مسلم لیگ (ن) میں سیاسی اختلاف رائے میں اضافہ
- منگل 03 / اگست / 2021
- 5590
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سیاست میں مفاہمت اور مزاحمت کے بیانیے پر بحث جاری ہے۔ مبصرین کے مطابق اس معاملے پر جماعت کے اندر تقسیم میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت کی پالیسی پر گامزن رہے ہیں۔ جب کہ پارٹی کی نائب صدر اور سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی صاحب زادی مریم نواز مسلم لیگ کی مزاحمت کا چہرہ بن کر سامنے آئی تھیں۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے عام انتخابات اور سیالکوٹ میں پنجاب اسمبلی کی نشست پر ہونے والے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کی شکست کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوال ایک بار پھر زیرِ بحث ہے کہ آئندہ انتخابات میں یہ جماعت کس بیانیے کے ساتھ میدان میں اترے گی؟ پارٹی قائد نواز شریف نے اپنے حالیہ بیانات میں ایک بار پھر مزاحمت کا راستہ اختیار کرنے کی بات کی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے کامیابی سے تین برس تک مزاحمت یا مفاہمت کی دو رخی پالیسی چلائی۔ البتہ اب وہ وقت قریب ہے کہ اسے کسی ایک راستے کا انتخاب کرنا ہو گا جس کے بارے میں پارٹی کو جلد فیصلہ کرنا پڑے گا۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر انتخابات کی مہم میں مریم نواز نے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلق پر سخت بیانات کا سلسلہ جاری رکھا جب کہ شہباز شریف نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں حکومت کو مفاہمت کا پیغام دیتے ہوئے مل کر کام کرنے کی پیشکش کی تھی۔
مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے 2018 کے انتخابی نتائج پر مسلسل اعتراضات کیے ہیں۔ اپنے ایک انٹرویو میں شہباز شریف نے شکست کی وجہ پارٹی کی ناکام حکمتِ عملی قرار دی تھی۔ سینئر سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) نے ایک عرصے سے قصداَ دونوں بیانیے اپنائے ہوئے ہیں۔ مزاحمت کے بیانیے کے ذریعے حکومت کو للکارا جاتا ہے اور اسٹیبلشمنٹ کو سخت پیغامات دیے جاتے ہیں۔ ووٹرز کو امید اور کارکن کو جوش دلایا جاتا ہے۔ البتہ دوسری جانب جب نواز شریف کو بیرونِ ملک جانا ہوتا ہے یا آرمی چیف کو توسیع دینی ہوتی ہے تو مفاہمت کا بیانیہ سامنے آ جاتا ہے۔ لیکن بہت عرصے تک دو کشیتوں کے سوار بن کر نہیں چلا جا سکتا۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) نظریاتی سیاسی جماعت بننا چاہتی ہے تو پھر اسے مزاحمتی بیانیے کو لے کر چلنا ہو گا اور اس کے لیے پارٹی کی نشستوں کی تعداد کے تخمینوں سے بالاتر ہوکر فیصلے کرنے ہوں گے۔ انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ مسلم لیگ (ن) صرف ایک نظریاتی جماعت نہیں بلکہ انتخابی جماعت ہے اور انہیں اپنے بیانیے پر دوبارہ سوچنا پڑے گا اور تبدیلی لانی پڑے گی۔
پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم اور مسلم لیگ کے قائد نواز شریف نے اپنے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کو پانچ لاکھ ووٹ اور چھ نشستیں ملیں۔ جب کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو چھ لاکھ ووٹ اور 26 نشستیں ملیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ تحریکِ انصاف کی ایسی فتح پر کون یقین کرے گا؟ نواز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور سیالکوٹ کے نتائج جس طرح حاصل کیے گئے اُس کا تذکرہ اِن انتخابات کے انعقاد سے قبل ہی منظرِ عام پر آنا شروع ہو گیا تھا۔ باقی آنے والے دنوں میں اور بے نقاب ہو گا۔
