نظریاتی و مفاداتی سیاست کے ثمرات

جب ہم نے آنکھ کھولی تو اپنی خوبصورت وادی بناہ میں دو سیاسی جماعتوں کو سرگرم پایا ۔یہ دونوں ریاستی جماعتیں لبریشن لیگ اور مسلم کانفرنس تھیں۔  قبیلے کی سیاست نہ ہونے کے برابر تھی ۔

ہمارا اپنا سوہلن راجپوت قبیلہ مسلم کانفرنس اور لبریشن لیگ میں تقسیم تھا۔ میرے دادا کے کزن راجہ فرمان علی خان المعروف گنگالوی مسلم کا نفرنس کو لیڈ کرتے تھے اور میرے ماموں راجہ سیداللہ خان اور والد کے کزن راجہ محمد خان جو یونین کونسل کے چیئرمین بھی رہے، وہ اور ان کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر محمد اکبر خان وادی بناہ میں  لبریشن لیگ کی صف اول کی شخصیات تھیں۔ راجہ سیداللہ خان بھی یونین کونسل کے چیئرمین رہے اور1970 میں آزاد کشمیر اسمبلی کا الیکشن بھی لڑے۔  وادی بناہ میں دوسری متحرک سیاسی شخصیات راجہ محمد فضل داد خان جو اس وقت کھوئی رٹہ کے دو بڑے جاگیر داروں میں سے ایک راجہ اسدللہ خان کے والد تھے  اور برصغیر کی تاریخ پر دسترس رکھنے والے چوہدری محمد تاج، سکندر حیات سے کچھ ہی ووٹوں سے ہارنے والے غازی عبد الرحمن اور ڈوگرہ دور میں راجوری کے سیاہ و سفید کے مالک جرال راجپوت خاندان کی ایک باوقار شخصیت مرزامحمد حفیظ خان جیسی بڑی شخصیات مسلم کانفرنس میں تھیں۔

 چوہدری محمد تاج بفضل خدا ابھی حیات ہیں مگر مسلم کانفرنس کی پالیسیوں سے نالاں ہو کر کافی عرصہ سے گوشہ نشینی اختیار کیے ہوئے ہیں ۔ باقی سب اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں۔ لبریشن لیگ وادی بناہ کی دوسری بڑی شخصیات کھوئی رٹہ کے جاگیر دار اعلی راجہ اقبال سکندر کے والد اور حالیہ الیکشن میں آزاد امیدوار راجہ شہاداب سکندر اور حاضر سروس ڈی آئی جی راجہ شہریار خان کے دادا راجہ محمد صادق خان تھے۔  سوہلن راجپوت قبیلے کی ایک اور بڑی شخصیت راجہ فرمان علی خان سملہاروی بھی لبریشن لیگ میں تھے۔  

 

تاریخ بتاتی ہے کہ 1970 کے الیکشن تک آزاد کشمیر میں ریاستی جماعتیں بہت مضبوط تھیں۔ قبیلہ کی سیاست نفرت کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھی اور خطے  میں امن و بھائی چارگی کی فضا پائی جاتی تھی۔  پھر کیا ہوا؟ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے آزاد کشمیر میں نظریاتی سیاست کو کمزور کرنے کے لیے مجاہد اول کا ایک ٹائٹل ایجاد کیا جس کے بل بوتے پر قائد اعظم کے ذاتی معتمد اور لبریشن لیگ کے صدر کے ایچ خورشید، جنہوں نے آزاد کشمیر میں جمہوریت کی بنیاد ڈالی تھی اور آزاد کشمیر کے پہلے جمہوری صدر تھے،  کے خلاف مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان کو صدر منتخب کروا کر  ان سے وہ کام لیا جس کے وعدے کی بنا پر انہیں صدر بنوایا گیا تھا۔  اور وہ تھا الحاق پاکستان کی شق۔

ذوالفقار علی بھٹو نے شملہ معاہدہ کر کے عالمی مسئلہ کشمیر کو علاقائی بنا دیا۔ جموں کشمیر کی سیز فائر لائن کو کنٹرول لائن میں بدل دیا اور آزاد کشمیر کی آرمی کو پاک فوج میں ضم کر دیا۔ اس طرح آزاد کشمیر جس پر پہلے ہی پاکستان کے افسران مسلط تھے کو مزید کمزور کر دیا۔ 1977 میں  فوج نے بھٹو کا تختہ الٹ دیا تو آزاد کشمیر میں بھی ایک فوجی سردار حیات خان کو کرسی صدارت پر بٹھا دیا۔  1985 میں آزاد کشمیر میں انتخاب ہوئے مگر نام نہاد مجاہد اول اور سالار جمہوریت نے سیاست  میں  نظریہ ضرورت کو پروان چڑھا کر پیسے اور موروثیت کو میرٹ بنا دیا۔ الحاق پاکستان کے نعرے میں جب کشش کم ہونا شروع ہوئی تو اقتدار کی خاطر مسلم کانفرنس نے ملٹری ڈیموکریسی کا نعرہ لگا کر سردار عتیق احمد خان نے پاکستانی ڈکٹیٹر جنرل مشرف کو اپنا "محبوب قائد" قرار دیا مگر اب کچھ معاملات ان کے قائد کے اختیار میں بھی نہ تھے۔

