کیا میں کُرپٹ ہوں؟

کرپشن کوئی سیاسی مظہر نہیں بلکہ ایک سماجی رویہ ہے جو فرد کے جرثومے کے ذریعے معاشرے میں سرایت کرتا ہے اور پھر پورے معاشرے کو زہر آلود کردیا ہے۔ آخر معاشرہ ہے کیا؟ میں آپ اور ہم سب معاشرہ ہیں۔

جو لوگ اداروں کا انتظام سنبھالنے  اور چلانے کے لیے  منتخب یا مسلط کیے جاتے ہیں،  وہ اسی کرپٹ معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں جس میں  وہ پل کر جوان ہوتے ہیں اور جہاں ان کی ذہن سازی ہوئی ہوتی ہے۔  اور ایسے معاشروں میں کتابی علم یا لکھنے پڑھنے کی استعداد کرپشن کو کم نہیں کرتی بلکہ اسے مزید تقویت دے کر اس کے لیے دستاویزی  جواز فراہم کرتی ہے۔ جس ملک میں میٹرک سے  لے کر ماسٹر تک کی ڈگریاں بکتی ہوں اور مطلوبہ قیمت کے عوض دستیاب ہوں وہاں تعلیم   ایک جعلسازی اور دھاندلی ہوتی ہے۔  کرپٹ معاشروں کے ادارے بالعموم کرپشن  کے نظام ہی کا جزوِ لا ینفک ہوتے ہیں۔ کرپشن نمک کی کان کی طرح ہوتی ہے ، جو نمک کی کان میں داخل ہوا وہ نمک بن گیا۔ مشہور فارسی کہاوت ہے:

ہر کہ در کانِ نمک رفت نمک شُد

اور یوں بھی یہ فطری اصول ہے کہ کہ جس طرح کا مادہ یا مواد ہو، وہ اپنے جیسے مادے میں رچ بس کر ہی پھلتا پھولتا ہے۔  ہمارے بزرگوں نے کہا تھا:

کُند ہم جنس با ہم جنس پرواز

کبوتر با کبوتر باز با باز

چنانچہ کرپٹ لوگ کرپشن میں ہی خُوش رہتے ہیں۔  چنانچہ کرپشن  کے خلاف جہاد  کا اصول یہ ہے کہ ہر شخص پہلے خود اپنا احتساب کرے  اور خود سے پوچھے کہ کیا میں کرپٹ ہوں؟

کرپشن ایک سماجی رویہ ہے  جو باہمی رشتوں ناتوں  کے  غلط تعین اور غلط اصولوں کے اطلاق سے  پیدا ہوتا ہے اور پھر وائرس کی طرح پھیلتا ہے۔  کرپشن کے خلاف کارروائی کرپٹ نہیں کرسکتے کیونکہ کوئی بھی شخص اپنے گریبان میں جھانکنا نہیں چاہتا اور اپنا کرپشن زدہ چہرا دیکھنا نہیں چاہتا اور جو اپنا اصل چہرا دیکھنے میں کامیاب ہو جائے،  وہ بالآخر کرپشن کو سمجھ جاتا ہے اور تب کرپشن کے انسداد اور سدِ باب کے دروازے کھل جاتے ہیں۔  مجھے  حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قصہ یاد آ رہا ہے کہ یہودی اُن کے پاس ایک فاحشہ عورت کو لے کر آئے کہ یہ بد کاری کی مرتکب ہوئی ہے۔ تو کیا  اسے سنسار کرنے کا حُکم جاری کیا جا سکتا ہے؟ اس پر حضرت عیسیٰ ؑ جو کچھ لکھنے میں منہمک تھے، فرمایا کہ ہاں، سنگسار کرنے کی سزا کی دفعہ موجود ہے لیکن اس کو پہلا پتھر وہ مارے جس نے خود کوئی گناہ نہ کیا ہو۔ یہ کہ کر حضرت عیسیٰؑ پھر سے لکھنے میں مصروف ہو گئے اور جب انہوں نے لکھنے سے فراغت پا کر سر اُٹھایا تو وہ عورت وہاں اکیلی کھڑی تھی اور کوئی  مدعی وہاں موجود نہ تھا کیونکہ سب کو اپنے اپنے گناہ یاد آگئے تھے۔ 

یہی حال ہمارے یہاں نیب کا ہے کہ  نیب کے اہلکار نہ تو فرشتے ہیں نہ وہ پاکستان میں آسمان سے درامد کیے گئے ہیں، بلکہ وہ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں جس میں  مارشل لا کے چار ہیرو، نظریہ ضرورت کے موجد، ناجائز تجاوزات کے  خالق و مالک اور گندے نالوں میں رہائشی عمارتوں  کی بنیادیں اُٹھانے والے  اور بنگلہ دیش  کی تخلیق کا باعث بننے والے نظریات ساز رہتے ہیں۔ وہ جن سے بہتر سال میں کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا ، اب بھی کشمیر کے نام پر نہ صرف لوگوں کو بیوقوف بناتے ہیں، بلکہ خود  بھی اپنے ہاتھوں  بیوقوف بنتے ہیں  اور یہ سلسلہ انیس سو سنتالیس سے جاری ہے۔  اور اب  اس معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہماری نسل خود اپنے  ہاتھوں ہلاک ہو رہی ہے۔

