کم کر کے 10 بجے تک کیا جا رہا ہے جبکہ ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری کی 24 گھنٹے اجازت ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی چوتھی لہر میں تیزی آگئی ہے اور یکم اگست کو اپریل کے بعد پہلی مرتبہ ملک میں 5 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ ملک میں یومیہ مثبت کیسز کی شرح 8.6 سے تجاوز کر گئی ہے اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ویکسینیشن اور احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئی تو ملک کی بڑی آبادی کے وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب ملک میں ویکسینیشن عمل بھی تیزی سے جاری ہے اور گزشتہ روز اسد عمر نے کہا تھا کہ گزشتہ ہفتے یومیہ ریکارڈ ویکسینیشن کے بعد ملک میں اب تک تین کروڑ سے زائد افراد کی ویکسینیشن کی جا چکی ہے۔