امید کا بیانیہ یا مایوسی کا؟
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 04 / اگست / 2021
- 7730
ن لیگ میں بیانیے کا ایشو آج پیدانہیں ہوا، عرصہ دراز سے ہے۔ البتہ ان دنوں کھل کر میڈیا میں زیر بحث آ گیا ہے۔ بالخصوص شہباز شریف کے حالیہ انٹرویو اور نواز شریف کے ٹویٹ نے اسے خوب بڑھاوا دیا ہے۔
بنیاد اس کی آزاد کشمیر اور سیالکوٹ کے انتخابی نتائج بنے ہیں۔ حکومتی جلسوں کی بے رونقی کے بالمقابل مریم نواز کے بھرپور عوامی جلسوں اور ان میں عوامی جوش وخروش سے پارٹی حلقوں میں جو امیدیں بندھی تھیں جیسے تیسے انتخابی نتائج نے ان پرپانی پھیر دیا۔ اس سے فوری یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا کہ تمامتر عوامی پاپولیرٹی کے باوجود اگر نتائج طاقتوروں کی خواہشات کے عین مطابق نکلنے ہیں تو پھر کیا گارنٹی ہے کہ 2023 میں اسٹیبلشمنٹ یا طاقتور 2018 کی تاریخ نہیں دہرائیںگے؟ 2018 کی دھاندلی کےبعد زور و شور کے باوجود آپ لوگ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے۔ ذرا سوچ لیں 2023 میں اگر یہی مشق دہرائی جاتی ہے تو آپ لوگ کون سی توپیں چلائیں گے یا طوفان لے آئیں گے؟
پستی یا پسپائی کی یہ حالت ہو گئی ہے کہ پارٹی صدر میڈیا کے سامنے یوٹرن لیتے ہوئے 18 کی ناکامی کو دھاندلی کہنے کی جرأت بھی نہیں کر پاتے بلکہ اپنے ہی سر منڈھتے ہوئے اسے اپنی حکمت عملی کا فقدان قرار دے رہے ہیں۔ حکمت عملی کا کیا فقدان تھا؟ اس کی وضاحت انہوں نے نہیں کی۔ انٹرویو کرنے والے کو اس کی تفصیل ان کے منہ سے نکلوانی چاہیےتھی۔
ان انتخابات سے پہلے جس طرح پارٹی قائد بیمار بیوی کو چھوڑتے ہوئے اپنی بیٹی کے ہمراہ واپس وطن آ گئے تھے۔ درویش کو ان کا یہ اقدام غیر ضروری بلکہ ناعاقبت اندیشانہ لگا تھا اور اپنے تحفظات جہاں تک پہنچا سکتا تھا پہنچائے بھی تھے۔ یہ اسی غلطی کا خمیازہ تھا جو بعد ازاں انہیں لینے کے دینے پڑ گئے۔ بلاشبہ وہ موت کے منہ میں جا سکتے تھے اور پھر بالآخر کن مشکلات سے گزر کر انہیں محفوظ مقام پر جانا پڑا۔ حالات سدھرنے تک آئندہ وہ یقیناً ایسی غلطی یا کوتاہی نہیں دہرائیں گے۔
بھڑوں کے چھتے میں ان کے یوں داخل ہونے سے انتخابی نتائج پر کوئی فرق پڑنا تھا نہ پڑا۔ کیونکہ عوامی رابطہ ان کے لئے ناممکن بنا دیا گیا تھا۔ البتہ آج یہ محسوس ہو رہا ہے کہ اگر وہ نہ آئے ہوتے تو مفاہمتی بیانیہ کے حاملین نے جو آج اپنی ’’ناقص حکمت عملی‘‘ کو طعنہ دے رہے ہیں۔ کھلے بندوں یہ کہنا تھا کہ ہم اس لئے ہارے ہیں کہ ہمارا قائد ملک میں ہونے کی بجائے لندن بیٹھا ہوا تھا۔
ہمارے مصور پاکستان تو یہ فرما گئے ہیں کہ:
فتنہ ملت بیضا ہے امامت اس کی
جو مسلماں کو سلاطیں کا پرستار کرے
یہاں ’’سلاطیں‘‘ سے ان کی مراد وہ طاقتور جابر اصل حکمران ہیں جو کسی آئین یا قانون قاعدے کے پابند نہیں بلکہ ماورا رہتے ہیں۔ شاید انہی کے لئے فی زمانہ خلائی مخلوق کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ شاعر مشرق کو شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ جس لیگ اور اس کی قیادت سے اس نوع کی انقلابی امیدیں لگائے بیٹھے تھے، وہی برٹش سلاطین سے لے کر جاٹ تاجداران تک کی کاسہ لیسی کرے گی۔ ایک بندہ اگر تین مرتبہ پاپولر عوامی اعتماد حاصل کرنے کے بعد بھی خود کو اپنے تمامتر ووٹوں سمیت سلطانی بوٹوں تلے پائے تو اس بے بسی و کسمپرسی کے خلاف جو عوامی بیانیہ اپنائے گا اس کی مشکلات اقبال نے اپنی نظم ’’امامت‘‘میں بیان کر دی ہیں۔
درویش نے انہی مشکلات کو پیشگی محسوس کرتے ہوئے چند روز قبل میاں صاحب کو مشورہ دیا کہ آپ کی قوم اور آپ کی پارٹی ان تلخیوں کو جھیلنے کا یارا نہیں رکھتی لہٰذا آپ ہی اپنے بیانیے میں تھوڑی لچک پیدا کر لیں۔ ہمارے جیسے حیلے ساز اور ابن الوقت لوگوں کے لئے ایسا عظیم المرتبت بیانیہ ہو ہی نہیں سکتا۔ افسوس میڈیا پر جس نوع کی قدغنیں ہیں ان کی وجہ سے اخبار والوں کی اپنی مجبوریاں ہیں کہ وہ اصل یا پوری بات چھاپ ہی نہیں سکتے۔ یوں جو ادھوری چھپتی ہے اس سے احباب میں کئی نوع کی غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں جیسے کہ ان طنزیہ جملوں سے ہوئیں اور دوستوں کی طرف سے کئی سوالات پوچھے گۓ ہیں۔ مایوسی کی یہ آوازیں اپنے اندر ایک کربناک تاریخ رکھتی ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ مسلم لیگ نواز سلیم اللہ کے وقت سے کبھی کوئی انقلابی یا نظریاتی پارٹی نہیں رہی جسے شک ہےوہ اس کے قیام پر جاری ہونے والا بیانیہ ایک مرتبہ پھر پڑھ لے۔ شاید اس کی بڑی وجہ مجبوری حالات کے ساتھ ہمارے عامۃ الناس کا انداز فکر بھی ہے یہاں تو ایک وزیراعظم جو خود کو انقلابی خیال کرنے لگا تھا، پھانسی پر چڑھا دیا گیا جس کا خیال تھا کہ دریا سرخ ہو جائیں گے مگر کسی دریا کی طغیانی میں کوئی فرق نہ آیا۔ جھوٹی سچی انقلابی پارٹی کے دعویداروں کا یہ حال ہے تو شہبازی پرواز سے ہم کیا توقعات رکھ سکتے ہیں۔ یہ کہ اسی تنخواہ پر نوکری کریں کھائیں پئیں اور مر جائیں۔
