قومی وقار کا احساس و ادراک ؟
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 07 / اگست / 2021
- 9740
پنجابی محاورہ ہے کہ جوپنڈ یا گاؤں میں نکمے ہوتے ہیں وہ شہر میں بھی نکمے ہی رہتے ہیں یا جو گھر والوں کے ساتھ اچھائی کرنے کے قابل نہیں ہوتے وہ باہر والوں کے ساتھ بھی نہیں کر پاتے۔
قومی حوالے سے اس وقت ہماری داخلہ پالیسیاں جس قدر خراب ہیں خارجہ پالیسی یا بیرونی محاذ پر بھی ہم اسی قدر ناکامی کا شکار ہیں۔ ہم نے اپنی خارجہ پالیسی میں جس چیز کو ترجیحات میں سرفہرست رکھا ہوا ہے یا جو ہماری خارجہ پالیسی میں محور ہے اگر وہی غلط یا ٹیڑھا ہے تو پھر ہماری فارن پالیسی کیوں کمزور اور ناکام ثابت نہیں ہو گی؟ ہماری اس ننگی حماقت کی سمجھ پوری دنیا کو ہے مگر خود ہمیں دکھائی نہیں دے رہی تو اس کی وجہ ہمارے یہاں جبر کی حکمرانی ہے۔ کہنے کو یہ ایک آزاد سوسائٹی اور جمہوری ملک ہے مگر درحقیقت اس گھٹن زدہ سماج میں کنٹرولڈ ڈیموکریسی اور کنٹرولڈ میڈیا کے ذریعے عقل و شعور کی بات اٹھانا مشکل تر بنا دیا گیاہے۔ رطب ویابس جو مرضی لکھو کوئی مسئلہ نہیں، سیاسی سماجی یا مذہبی جتنی مرضی منافرت پھیلائو کوئی ایشو نہیں۔ بھائی جہالت کی بنیاد پر بہن کو اس کے برابر وراثتی حق سے محروم کر دے، سوسائٹی کی نظر میں کوئی مسئلہ نہیں حتیٰ کہ وہ غیرت کے نام پر اس کا قتل بھی کر دے تو کون سا پھانسی لگ جانا ہے۔ کچھ مدت بعد صلح صفائی اور معافی تلافی کے بعد سب کچھ ہضم، یہ کہ گھر کی بات تھی گھر میں طے ہو گئی۔
یہاں میل شاونزم کے ساتھ ساتھ مسلم شاونزم کا یہ حال ہے کہ جس بلاسفیمی کے نام پر آپ دوسروں کا جینا حرام کر دیتے ہیں ان کے خون کی ہولی کھیلتے ہیں، اس جھوٹ کے بالمقابل آپ سچ مچ گھٹیا کرتوت دکھائیں، دوسروں کی عبادت گاہوں میں گھس کر چاہے ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں، ان کے مقدسات کو پائوں تلے روند ڈالیں مگر کوئی لگام ڈالنےوالانہیں۔ چار دن نمائشی بیان بازی ہو گی اس کے بعد ہرچیز گول۔ بدتر ظلم و زیادتی پر بھی مٹی ڈالو، ابھی جو کچھ پنجاب کے ایک مندر میں ہوا ہے کیا یہ پہلا یا آخری سانحہ ہے؟
بات شروع ہوئی تھی ہماری خارجہ پالیسی کے محور سے جس کے گرد ہماری پوری خارجہ پالیسی پچھلی سات دہائیوں سے گھوم رہی ہے اور یہ ہے مسئلہ کشمیر اور اس کے ساتھ جڑا انڈیا دشمنی کا ناسور، جس نے ہمیں پوری دنیامیں ابنارمل، جنونی اور بیمار ذہنیت مشہور کروا رکھا ہے۔ ہمارے جو مقدس دوست ہیں وہ بھی ہماری احمقانہ سوچ کے ساتھ کھڑے ہونے اور خود کو ہولا ثابت کروانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ دہائیوں سے ہم گلے پھاڑ پھاڑ کر اپنی شاہ رگ کے لئے نعرہ زن ہیں یہ کہ کشمیر بنے گا پاکستان لیکن آج خود ہمارا وزیراعظم ہمارے آزاد کشمیریوں کے بیچ کھڑا ہو کر نئے پاکستان کا نیا نعرہ لگاتا ہے اوربھرپور داد وصول کرتا ہے کہ کشمیریو ! ہم دوسرا ریفرنڈم کروائیں گے اس بات پر کہ آپ نے پاکستان کے ساتھ رہنا ہے یا آزاد و خود مختار۔
