کشمیریوں سے یک جہتی کے لئے ملک بھر میں یومِ استحصال

  • جمعرات 05 / اگست / 2021
  • 6270

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کو 2 برس مکمل ہونے پر آج پاکستان بھر میں کشمیروں سے اظہار یکجہتی کے لیے یومِ استحصال منایا جارہا ہے۔

5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کو ایک ریاست کے بجائے 2 وفاقی اکائیوں میں تقسیم کیا تھا اور اس کے بعد وادی میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے غیر مقامی افراد کو زمین خریدنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ بھارت نے مقبوضہ وادی میں اپنے جابرانہ اقدامات پر کشمیریوں کی جانب سے کسی بھی مزاحمت سے بچنے کے لیے سخت ترین فوجی محاصرہ کیا گیا تھا جو تاحال جاری ہے۔

پاکستان میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے منائے جانے والے یومِ استحصال کے موقع پر سرکاری سطح پر متعدد پروگرامز تشکیل دیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں صبح 9 بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور ملک بھر کی اہم شاہراہوں پر سڑکوں پر رواں ٹریفک روک دیا گیا۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف حصوں میں واکس اور ریلیوں کا اہتمام کیا گیا جس میں اہم حکومتی شخصیات نے شرکت کی۔ اسلام آباد میں صدر مملکت عارف علوی نے واک کی قیادت کی جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر داخلہ شیخ رشید، وزیر اطلاعات فواد چوہدری، وزیر توانائی عمر ایوب، وزیر ہوا بازی غلام سرور خان، وزیر ریلوے اعظم سواتی، وزیر قانون فروغ نسیم سمیت دیگر وزرا اور اہم حکومتی شخصیات شریک ہوئیں۔ اس موقع پر شرکا نے پاکستان اور کشمیر کے پرچم کے اٹھا رکھے تھے۔

اس موقع پر صدر مملکت نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج وہ دن ہے جب مقبوضہ جموں کشمیر کے عوام نے ہڑتال کا اعلان کیا کیوں کہ بھارت نے اپنے ہی آئین میں دفعہ 370 اور 35 اے کے تحت تبدیلیاں کیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کو تقسیم ہند کے اصولوں پر پاکستان کا حصہ بننا تھا جن کو پامال کیا گیا جس کے نتیجے میں آج تک بھارت نے وہاں ظلم و زیادتی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے کشمیری عوام کو مخاطبب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں اور رہیں گے، جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوتا پاکستان کا کوئی فرد چین سے نہیں بیٹھے گا۔ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے، 30 سے 40 لاکھ غیر کشمیریوں کو وادی کا ڈومیسائل جاری کیا گیا، بھارت اس اقدام کے ذریعے وہاں حالات تبدیل کرنا چاہتا ہے۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کے ذریعے خطے کا استحکام تباہ کررہا ہے۔ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ان کا حق ملنے تک آواز بلند کرتا رہوں گا، پاکستان بھرپور طریقے سے کشمیریوں کا مقدمہ لڑتا رہے گا۔

ٹوئٹر پیغامات میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ آج مقبوضہ کشمیر کے حواے سے 5 اگست 2019 کے بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کو 2 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ ان دو سالوں میں دنیا نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی قابض افواج کا غیر معمولی ظلم و بربریت دیکھ لیا ہے، دنیا کشمیریوں کی شناخت کو تباہ کرنے اور آبادی کے تناسب کو طاقت کے ذریعے بدلنے کی بھارتی کوششوں کو بھی دیکھ رہی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بھارتی حکومت کی طرف سے بھارتی غیرقانونی زیر تسلط جموں کشمیر میں ظلم و بربریت آر ایس ایس کے ہندوتوا نظریے کا تسلسل ہے، آج بھارت اپنے جابرانہ اقدامات اور ریاستی دہشت گردی کے ذریعے خطے کااستحکام تباہ کر رہا ہے جو کہ تمام بین الاقوامی قوانین اور اقدار کی خلاف ورزی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل نے ایک ٹوئٹر پیغام کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ غیر انسانی فوجی محاصرے کا تسلسل، آبادی کے تناسب میں تبدیلیاں لانے کی سازشیں، انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں، بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانیت اور سلامتی سے متعلق بحران کو ہوا دے رہی ہیں جس سے علاقائی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔

خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے کشمیر کے مسئلے کا اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل ناگزیر ہے۔