 جنسی دہشت گردی اور طفل کُشی  کی  وارداتوں کا جائزہ لیا جائے  اور اُن کے اعداد و شمار جمع کیے جائیں تو یقیناً  جنسی دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے بچوں اور بچیوں کی تعداد، کرونا وبا سے مرنے والوں سے کسی طرح کم نہیں ہوگی لیکن  ہم  اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتے کیونکہ طفل کُشی اور جنسی دہشت گردی  ایک مستحکم رویہ بن چاکی ہے۔ ہر روز کم سن بچیاں غائب ہو جاتی ہیں اور پھر اُن کی لاشیں کہیں نہ کہیں سے  برامد ہوتی ہیں۔ اسلام نے  تو یہ سندیسہ دیا تھا کہ  ایک بے گناہ کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے اور مملتِ خدادا میں انسانہت دن میں  کبھی کبھی ایک سے زیادہ بار قتل ہوجاتی ہے لیکن منبر و محراب کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی بلکہ بعض داڑھیوں سے  اس قسم کا امرتے ٹپکنے لگتا ہے کہ ہم جنس پرستی تو صحابہ کے عہد میں ہوتی تھی۔ کیا عجیب دلیل ہے۔ کیا صحابہ کو  سورۃ لوط یاد نہیں تھی۔ 

لیکن ایک کرپٹ معاشرے میں ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔ ہر مجرم کے پاس اپنے جرم کے حق میں جواز موجود ہوتا ہے۔  اس لیے کہ ہم پاکستانی ایک آزاد قوم ہیں۔ہمیں کرپشن کی آزادی ہے، منی لانڈرنگ کی آزاد ہے، لاقانونیت کی آزادی ہے، جنسی درندگی کی آزادی ہے، سرِ راہے ہاتھا پائی، غُنڈہ گردی  اور امنِ عامہ کے قتل کی آزادی ہے۔ تعلیم کے نام پر جہالت پھیلانے کی آزادی ہے، دودھ میں پانے ملانے کی آزادی ہے علم اور طب فروشی کی آزادی ہے  اور اگر اپنی آزادی کے ان مختلف پیرایوں کو دیکھیں  تو ہم  اس وقت  کرہ  ارض پر موجود آزاد ترین قوم  ہیں اور اس کے باوجود ہم یہ نہیں جانتے کہ آزاد کیا ہے؟ آزادی محبت ہے۔ ہر شخص سے  بلا تخصیص محبت، ہر ایک کو مخلوقِ خُدا سمجھ کر اُس سے محبت کرنا۔ اور محبت کے بارے میں ایک شعر یاد آگیا:

میرا دشمن بھی  مرے پیار کا حق دار بنا

میں نے تم سے ہی نہیں، سب سے محبت کی ہے

محبت ، محمدیت کی روح اور اساس ہے۔  اور اس کے لیے عجز و انکسار شرط ہے۔  اور عجز و انکسار  خود کو اللہ کا عاجزز و مجبور بندہ سمجھنا ہے۔ یہ کوالٹی  اپنا نام عاجز ا رکھ لینے یا گودڑی پہننے سے نہیں آتی  اور نہ ہی خود کو کمیونزم، سوشلزم یا کسی انسان دوست نظری یا مثالیے  یا بہادرانہ کارنامے سے یا ملک و ملت کے حوالے سے خُود کو شناخت کرنے سے نہیں آتی  کیونکہ یہ تو ایک ذہنی کیفیت ہے ایک شعوری کیفیت جو کائنات کی جملہ مخلوقات کی وحدت کی تفہیم سے پیدا ہوتی ہے  اور یہ وحدت کسی نظرے یا  ذہن کے حصار کی پابند نہیں ہے۔ چنانچہ خود شناسی کے لیے تمام نفسیاتی شکنجوں اور حربوں کا انسداد لازمی ہے۔ تمام دفاعی حیلے، فرقے ، عقائد، علما پر بھروسہ  اور ماضی کے تجربے اور علم  سے روگردانی کر کے اپنے عہد کی صداقت دریات کرنی ہوتی ہے کیونکہ تاریخ کی کتابوں  میں بیان کی گئی سماجی اور اقتصادی انقلاب کی کہانیاں صرف معروضی طور پر تو  صورتِ حال میں تبدیلی لا سکتی ہیں ، ان حلقوں کو  تنگ یا کشادہ کر سکتی ہیں  لیکن یہ سب کچھ  کسی قوم کے فکری استعداد  کے اندر ہی محدود ہوتا ہے۔ 

لیکن ایک مطلق انقلاب کے لیے  حسد اور خوف کے تمام حصاروں کو توڑنے کی ضرورت ہوتی ہے اور ہماری سیاسی جماعتیں جس طرح ایک دوسرے کے خوف اور  حسد میں مبتلا ہیں،  وہ ایک عظیم، آزاد، خوش حال  اور پر امن پاکستان بنانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔یہ لوگ پاکستان میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے ۔ اور تبدیلی صرف اُس وقت رونما ہو سکتی ہے  جب اُن تمام  روایات کا انکار کیا جائے

جنہیں سابقہ قیادتوں نے  رواج دیا ہے۔ یعنی کرپشن کی عادات، لاقانونیت کی روایات  اور  جماعتی چیرہ دستی کا انکار کر کے فرد کی آزادی، خوش حالی اور اور معاشرتی امن  کو اپنا روز مرہ بنایا جائے اور کوئی کسی سے کرپشن نہ کرے کیونکہ کسی سے کرپشن اپنے آپ سے، اپنے خاندان سے اور اپنی نئی نسل سے کرپشن ہوتی ہے۔