بندہ پوچھے بھائی آپ نے لڑ مر کے، اتنا خون خرابہ کروا کے آخر کار اگر یہی کچھ کرنا ہے تو سو پیاز یا کچھ اور کھانے کے تکلف کی ضرورت کیا ہے؟ سیدھے سبھاؤ اپنے اس اصل نکتے پر کیوں نہیں آ جاتے صاف کہو کہ ’’کشمیر نے گا پاکستان‘‘ کا نعرہ محض ایک سیاسی چال یا ڈھکوسلہ ہے اور اگر یہ پاکستان کی شہ رگ ہے تو پھر ہم اسے اپنے وجود سے کاٹتے ہوئے الگ یا آزاد کیسے کر سکتے ہیں؟ اہل نظر یہ سوال بھی پوچھتے ہیں کہ جس کی شہ رگ 70 سالوں سے دشمن نے دبوچ رکھی ہو، وہ اتنے طویل عرصے تک زندہ کیسے رہ سکتا ہے؟
ایک طرف آپ سب لوگ اقرار کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان بھی تمام تر حوالوں کے ساتھ کشمیر کا حصہ ہے۔ دوسری طرف آپ اسے پاکستان کا پانچواں صوبہ ڈیکلیئر کرنے کیلئے پوری تیاری کئے بیٹھے ہیں اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے آپ وہاں کے عوامی جلسوں میں یہ خوشخبریاں سنا چکے ہیں۔ اور اس کی بنیاد پر انتخابی معرکے جیت چکے ہیں ہمارے طاقتور خود اس کی حمایت میں دلائل کے انبار لگارہے ہیں سیپیک کے ریفرنس سے شہد جیسے دوست کے مطالبات اور مجبوریاں بھی گنوا چکے ہیں۔
درویش آپ کی ان تمام باتوں میں سے کسی ایک کا بھی انکاری نہیں ہے۔ یہ بدلتے وقت کے ساتھ امڈتے حقائق ہیں جن کا ادراک پاکستانی عوام کو بھی ہونا چاہیے۔ آپ کو یہ سب باتیں عوام میں زیر بحث آنے دینی چاہیں۔ ہمارے اخبارات کو بھی کہیے کہ یہ تمام مباحث اب شائع ہونے دو لیکن ساتھ ہی درویش یہ کہتا ہے کہ اس سب کے بعد پانچ اگست کا غیر ضروری پیچھا کرنا چھوڑ دو۔ جس طرح آپ کو اپنے بدلے ہوۓ حالات کے مطابق اپنے زیر قبضہ حصے میں انتظامی اہتمام کا حق ہے، اس طرح اگر ہمارے ہمسائے نے بھی اپنا یہ انتظامی حق استعمال کیا ہے تو اس پر جعلی شورو غوغا کرنے اور اپنے عوام کو بیوقوف بنانے کی ضرورت کیا ہے؟
ایک ارب تیس کروڑ عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ اگر اپنے آئین میں ترمیم کا حق رکھتی ہے تو بائیس کروڑ کی نمائندہ پارلیمنٹ کو بھی اس نوع کے تمام تر معاملات میں سوچ بچار اور فیصلوں کا پورا اختیار ہونا چاہیے۔ اگر ہماری موجودہ پارلیمنٹ متنازعہ ہے تو اگلی غیر متنازعہ پارلیمنٹ کیلئے ابھی سے اہتمام کر لیا جائے لیکن ایسے تمام کلیدی فیصلے پارلیمنٹ میں ہونے چاہئیں۔ اپنی پالیسیوں کا تو یہ حال ہے کہ پاکستان کا وزیر تجارت قومی مفاد میں ہندوستان سے تجارتی تعلقات بحال کرنے کے لئے فیصلہ کرتا ہے اتنے بڑے اور جوہری فیصلے کی ابھی سیاہی خشک نہیں ہوتی، تو وہی شخص اگلے روز بطور وزیراعظم وہ فیصلہ واپس لے لیتا ہے۔ انڈیا سے تجات کھولنا ایک دن پہلے پاکستانی عوام کے مفاد میں ہے تو دوسرے دن اسے بے معنی و لاحاصل کشمیر پالیسی سے نتھی کرتے ہوئے عوام دشمنی قرار دے دیا جاتا ہے۔
اس کے بعد ہم غصہ نکالتے ہیں کہ حملہ آور بھارتی پائلٹ، ابھی نندن کی شتابی میں واپسی اور ہماری اتنی زیادہ منتوں سماجتوں کے باوجود نریندرا مودی ہمارے ساتھ فون پر بات تک نہیں کرتا۔ ایک چائے بیچنے والابھی آخر ہمیں اس قابل کیوں نہیں سمجھتا ، کبھی سعودی ولی عہد ہمیں اپنے طیارے سے ا تار دیتا ہے تو ہم اس پر بھڑاس نکالنے لگتے ہیں۔ کبھی ہمسایہ برادر ملک کا صدر اشرف غنی ہمیں تھوڑا آئینہ دکھا دیتا ہے تو ہم اس پر ابلنے لگتے ہیں اور اس کے سکیورٹی ایڈوائزر کی اپوزیشن قائد کے ساتھ ملاقات پر فضول کہانیاں گھڑتے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں داسو میں جو 9 چینی انجنئیر ہلاک ہوۓ ہیں، اس سانحہ پر ہماری حکومت اور وفاقی وزراء نے جس طرح پینترے بدلے اور مابعد چائینہ میں جو پیشیاں ہوئیں، حال ہی میں جنرل باجوہ کو جس طرح سی پیک سے جس طرح ہٹایا گیا ہے اور اس پر چین کے حوالے سے جو چہ مگویاں ہو رہی ہیں، اس میں قومی وقار کی جو رسوائی ہو رہی ہے، کیا کسی کو اس کا احساس ہے؟
آج ہمارا غصہ امریکی صدر جوبائیڈن پر ہے جو اتارے نہیں اتر رہا بھلا یہ بھی کوئی بات ہے کہ ’’اگر بائیڈن نے ہمارے وزیراعظم کو فون نہ کیا تو ہمارے پاس دیگر کئی آپشنز بھی ہیں‘‘۔ براہ کرم اپنے گریبان میں تو جھانکیں۔ کیا ہم ایسی گیدڑ بھبکیاں دینے کے قابل ہیں؟ بندے کی جتنی طاقت یا حیثیت ہو اتنی ہی بات کرے۔ آخر ہماری کیا مجبوری تھی جو ہم نے عین بیس جنوری کو میڈیم رینج بیلسٹک میزائل تین ہزار کے طویل فاصلے پر پھینکنا ضروری سمجھا۔ اور 28 جنوری کو ڈینئل پرل کے مبینہ قاتل کو سپریم جوڈیشری سے رہائی دلوائی۔ اس سے ہم نے اپنے ساتھ جوڈیشری کا ’’وقار‘‘ کہاں پہنچا دیا؟
فون کال تو ایک معمولی سی چیز ہے اس ظالم کو بھی چاہیے کہ جہاں ڈومور کہتا ہے وہاں اس حوالے سے ایک کال بھی کر دے لیکن جو کالیں کرتا تھا، اس ٹرمپ نے بھی بالآخر ہمارا کچا چھٹا کس بدصورتی سے کھولا ہے۔ ا یسے میں اگر ہم اڈے بن مانگے ہی محض سیاسی شہرت کیلئے نہ دینے کی بڑھکیں مار رہے ہیں تو یہ بھی نرم ترین الفاظ میں غیر ضروری ہیں ہمیں اپنی نہیں تو اپنے ملک کی عزت و وقار کا کچھ تو احساس و ا دراک ہونا چاہیے۔