پیگاسس سافٹ ویئر کے سوال پر بھارت میں حکومت مخالف احتجاج

  • منگل 03 / اگست / 2021
  • 3230

پارلیمان میں بحث کرانے کے حزبِ اختلاف کے مطالبے اور حکومت کے انکار کی وجہ سے پارلیمنٹ کے اجلاس میں تعطل برقرار ہے۔

حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس کے سینئر رہنما راہول گاندھی نے حکومت مخالف حکمتِ عملی مرتب کرنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کا ایک ’بریک فاسٹ اجلاس‘ منعقد کیا۔ اجلاس میں کانگریس سمیت 15 سیاسی جماعتوں کے 100 سے زائد اراکینِ پارلیمنٹ نے شرکت کی اور متعدد معاملات پر بحث کرانے کے لیے حکومت کو مجبور کرنے کے سلسلے میں تبادلۂ خیال کیا۔ جب کہ ایک مشترکہ حکمتِ عملی تیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

اجلاس میں راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ ان کے ذہن میں صرف ایک معاملہ ہے جو بہت اہم ہے اور وہ یہ ہے کہ حزبِ اختلاف کی جماعتیں متحد ہوں۔ عوام کی یہ آواز جتنی زیادہ متحد ہو گی اتنی ہی طاقتور ہوگی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے حامیوں کے لیے اس آواز کو دبانا اتنا ہی مشکل ہوگا۔

اجلاس میں کانگریس کے علاوہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی)، ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی)، شیو سینا، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا، کمیونسٹ پارٹی (ماو نواز)، راشٹریہ جنتا دل، سماجوادی پارٹی، جھار کھنڈ مکتی مورچہ اور دیگر جماعتوں کے اراکین نے شرکت کی۔ اراکینِ پارلیمنٹ کے اجلاس کے بعد راہول گاندھی اور تمام اراکین پارلیمان سائیکل سے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے۔ راہول گاندھی کی سائیکل پر مہنگائی کے خلاف پلے کارڈز آویزاں تھے۔ کانسٹی ٹیوشن کلب سے پارلیمنٹ ہاؤس تک چند فرلانگ کی مسافت طے کرنے کے دوران حکومت کے خلاف نعرہ بازی بھی ہوتی رہی۔

راہول گاندھی نے گزشتہ ہفتے بھی حزبِ اختلاف کی 14 جماعتوں کے ساتھ اجلاس کیا تھا اور حکومت کو مجبور کرنے کی حکمتِ عملی پر تبادلۂ خیال کیا تھا۔ اس موقع پر وہ ٹریکٹر چلا کر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سے صرف اتنا جاننا چاہتے ہیں کہ کیا اس نے اسرائیل کی کمپنی این ایس او گروپ سے پیگاسس سافٹ ویئر خریدا ہے؟ اور اگر خریدا ہے تو کیا اس کی مدد سے مخصوص افراد کی جاسوسی ہوئی ہے؟

انہوں نے  الزام عائد کیا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے پیگاسس سافٹ ویئر کو حزبِ اختلاف کے رہنماؤں، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، ججز، کارپوریٹ اداروں اور دوسروں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا گیا ہے۔ ان کا یہ بھی الزام ہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی اور وزیرِ داخلہ امت شاہ نے اس ہتھیار کا استعمال جمہوری اور آئینی اداروں کے خلاف بھی کیا ہے۔ لہٰذا اس پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔

حزبِ اختلاف کی جانب سے پیگاسس، زرعی قوانین، کسانوں کی تحریک، مہنگائی اور کرونا وبا سمیت متعدد امور پر بحث کرانے کا مطالبہ مسلسل کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ مبینہ پیگاسس جاسوسی معاملے کی یا تو پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی سے یا پھر سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کرائی جائیں۔