لاہور کے دو صحافیوں کے خلاف سائبر کرائم قانون کے تحت مقدمے

  • ہفتہ 07 / اگست / 2021
  • 6030

لاہور میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے حراست میں لیے جانے والے صحافیوں عامر میر اور عمران شفقت کے خلاف سائبر کرائم کے قوانین کے تحت مقدمات درج کر کے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔

ان دونوں صحافیوں کو ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے سنیچر کی صبح حراست میں لیا تھا جس کے بعد صحافتی تنظیموں اور سوشل میڈیا پر ان کارروائیوں کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ عامر میر آج کل فوجی افسران پر تنقید کی وجہ سے پابندی کا سامنا کرنے والے پاکستان کے سینیئر صحافی حامد میر کے بھائی اور ایک ویب ٹی وی کے سی ای او ہیں۔ جبکہ عمران شفقت بھی ماضی میں متعدد ٹی وی چینلز سے منسلک رہنے کے بعد اب یو ٹیوب پر اپنا چینل چلاتے ہیں۔

سائبر کرائم ونگ لاہور کی  پریس ریلیز کے مطابق دونوں صحافیوں کے خلاف اعلیٰ عدالتی ججوں، پاکستان کی فوج اور خواتین سے متعلقہ تضحیک آمیز رویہ پر مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ پریس ریلیز کے مطابق ان دونوں صحافیوں کے یوٹیوب پر چلنے والے چینلز پر ’ایسے پیغامات اور پروگرام نشر کیے ہیں جس سے قومی سلامتی کے اداروں اور اعلی عدلیہ کی بنیاد کو کمزور کر کے عوام کے ان اداروں پر اعتماد کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی اور مزید برآں خواتین کے ساتھ بھی تضحیک آمیز رویہ رکھا گیا۔‘

پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں ملزمان کو ضمانت پر چھوڑ دیا گیا ہے تاہم تفتیش جاری ہے۔

اس سے قبل صحافی شاہد اسلم سے بات کرتے ہوئے ایف آئی اے حکام نے تصدیق کی تھی کہ دونوں صحافیوں کے فون لے کر ان سے مواد حاصل کیا جا رہا ہے۔  حراست کی وجہ بتاتے ہوئے ایف آئی اے حکام نے کہا کہ 'عمران شفقت پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے چینل پر وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ کے بارے میں پروگرام کیا تھا' جبکہ عامر میر کی حراست کے بارے میں تاحال کوئی وضاحت نہیں دی گئی تھی۔

عامر میر کی جانب سے دیے گئے تحریری بیان میں ان پر عائد تمام الزامات کو مسترد کیا گیا ہے۔ بیان میں ان کا کہنا ہے کہ ان پر ملک کے مفاد کے خلاف کام کرنے کے جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ لغو اور بےبنیاد ہیں اور وہ پاکستان اور اس کے عوام کے مفاد کے تحفظ کے لیے کوشش کرتے رہیں گے۔

ایف آئی اے کی جانب سے تصدیق سے قبل صحافی حامد میر نے اپنی ٹویٹ میں کہا تھا کہ ان کے بھائی عامر میر کو 'اغوا' کر لیا گیا ہے اور ان کا فون اور لیپ ٹاپ چھین لیا گیا ہے۔ اس سے قبل دوپہر ساڑھے بارہ بجے لاہور کے مغل پورہ علاقے سے ایک صحافی اور ولاگر عمران شفقت کو جبراً ان کے گھر سے اٹھا لیا گیا تھا۔