چیف جسٹس نے رحیم یار خان میں ہندو مندر پر حملے کا ازخود نوٹس لے لیا

  • جمعرات 05 / اگست / 2021
  • 3150

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے رحیم یار خان میں ہندو مندر پر حملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکریٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس  کو نوٹس جاری کردیا۔

سپریم کورٹ کے اعلامیے میں کہا گیا کہ رکن قومی اسمبلی اور پیٹرن انچیف پاکستان ہندو کونسل ڈاکٹر رمیش کمار نے سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد سے ملاقات کی اور رحیم یار خان کے گاؤں بھونگ میں ہندو مندر پر حملے کے مسئلے پر تبادلہ خیال کیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے افسوس ناک واقعے پر تشویش کا اظہار کیا۔

سپریم کورٹ کے مطابق مسئلے کا ادراک کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان نے معاملے کی سماعت 6 اگست بروز جمعہ سپریم کورٹ اسلام آباد میں مقرر کردی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ چیف جسٹس گلزار احمد نے چیف سیکریٹری پنجاب، آئی جی پنجاب کو رپورٹ کے ساتھ طلب کرلیا ہے اور پاکستان ہندو کونسل کے پیٹرن انچیف اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار کو بھی پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔

قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے ہندو مندر پر حملے کا نوٹس لیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کو اس معاملے کی تحقیقات کر کے مجرمان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے پاکستان کا آئین اقلیتوں کو آزادی اور تحفظ فراہم کرتا ہے تاکہ وہ اپنی عبادت کو آزادانہ طور پر انجام دے سکیں۔

خبروں کے مطابق 9 سالہ بچے کے مبینہ طور پر مدرسے میں پیشاب کرنے اور اسے مقامی عدالت سے ضمانت ملنے کے بعد بھونگ ٹاؤن میں سینکڑوں افراد نے ہندو مندر میں توڑ پھوڑ کی اور سکھر ملتان موٹروے (ایم-5) بلاک کردی تھی۔ ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر خرم شہزاد اور ضلعی پولیس افسر کے دورے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے علاقے میں رینجرز تعینات کردی تھی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ دارلعلوم عربیہ تعلیم قرآن کے ایک معلم حافظ محمد ابراہیم کی شکایت پر بھونگ پولیس نے بچے کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295اے کے تحت 24 جولائی کو مقدمہ درج کیا تھا۔ کچھ ہندو عمائدین نے مدرسے کی انتظامیہ سے یہ کہتے ہوئے معافی مانگی تھی کہ ملزم کم عمر ہے اور ذہنی طور پر بیمار ہے۔

تاہم مقامی عدالت نے چند روز قبل اسے ضمانت دی جس کے بعد کچھ افراد نے علاقے کے عوام میں اشتعال پھیلایا اور تمام دکانیں بند کروادیں۔ وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کلپ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مشتعل افراد ڈنڈوں اور سلاخوں سے مندر کے شیشے، کھڑکیاں، لائٹیں اور پنکھے توڑ رہے ہیں۔

ضلعی پولیس ترجمان احمد نواز چیمہ نے کہا کہ گڑ بڑ والے علاقے میں رینجرز تعینات کردی ہے اور صورتحال قابو میں ہے۔ پولیس حکام کے مبینہ تاخیر سے ایکشن لینے کے بارے میں ذرائع نے بتایا کہ سینئر عہدیدار یومِ شہدائے پولیس کی تقریبات میں شرکت میں مصروف تھے۔

احمد نواز چیمہ نے تصدیق کی کہ ملزم بچہ ہے اور ابھی تک اس کی ذہنی حالت کے بارے میں کوئی معلومات نہیں۔ کچھ رپورٹس یہ بھی ہیں کہ مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان پیسوں کا کوئی جھگڑا تھا جو اس واقعے کی اصل وجہ بتایا جارہا ہے۔

دریائے سندھ پر سندھ اور پنجاب کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے بھونگ میں متعدد سونے کے تاجر رہائش پذیر ہیں جن کا تعلق سندھ کے اضلاع گھوٹکی اور ڈہرکی سے ہے۔ اقلیتوں کی نمائندگی کرنے والے پاکستان تحریک انصاف کے ایک رکن نے نام نہ ظاہر کرنے کی خواہش پر بتایا کہ جب سے یہ واقعہ ہوا ہے وہ مقامی ہندو برادری اور بھونگ کے بااثر رئیس خاندان سے رابطے میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بچے کو سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے رحیم یار خان کی ضلعی جیل بھیجا گیا تھا، بعدازاں 4 روز قبل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے اس کی ضمانت منظور کرلی تھی۔ رئیس خاندان نے اس مسئلے کو خوش اسلوبی سے حل کرلیا تھا لیکن سومرو قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی شخص نے اقلیتی برادری کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی جس کے نتیجے میں اشتعال پھیلا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھونگ مارکیٹ بند کروانے کے بعد ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کے کچھ گھروں پر بھی حملہ کرنے کی کوشش کی گئی۔