ایک اور طرح کے بھارت کا سامنا
- تحریر خالد محمود رسول
- ہفتہ 07 / اگست / 2021
- 4830
دنیا بھر کے لئے معمول کے مطابق ایک بار پھر 5 اگست کی تاریخ آئی اور گزر گئی، مگر مقبوضہ جمو ں اور کشمیر کے باسیوں کے لئے جیسے پانچ اگست کی تاریخ 2019 میں حنوط ہو کر رہ گئی ہے۔ نئی دہلی میں بیٹھے مودی سرکار کے ایک وزیر جتیندر سنگھ کے بقول جموں اور کشمیر کے باسیوں کو اب اڑنے کے لئے پَر مل گئے ہیں، اب وہ بھارت کی ترقی میں پہلے سے کہیں زیادہ کردار ادا کر سکیں گے۔
دوسری طرف جن کی شناخت اور خودمختاری کے پَر کاٹ دیے گئے ان کی دُہائی بالکل مختلف ہے۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے لیڈر میر واعظ فاروق کا کہنا ہے کہ بھارت اور دنیا کو معلوم ہونا چاہئے کہ بھارت نے اصل میں جموں و کشمیر کا تنازعہ مزید الجھا دیا ہے۔ اس اقدام سے لائن آف ایکچوئل کنٹرول جو چین کے ساتھ سرحدی لائن ہے کے علاقوں میں بھی شعلے بھڑکا دیے ہیں۔ کہاں تو یہ کہ 2019 سے قبل بھارت کو صرف جموں و کشمیر ہی بطور ٹربل سپاٹ کا سامنا تھا مگر آج اسے چار ٹربل سپاٹس کا سامنا ہے: لہہ، کارگل، جموں اور کشمیر۔ مسلسل جبر، خوف و ہراس، میڈیا پابندیوں، گرفتاریوں، مقامی افراد کی حکومتی ملازمتوں سے یکطرفہ برطرفیاں اور اختلافی آوازوں کو دبانے کے باوجود صورت حال کنٹرول سے باہر ہے، اسی لئے بھارت مسلسل زمینی حقائق کو تروڑ مروڑ کر دنیا کے سامنے پیش کرنے پر مجبور ہے۔
میر واعظ فاروق کا کہنا اپنی جگہ بجا ہے کہ جموں و کشمیر کے حل طلب تنازعہ سلجھانے کی بجائے اس نے اس سرحد پر دو نئے تنازعے مزید الجھا دیے ہیں، تاہم بھارت نے جو راستہ اپنے لئے اختیار کیا ہے، خوب سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ ایک عرصے تک بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ ہونے اور مختلف زبانوں اور مذاہب پر مشتمل ایسے ملک کا فخر تھا جہاں سب ساتھ رہتے ہیں۔ جواہر لال نہرو اور بعد ازاں کانگرس سمیت سب بڑی سیاسی جماعتوں نے سیکولر قدر کو اپنے ملک کے استحکام اور نظام کی بنیاد کے طور پر پیش کیا۔ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو سیکولر رویے سے بہت بڑا سیاسی، معاشرتی اور انتظامی سہارا تھا مگر پچھلے تیس سالوں سے بھارت دھیرے دھیرے سیکولر ازم بطور ایک سیاسی، انتظامی اور معاشرتی قدر کے اثرسے بہت دور نکل آیا ہے۔ اب بھارت کی اکثریت ایک ہندو نیشنلزم اور ہندوتوا شناخت کو اپنی پہچان اور منزل بنانے کی خواہاں ہے۔
پیو ریسرچ سنٹر واشنگٹن میں قائم ایک عالمی شہرت کا ادارہ ہے۔ اس ادارے نے اپنے ایک حالیہ مگر بہت اہم اور وسیع سروے کے نتائج پچھلے ماہ شائع کئے ہیں۔ ان نتائج نے بھارت کے بارے میں دنیا کے گمان کو حیران کر دیا ہے۔ سروے کا بنیادی مقصد بھارت میں مذہبی رویوں اور رجحانات کو جانچنا تھا۔ فیس ٹو فیس اس سروے میں تیس ہزار بالغ بھارتی افراد سے سترہ زبانوں میں سوالات پوچھے گئے۔ یہ سروے 2019 کے اواخر اور 2020 کے اوائل کیا گیا، یعنی کووڈ19 سے کچھ پہلے۔ اس سروے کا پھیلاؤ بھارت کے تمام علاقوں میں کیا گیا واضح رہے کہ ہندو آبادی کا تقریباٌ 80% بتائے جاتے ہیں۔ بنیادی نتائج کچھ یوں سامنے آئے۔