یہ جدوجہد محض چند سیٹوں کی ہار جیت کے لئے نہیں بلکہ آئین شکنوں کی غلامی سے نجات کے لئیے ہے۔ اور اپنی عزتِ نفس پر سمجھوتہ کئے بغیر تاریخ کی درست سمت میں کھڑے نظر آنے کے لئے ہے۔ مسلم لیگ ن اور عوام کے درمیان خلیج ڈالنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو گی اِنشاءاللہ۔ انہوں نے کہا کہ یہ جدوجہد محض چند نشستوں کی ہار جیت کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ آئین شکنوں کی غلامی سے نجات کے لیے ہے۔ اور اپنی عزتِ نفس پر سمجھوتا کیے بغیر تاریخ کی درست سمت میں کھڑے نظر آنے کے لیے ہے۔
نواز شریف کے حالیہ بیان کے بارے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ابھی شاید مفاہمتی بیانیے کا وقت نہیں آیا۔ کسی بھی جماعت کی حتمی خواہش اقتدار میں آنا ہی ہوتی ہے اور حالیہ مزاحمتی بیانات بھی اسی کا حصہ ہیں۔ وقت آنے پر اس میں تبدیلی آئے گی اور اس کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
تجزیہ کار اور سینئر صحافی سلیم بخاری کہتے ہیں کہ نواز شریف کا بیان ہی مسلم لیگ (ن) کا اصل بیانیہ ہے۔ نواز شریف اس بات پر بضد ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بنائے بغیر کوئی جماعت حکومت نہیں چلا سکتی۔ بدقسمتی سے ملک میں شراکتِ اقتدار تو ہوئی البتہ انتقال اقتدار نہیں ہوا۔ نواز شریف 10 برس سے یہ بیانیہ لے کر چل رہے ہیں کیوں کہ ان کا خیال ہے کہ فوج کے ساتھ مفاہمت کرکے اقتدار حاصل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد کا ذکر کرتے ہوئے سلیم بخاری نے مزید کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں شامل ہونے کا مقصد بھی یہی تھا۔ البتہ اس کو بھی توڑ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک پیج پر ہونے کا دعویٰ کر رہی ہے البتہ گورننس کے مسائل کی وجہ سے اس ایک پیج پر ہونے کا کوئی فائدہ نظر نہیں آ رہا۔ سلیم بخاری کے مطابق نواز شریف کا بیان شہباز شریف کے لیے مفاہمت کا بیانیہ ترک کرنے کے لیے ہے۔
انتخابی سیاست میں مسلم لیگ کا بیانیہ کیا ہو گا؟ اس بارے میں سلیم بخاری کہتے ہیں کہ انتخابی سیاست بھی اسی بیانیہ کی مدد سے جیتی جا سکتی ہے۔ تین برس میں 11 ضمنی الیکشن ہوئے اور نو نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کامیاب ہوئی، خیبر پختونخوا میں بھی اسے کامیابی ملی۔ مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بینک اب تک اگر ایک جگہ پر ہے اور تقسیم نہیں ہوا تو وہ صرف مریم نواز کے مزاحمتی بیانیے کی وجہ سے ہے۔ ورنہ شہباز شریف تو نوازشریف کے وطن واپس آنے پر ایئر پورٹ تک بھی نہیں پہنچ سکے تھے۔
سلیم بخاری نے کہا کہ نواز شریف حکومت کو موقع دے رہے ہیں۔ ان کے لیے پنجاب میں اقتدار حاصل کرنا کوئی مشکل نہ تھا لیکن نواز شریف اس حکومت کی حقیقت کو سامنے لانا چاہتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ اپنے مزاحمتی بیانیے کو لے کر چل رہے ہیں۔ ان کے مطابق آئندہ انتخابات تک مسلم لیگ (ن) اسی بیانیے کے ساتھ نظر آ رہی ہے۔