طالبان نے چمن اسپن بولدک پر سرحد بند کر دی
- جمعہ 06 / اگست / 2021
- 5010
افغان طالبان نے پاکستان سے متصل اہم سرحدی گزرگاہ چمن اسپن بولدک کو ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
طالبان کے قندھار کے لیے مقرر کیے گئے گورنر حاجی وفا کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مہاجر کارڈ رکھنے والے افغان شہریوں کو پاکستان میں داخلے سے روکنے کے اقدام کے ردِ عمل میں سرحدی گزر گاہ بند کی جا رہی ہے۔ طالبان کے اس اعلان کے بعد جمعے سے اس اہم گزر گاہ کے ذریعے دو طرفہ تجارتی سرگرمیاں اور پیدل آمد و رفت معطل ہو گئی ہے۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی سرحدی گزر گاہ بند کرنے کے فیصلے کی تصدیق کی ہے۔ طالبان کے اس یک طرفہ اقدام پر اسلام آباد کا تاحال کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔ اسٹریٹجک حوالے سے اہم اسپن بولدک کا علاقہ گزشتہ ماہ طالبان کے قبضے میں آیا تھا اس کے بعد سے اس سرحدی گزر گاہ پر افغانستان کی جانب طالبان تمام انتظامات دیکھ رہے ہیں۔
طالبان نے اسپن بولدک کی سرحدی گزر گاہ کی بندش کے بارے میں جاری بیان میں کہا ہے کہ جب تک رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو پاکستان آنے اور واپس جانے کی اجازت نہیں دی جاتی سرحدی گزر گاہ تجارت سمیت ہر قسم کی نقل و حرکت کے لیے بند رہے گی۔ بیان میں امید کی گئی ہے کہ مسئلے کے حل تک افغان باشندے اور پاکستان کے شہری اس راستے سے سفر سے گریز کریں گے۔
چمناسپن بولدک کی سرحدی گزر گاہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان آمد و رفت اور تجارت کا ایک اہم اور دوسرا مصروف ترین راستہ ہے۔ افغانستان کی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اس راستے سے یومیہ 900 ٹرکوں کی آمد و رفت ہوتی ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان بین الاقوامی تجارت کے لیے پاکستان کی بندرگاہیں اور زمینی راستے استعمال کرنے کے لیے ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ موجود ہے۔ اسی معاہدے کے تحت افغانستان اپنا تجارتی سامان بھارت کو برآمد کر سکتا ہے جب کہ پاکستان کے لیے وسط ایشیائی ممالک تک راہداری تجارت کی سہولت موجود ہے۔
اس دوران افغانستان میں طالبان نے افغان میڈیا اینڈ انفارمیشن سینٹر کے ڈائریکٹر دوا خان مینہ پال کو قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کابل کے دارالامان روڈ پر دوا خان مینہ پال کو نشانہ بنایا گیا۔ افغان میڈیا اینڈ انفارمیشن سینٹر کے ڈائریکٹر کا قتل ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب چند دن قبل دارالحکومت کابل میں افغان وزیرِ دفاع کے گھر کو بھی خود کش حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس حملے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ طالبان نے خبردار کیا تھا کہ وہ فضائی حملوں کے جواب میں افغان حکومت کے اعلیٰ حکام کو نشانہ بنائیں گے۔ دوا خان مینہ پال اس سے قبل افغان صدر ڈاکٹر محمد اشرف غنی کے نائب ترجمان کے طور پر کئی برس تک خدمات انجام دیتے رہے تھے۔
افغانستان کی قومی مصالحت کی اعلیٰ کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے طالبان کی جانب سے دوا خان مینہ پال کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے ایک پیغام میں کہا کہ قتل و غارت، تشدد اور خون ریزی کے ذریعے افغان بحران کو حل نہیں کیا جا سکتا۔