افغان وزیرِ دفاع کے گھر کے باہر کار بم حملہ

  • بدھ 04 / اگست / 2021
  • 3670

امریکہ نے کابل میں منگل کو ہونے والے بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے شراکت دار افغانستان کے ساتھ کھڑا ہے۔

وائس آف امریکہ کے  مطابق متعدد ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ منگل کو ایک خود کش بمبار نے افغانستان کے وزیرِ دفاع جنرل بسم اللہ خان محمدی کے گھر کو ہدف بنایا۔ جس وقت دھماکہ ہوا وزیرِ دفاع گھر پر موجود نہیں تھے اور ان کے خاندان کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ میں بریفنگ کے دوران جب ترجمان نیڈ پرائس سے سوال کیا گیا کہ اطلاعات کے مطابق اس حملے کا ہدف افغانستان کے قائم مقام وزیرِ دفاع تھے؟ اس پر ترجمان نے کہا کہ وہ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ باضابطہ طور پر کسی کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہرا سکیں۔ ان کا کہنا تھا ہم نے بھی کابل دھماکے سے متعلق رپورٹس کو دیکھا ہے۔ کسی کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہرانے کی پوزیشن میں نہیں لیکن بلاشبہ اس حملے میں وہ تمام نشانیاں موجود ہیں جو طالبان کے حملوں میں نظر آتی ہیں اور جو ہم حالیہ ہفتوں میں دیکھ چکے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ ہم واضح طور پر اس بم حملے کی مذمت کرتے ہیں اور ہم اپنے شراکت داروں، اپنے افغان شراکت داروں کے ساتھ بدستور کھڑے ہیں۔ قبل ازیں منگل کو افغانستان کا دارالحکومت کابل ایک زور دار دھماکے سے لرز اٹھا تھا۔ جس کے بعد انتہائی سیکیورٹی والے گرین زون میں گولیوں کی آوازیں بھی سنائی دی تھیں جہاں حکومت کے متعدد عہدیدار اور پارلیمنٹ کے اراکین بھی رہائش پذیر ہیں۔

کابل میں مقیم صحافی بلال سروری نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ اس وقت سات بج کر 54 منٹ ہوئے ہیں اور ایک بڑا دھماکہ ہوا ہے۔ دھماکے سے میرا گھر بھی لرز گیا ہے۔ اور دھماکے کے بعد فائرنگ بھی ہوئی ہے۔ بلال سروری کی ٹوئٹ پر صحافی میگڈا گیڈ نے جواب میں لکھا جی۔ یہاں بھی ایسا ہی ہے۔ ایسا محسوس ہوا جیسے زلزلہ آ گیا ہو۔

اس دھماکے کے فوری بعد جنرل محمدی نے اپنے ٹوئٹر سے لوگوں کو تسلی دی کہ فکر نہ کیجیے۔ سب کچھ ٹھیک ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ ایسا حملہ تھا جس میں گاڑی میں دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا اور اس کے بعد مسلح افراد نے وزیرِ دفاع کے گھر میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان میر ویس ستانکزئی نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ حملہ وزیر اکبر خان کے پوش علاقے کے قریب شیرپور میں ہوا۔ البتہ کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ حملے کی آواز کئی کلو میٹر دور تک سنائی دی۔ متعدد مقامی شہریوں نے سوشل میڈیا پر تصاویر شیئر کی ہیں جن میں گہرے دھوئیں کے بادل دیکھے جا سکتے ہیں۔​ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ہرات سمیت افغانستان کے متعدد شہر محاصرے میں رہے جب کہ صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ میں حکومتی فورسز اور طالبان کے درمیان شدید لڑائی بھی جاری رہی۔