مسلم کانفرنس کی جگہ مسلم لیگ ن کو لایا گیا اور اس کی جگہ اب علاقائی رائے شماری کے ذریعے کشمیری تشخص کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی خاطر پی ٹی آئی کو لایا گیا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ پی ٹی آئی اقتدار اور ریاستی وحدت کے درمیان کس کا انتخاب کرتی ہے۔ یہ وقت ہی بتائے گا کہ عمران خان کے آگے ایک ہفتہ سے جاری بیرسٹر سلطان محمود کا سٹینڈ محض وزارت اعظمہ کے لیے ہے یا وہ آزاد کشمیر کو صوبہ بنانے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اگر سلطان محمود نے آزاد کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کے خلاف سٹینڈ لیا تو وہ یقیناً تاریخ میں ہیرو کہلائیں گے اور اگر نظریہ ضرورت کا شکار ہو گئے تو ان کا حشر بھی نام نہاد مجاہد اول اور سالار جمہوریت جیسا ہو گا۔

ماموں راجہ سیداللہ خان 1972 اور چچا چئیرمن محمد خان 1978 میں ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔ اس طرح نظریاتی سیاست وادی بناہ میں مکمل ختم ہو گئی ۔ وادی بناہ میں ریاستی وحدت کی سوچ ایک بار پھر اس وقت واپس انا شروع ہوئی جب پروفیسر راجہ ظفر خان حال لوٹن برطانیہ اور راقم لبریشن فرنٹ میں شامل ہوئے۔ لیکن ہم دونوں بیرون ملک تھے۔ راقم 1984 میں بھارتی سفارتکار مہاترے کیس میں برطانیہ میں گرفتار ہو گیا اور 22 سال تک ماورائے عدالت قید کاٹ کر جب واپس آیا تو ہمارے قبیلے کی ایک بڑی تعداد ہمارے ایک رشتہ دار راجہ نثار احمد خان کی قیادت میں نظریہ ضرورت کی اسیر نظر ائی۔ راجہ نثار احمد خان بھی ملک نواز کے ساتھ دوران تعلیم شاہی قلعہ لاہور کی ہوا کھا چکے ہیں مگر دونوں سرعام اور سر محفل حالیہ الیکشن تک تسلیم کرتے رہے ہیں کہ وہ جو وعدے شاہی قلعہ میں کر آئے تھے ان پر قائم ہیں۔

حالیہ الیکشن کے بعد سننے میں ا رہا ہے کہ اب وہ نظریاتی سیاست کی مخالفت کو غلط قرار دے رہے ہیں۔  وادی بناہ میں نظریاتی سیاست جب پروفیسر ظفر خان اور راقم کے ذریعے واپس آنا شروع ہوئی تو سابق وزیراعظم سکندر حیات نے ہمارے قبیلے پر دباؤ ڈالا کہ ان نوجوانوں کو روکو بلکہ اندرون خانہ مخالفت میں اتنے دور چلے گئے کہ برطانوی حکومت نے یورپی انسانی حقوق کی عدالت میں میرے کیس کو لٹکانے کے لیے جب لیگل ایڈ بند کر دی تو سکندر حیات سے بطور وزیر اعظم لبریشن سیل جو بنا ہے تحریک آزادی کے لیے تھا سے وکلاء کی فیس مانگی گئی جو دینے سے انکار کردیا گیا۔

اللہ نے میرے لیے اور وسیلے پیدا کر دیے۔ وطن واپس آنے پر میرے قبیلے نے مجھے برداشت تو کیا مگر قبیلہ سیاست اس قدر زور پکڑ چکی تھی کہ راجہ نثار احمد خان اور میری ایک ساتھ حمایت رسک تھا۔ حالانکہ میں الحاق کی شق پر دستخط کر کے الیکشن لڑنے کے اس وقت نہ آج حق میں ہوں۔ البتہ اب نصف صدی تک اقتدار کے مزے لینے والے بھی تسلیم کرنے لگے ہیں کہ نظریہ ضرورت کے تحت سیاست کرنے والے سیاستدانوں کا کوئی مستقبل ہے، نہ تاریخ میں نام اور عزت۔ کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ جب آقاؤں کی ضروریات بدلتی ہیں تو وہ مہروں کو بھی بدل دیتے ہیں جبکہ اپنے نظریات اور قوم و وطن سے وفا کرنے والے قربان تو ہو جاتے ہیں مگر تاریخ میں زندہ رہتے ییں۔

نظریاتی سیاست زندہ باد۔