میاں صاحب اپنے بیانیے کی صورت نئی تمناؤں اور امیدوں کے ساتھ جو پیغام لے کر اٹھے ہیں یقین نہیں آتا کہ ایسی چنگاری بھی یارب ہمارے خاکستر میں تھی ۔ ہماری پچھلی سو سالہ لیگی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ جبر وطاقت کی دہشت و وحشت کے بالمقابل آئینی بالادستی اور عوامی حاکمیت کو ووٹ کی قوت سے منوانے کی ایسی جسارت اور یہ ولولہ ہوشربا ہے، جو طاقتور بیرکوں سے ٹکرانے کوتیار ہے۔ اس کے کچھ تقاضے ہمارے دوست سید مجاہد علی نے بیان کئے ہیں اور کچھ کی طرف یہ ناچیز توجہ دلانا چاہتا ہے۔
میثاق جمہوریت کی طرح آج اگر آپ نے قومی سطح پر ’’میثاق عوامی حاکمیت‘‘ منوانا ہے تو اس کا اولین تقاضا یہ ہے کہ وطن عزیز میں تمام چھوٹی بڑی پارٹیوں کو اس ایک نکتے پر اپنے ساتھ ملائیں۔ پی ڈی ایم یعنی ’’پاکستان تحریک جمہوریت‘‘ کی صورت ایک پلیٹ فارم ماقبل تشکیل پا چکا ہے۔ پی پی کے جانے سے اس میں جو مایوسی آئی ہے کچھ نئے لوگوں کو شامل کرتے ہوئے اس مایوسی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ پی پی اگر الگ ہوئی ہے تو اس میں اگرچہ مسئلہ ان کے اپنے مسائل و مفادات کا تھا لیکن جواز خود حضرت مولانا کی شتابی نے فراہم کیا جسے قابو میں رکھنا آپ کی ذمہ داری بنتی تھی، جو ادا نہیں کی گئی۔ جمہوری پراسس پر یقین رکھنے والا کوئی بھی شخص یک رخے اسلوب میں اس نوع کا مطالبہ نہیں کر سکتا کہ منتخب اداروں سے مستعفی ہو کر محض احتجاجی سیاست پر اکتفا کر لیا جائے۔
یہ سوچ ہی غیر جمہوری اور ناقابل عمل ہے۔ آئندہ کے لئے بھی آپ یہ بات پلے باندھ لیں۔ آپ کیسی ہی شدید احتجاجی تحریک اٹھانے میں کامیاب ہو جائیں جیسے تیسے انتخابی پراسس میں کمزوری و کوتاہی آپ کے کئے دھرے کو برباد کر دے گی۔ جمہوری الذہن کوئی بھی شخص اپنے انتخابی حلقے کو یوں مخالفین کیلئے کھلا چھوڑنا قبول نہیں کر سکتا۔ یہ تو دانستہ اس کی سیاسی موت یا خود کشی کا علامیہ ہو گا۔
آپ طاقتوروں کی چھپی اور ننگی مداخلت کا رونا پیہم روتے ہوئے اپنے سیاسی مخالفین کی ناکامیوں اور کوتاہیوں کو بھی پروپیگنڈے کی صورت خوب اچھالیں لیکن خوبصورت نعروں کے ساتھ اپنا تعمیر و ترقی اور عوامی خوشحالی کا پروگرام اپنے عوام کے سامنے یوں پیش کریں کہ اس حالت مایوسی وپسپائی میں انہیں آپ کا داعیہ یا بیانیہ ہی امید کی آخری کرن محسوس ہو۔ آئندہ بلدیاتی انتخابات کو چیلنج سمجھتے ہوئے آپ اپنے لوگوں کو خوبصورتی سے کامیابی دلا سکتے ہیں اور یہی لوگ آگے چل کر آپ کی تحریک اور انتخابی دنگل میں ہراول دستہ ثابت ہوں گے۔ یہ امید پیش نظر رہے کہ حالات پلٹتے پتہ نہیں چلتا بشرطیکہ انسان یکسوئی سے سٹینڈ لے۔ عالمی سطح پر ایسی تبدیلیاں آنے والی ہیں جواندرونی و بیرونی دباؤ کی صورت خود طاقتوروں کو آپ کے بیانیے پر آنے، عوام اور آئین کے سامنے سرنگوں ہونے پر مجبور کر سکتی ہیں۔ بصورت دیگر بھی آپ عوام اور تاریخ کے سامنے سرخرو ہوں گے۔