64% ہندؤں کا خیال تھا کہ سچا ہندوستانی ہونے کے لئے ہندو ہونا اہم ہے۔ ان میں سے 80% ہندؤں کا خیال ہے کہ سچے ہندوستانی کے لئے ہندی بولنا ضروری ہے۔ دو تہائی سے زائد ہندو مرد اور عورت دونوں کے لئے بین المذاہب شادیوں کے مخالف ہیں۔ سروے کئے گئے مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد بھی اسی خیال کی حامی ہے۔
36% سے زائد ہندو مسلمان پڑوسی نہیں چاہتے البتہ 58% اپنے پڑوس میں مسلمان خاندان کے لئے تیار تھے۔ 48% مسلمانوں کا خیال تھا کہ تقسیم ہند ہندو مسلم تعلقات کے حق میں بہتر ثابت نہیں ہوئی، البتہ 30% کا خیال تھا تقسیم ہند بہتر فیصلہ تھا۔ 70% سروے کئے گئے لوگوں کی دوستی اپنی ذات اور مذہب کے لوگوں کے ساتھ ہے۔
نتائج کی تفصیل بہت سے چشم کشا موجود رجحانات اور رویوں کی عکاس ہے، یہی رجحانات اور رویے روزمرہ سیاسی، مذہبی، انتظامی و کاروباری اور معاشرتی زندگی کو تشکیل کر رہے ہیں۔ ان رویوں میں اقلیتوں کے بارے میں اکثریتی رجحان سیکولر نہیں بلکہ مذہب کی چھاپ اور شناخت پر مبنی ہے۔ یہ رویے اقلیتوں کے لئے پریشان کن ہیں، بالخصوص جب ایک ایسی سیاسی جماعت حکومت میں ہو جو مذہبی شناخت اور ایسے نیشلنزم کی حامی ہوں جس میں مذہبی شناخت اور اس سے جڑی زبان بنیادی قدر سمجھی جائے۔
اس تناظر میں یہ سمجھنا بھی آسان ہے کہ گجرات سے گزشتہ سال ہوئے دہلی کے مذہبی فسادات تک میں پولیس خاموش تماشائی کیوں رہی، بلکہ اکثر موقعوں پر بلوائیوں کا ساتھ دینے کے باوجود ان سے باز پرس نہیں ہوئی۔ ہندو بلوائیوں کا بعد میں گجرات اور دہلی سمیت تمام بلوؤں میں ہمدردانہ پولیسنگ، تفتیشی اور عدالتی نظام سے صاف چھوٹ جانا انہی رویوں کا شاخسانہ ہے۔ نصاب کی کتابوں میں ہندو نیشنلزم کی باقاعدہ تعلیم اور ترویج، حکومتی ملازمتوں اور اداروں، حتیٰ کہ اعلی عدلیہ میں ہندو شناخت اور رویوں کے حامیوں کی سالہا سال سے بھرتیاں نظام کو اب اس مقام پر لے آئی ہیں کہ اکثریت کا سکہ ہر جگہ دھڑلے سے چلنے لگا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ لاکھ سر پٹخیں کہ بھارت میں جموں و کشمیر ایک عقوبت خانہ بن چکا ہے، انسانی حقوق پیروں تلے روندے جا رہے ہیں، ملک میں اقلیتیں اور نچلی ذات کے لوگ خوف و ہراس اور دوہرے سلوک کا شکار ہیں مگر کون سنتا ہے؟ بی جے پی، اس کی نظریاتی پارٹیاں اور مددگار میڈیا اب ملک کو سیکولر بھارت کی بجائے ہندو نیشنلزم کی شناخت دینے میں کامیاب ہو رہی ہیں۔ کانگرس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں، اکیڈمک، اختلاف رائے کے حامی دانشوروں اور بائیں بازو کی آوازیں کمزور پڑ رہی ہیں۔ دنیا کی بڑی طاقتوں کو بھی بھارت کی معاشی، سیاسی اور دفاعی افادیت اس قدر نظر آ رہی ہے کہ باقی سب کچھ اوجھل ہو گیا ہے۔ کشمیریوں اور پاکستان کو اب ایک نئی طرح کے بھارت کا سامنا ہے!