برطانیہ نے نواز شریف کے ویزا میں توسیع سے انکارکردیا

  • جمعہ 06 / اگست / 2021
  • 3220

برطانیہ کے محکمہ داخلہ نے پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے ویزے کی توسیع کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

نواز شریف نے چھ ماہ قیام کی مدت ختم ہونے پر برطانوی حکومت کو طبی بنیادوں پر ویزے میں توسیع کی درخواست دی تھی البتہ برطانوی امیگریشن حکام نے اسے مسترد کر دیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف کے ویزے میں مزید توسیع سے برطانوی محکمہ داخلہ نے معذرت کی ہے۔ نواز شریف اس فیصلے کے خلاف امیگریشن ٹریبونل میں اپیل کر سکتے ہیں۔

پاکستان کے وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نواز شریف  بیمار نہیں ہیں۔ فواد چوہدری کے مطابق نواز شریف نے جھوٹ بول کر ویزا لیا اور اسی ویزے پر وہ برطانیہ میں مقیم تھے۔ پاکستان کی حکومت، عوام اور پاکستانی کمیونٹی کا برطانوی حکومت سے مطالبہ تھا کہ ایسے لوگوں کو پناہ نہ دی جائے جو اربوں روپے کی بد عنوانی میں ملوث ہوں۔

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کو اکتوبر 2019 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے آٹھ ہفتوں کے لیے طبی بنیادوں پر ضمانت دی تھی اور وہ علاج کے لیے برطانیہ چلے گئے تھے۔ حکومت نے انہیں انسانی بنیادوں پر بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی تھی۔ نواز شریف عدالتوں سے ضمانت کے بعد 19 نومبر 2019 سے لندن میں مقیم ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کے مطابق نواز شریف کی ویزا توسیع کی درخواست پر محکمہ داخلہ نے معذرت کی ہے جس پر نواز شریف کے وکلا نے برطانوی امیگریشن ٹریبونل میں اپیل دائر کر دی ہے۔ ان کے مطابق برطانوی امیگریشن ٹریبونل میں دائر اپیل پر فیصلہ ہونے تک محکمہ داخلہ کا حکم غیر مؤثر رہے گا۔ اپیل پر فیصلہ ہونے تک نواز شریف برطانیہ میں قانونی طور پر رہ سکتے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے جاری اعلامیے کے مطابق جماعت کے صدر اور قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف نے ٹیلی فون پر نواز شریف سے رابطہ کیا اور برطانوی محکمہ داخلہ کے فیصلے سے متعلق بات چیت کی۔ بیان کے مطابق نواز شریف نے شہبازشریف کو قانونی کارروائی سے متعلق آگاہ کیا۔  نواز شریف نے بتایا کہ ان کے وکلا نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔ اپیل میں نواز شریف کی طبی وجوہات اور علاج کی وجہ سے برطانیہ میں قیام کی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔

اس بارے میں حکومت کے ترجمان وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ برطانیہ حکومت نے نواز شریف کے میڈیکل ویزا میں توسیع سے انکار کیا ہے۔ نوازشریف نے برطانیہ سے جھوٹ بول کر ویزا حاصل کیا تھا۔ حکومتِ پاکستان کا برطانوی حکومت سے مطالبہ تھا کہ وہ اربوں روپے کی کرپشن میں ملوث افراد کو پناہ نہ دے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ نوازشریف کے پاس یہ راستہ موجود ہے کہ وہ برطانیہ میں پاکستان کے سفارت خانے جائیں۔ وہاں انہیں عارضی سفری دستاویزات فوری فراہم کی جائیں گی جن پر وہ سفر کرکے پاکستان آئیں۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات کا کہنا تھا کہ نواز شریف پاکستان میں جیل جائیں گے اور ان پر دائر مقدمات کا سامنا کریں گے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ برطانوی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں البتہ یہ اپیل بھی مسترد ہو جائے گی۔ کیوں کہ ان کے پاس کوئی گراؤنڈ نہیں ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ نواز شریف بیمار نہیں ہیں۔ وہ کبھی ہوٹلوں میں جا رہے ہیں اور کبھی کہیں گھوم رہے ہیں۔ وہ برطانوی حکام سے بھی جھوٹ بول رہے ہیں اور ایسے جھوٹ بولنے سے ان کے خلاف وہاں بھی کیس بن سکتا ہے۔ نواز شریف کو چاہیے کہ وہ عارضی سفری دستاویزات لیں اور واپس آکر مقدمات کا سامنا کریں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان اور تحریک انصاف کی نواز شریف سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ پاکستان کے اربوں روپے لوٹ کر ملک سے فرار ہوئے ہیں۔ یہ پیسہ پاکستان واپس لانا ضروری ہے۔ ملک واپس آ کر وہ لوٹا ہوا پیسہ واپس کریں اور اس کے بعد بے شک اپنے گھر میں رہیں۔ صرف یہ راستہ موجود ہے کہ لوٹا ہوا پیسہ واپس کریں یا پھر جیل جائیں۔

فواد چوہدری کے اس بیان پر مریم اورنگزیب نےسوشل میڈیا پر پیغام میں کہا کہ نواز شریف قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے برطانیہ میں ہی قیام کریں گے۔ نواز شریف اس وقت تک برطانیہ میں ہی رہیں گے جب تک ان کا علاج نہیں ہو جاتا اور ڈاکٹر انہیں اجازت نہیں سے دیتے۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ گھبرانے اور جیل جانے کی باری ان کی ہے جو بدعنوانی اور مہنگائی کرتے ہوئے نہیں گھبراتے ۔ جھوٹے الزامات کے باوجود نواز شریف اپنی بیٹی مریم نواز کے ہمراہ وطن واپس آئے اور جیل گئے۔ ان کے بقول انہیں کسی کے مشوروں کی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرائے کے ترجمان دھمکیاں دینے، یاوہ گوئی کرنے، جھوٹے الزام لگانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں اور شرم کریں دوسروں کی صحت پر سیاست کرکے کرائے کے ترجمان اپنی نوکریاں بچا رہے ہیں، بہتر ہوگا زبان کو لگام دیں۔

اس بارے میں برطانیہ میں کام کرنے والے سینئر وکیل بیرسٹر امجد ملک نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی ابھی ویزا توسیع کی درخواست مسترد ہوئی ہے البتہ ان کے پاس ابھی بہت سے آپشن موجود ہیں۔ اس کیس میں نواز شریف کے وکلا نے اپیل دائر کر دی ہے اور اس اپیل کی سماعت میں ہی چھ ماہ سے ایک سال کا وقت لگ سکتا ہے۔ اگر امیگریشن ٹریبونل میں اپیل بھی مسترد ہو گئی تو اس کے بعد نواز شریف اعلیٰ عدالتوں میں اپیل دائر کر سکتے ہیں۔

بیرسٹر امجد ملک نے مزید کہا کہ نواز شریف اس بارے میں ٹریبونل کو آگاہ کر سکتے ہیں کہ انہیں کن بنیادوں پر ویزا میں توسیع دی جائے۔ نواز شریف کے ڈاکٹرز کے بیانات اس بارے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ابھی تک حکومتِ پاکستان نے نواز شریف کی حوالگی یا پھر انٹرپول کے ذریعے ملک واپس لانے کے لیے کوئی کوشش نہیں کی۔ اگر حکومتِ پاکستان ایسی اپیل کرتی ہے تو یہ معاملہ بھی الگ سے دیکھا جائے گا۔ اپیل دائر ہونے کے بعد اس کی سماعت مکمل ہونے تک ان کا یہاں قیام قانونی ہو گا۔