جونیئر جج کو ترقی کی حمایت کرنے والے ججوں کو الوداعی تقریب نہ دینے کا فیصلہ

  • جمعرات 05 / اگست / 2021
  • 5260

وکلا برادری نے سندھ ہائی کورٹ کے جونیئر جج کے سپریم کورٹ میں تقرری کی حمایت کرنے والے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے ججز کی ریٹائرمنٹ پر الوداعی تقریب منعقد نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جے سی پی کے رکن کی حیثیت سے بعض ججز نے سندھ ہائی کورٹ کے جونیئر جج کی حالیہ ترقی کی حمایت کی تھی۔  یہ فیصلہ بار کونسلز اور ایسوسی ایشنز کے نمائندہ اداروں کے مابین ساڑھے تین گھنٹے طویل اجلاس میں منظور کی گئی 10 نکاتی قرارداد کا حصہ ہے۔

اجلاس کی صدارت پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین خوشدل خان نے کی جس میں صوبائی بار کونسلز کے وائس چیئرمین اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹیوں، مختلف بار ایسوسی ایشنز کے صدور اور پی بی سی اور صوبائی بار کونسلز کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

قرارداد کے مطابق نمائندہ ادارہ نہ صرف ججز کی تقرری کے معاملے پر 8 رکنی دوطرفہ پارلیمانی کمیٹی (پی سی) کو مراسلہ لکھے گا بلکہ اس معاملے کو اٹھانے کی درخواست کے ساتھ پی سی اراکین سے ملاقات بھی کرے گا تاکہ انہیں جے سی پی کی نامزدگی کو مسترد کرنے پر راضی کیا جاسکے۔  پی سی بھی آئین کے آرٹیکل 175 'اے' کے تحت جے سی پی کے شانہ بشانہ قائم کی گئی تھی۔

اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ جے سی پی کے اراکین، جنہوں نے 28 جولائی کے اجلاس میں جسٹس محمد علی مظہر کو سپریم کورٹ میں ترقی دینے کی حمایت کی، ان کی ریٹائرمنٹ پر الوداعی عشائیہ نہیں دیا جائے گا۔ ریٹائر ہونے والے ججز کے لیے الوداعی عشائیہ ایک روایت ہے جس کا انعقاد بار کونسل اور ایسوسی ایشنز کرتی ہیں۔

مستقبل قریب میں ریٹائر ہونے والے پہلے جج جسٹس مشیر عالم ہیں جو 17 اگست کو ریٹائر ہو رہے ہیں، 28 جولائی کو جے سی پی نے سندھ ہائی کورٹ کے جونیئر جج جسٹس مظہر کی نامزدگی کو پانچ، چار کی اکثریت سے منظور کیا تھا۔ بلوچستان سے پی بی سی کے سینئر رکن اور جے سی پی میں بلوچستان بار کونسل کے نمائندے ایڈووکیٹ منیر کاکڑ نے اجلاس میں شرکت کے بعد ڈان کو بتایا کہ جمعرات کو پی بی سی، نمائندہ باڈی کے اجلاس کے دوران منظور کی گئی قرارداد کو اٹھائے گا۔

منیر کاکڑ نے اس اجلاس سے پنجاب بار کونسل، پنجاب بار ایسوسی ایشن، راولپنڈی بار ایسوسی ایشن اور ملتان بار ایسوسی ایشن کی عدم موجودگی پر افسوس کا اظہار کیا جس میں ملک کے تمام چھوٹے صوبوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔  ان کی عدم موجودگی قومی ہم آہنگی کے لیے سازگار نہیں ہے کیونکہ اس سے وفاقی اکائیوں میں احساس کمتری اور ناراضگی پیدا ہوئی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ جسٹس مشیر عالم نے 13 جولائی کو سندھ ہائی کورٹ کے جونیئر جج کو سپریم کورٹ میں نامزد کرنے کی مخالفت کی تھی لیکن 28 جولائی کو جے سی پی کے اجلاس کے دوران ترقی کی حمایت کی۔