پاکستان کو برطانیہ کی ریڈ لسٹ پر رکھنا بلاجواز ہے: شیریں مزاری

  • سوموار 09 / اگست / 2021
  • 4170

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے پاکستان کو سفری پابندی کی فہرست ’ریڈ لسٹ‘ میں برقرار رکھنے کے لیے کمزور عذر پر برطانیہ کو تنقیدکا نشانہ بنایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت نے پاکستان سے کبھی اعداد و شمار طلب نہیں کیے۔ برطانیہ میں بین الاقوامی سفر کے لیے ’ٹریفک لائٹ‘ جیسا نظام رائج ہے جس میں سب سے کم خطرے کے ممالک قرنطینہ فری سفر کے لیے گرین لسٹ، درمیانے خطرے کے حامل ممالک کو زرد لسٹ میں رکھا گیا جبکہ ریڈ لسٹ میں شامل ممالک سے آنے والے مسافروں کو برطانیہ آمد پر ہوٹل میں آئیسولیشن میں 10 روز گزارنے ہوں گے۔

خیال رہے کہ پاکستان کو اپریل کے اوائل میں ریڈ لسٹ میں شامل کیا گیا تھا جبکہ بھارت کو ڈیلٹا قسم کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے 19 اپریل کو اس فہرست کا حصہ بنایا گیا تھا۔ برطانوی حکومت کی جانب سے جاری حالیہ اپ ڈیٹ میں بھارت، بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات کو زرد فہرست میں شامل کیا گیا تھا جبکہ پاکستان کو ریڈ لسٹ میں برقرار رکھا گیا تھا۔ اس اقدام پر برطانوی قانون سازوں نے بھی تنقید کی تھی۔

ایک ٹوئٹ میں وفاقی وزیر انسانی حقوق نے انگریزی روزنامہ ’دی نیوز‘ کی ایک رپورٹ شیئر کی جس میں برطانوی حکام کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ ویکسینیشن اور ٹیسٹنگ کے اعداد و شمار کی وجہ سے پاکستان کو فہرست میں برقرار رکھا گیا۔ شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ ’برطانوی حکومت بھارت نواز افراد سے مغلوب ہے اور بھارت کی جانب سے عالمی وبا کووڈ سے نمٹنے میں ناکامی کے باوجود اسے زرد فہرست میں شامل کیا گیا جبکہ پاکستان کو ریڈ لسٹ میں رکھا گیا۔ پھر اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کے دباؤ پر یہ  کمزور عذر پیش کیا گیا کہ پاکستان نے ڈیٹا شیئر نہیں کیا‘۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت نے کبھی اعداد و شمار طلب نہیں کیے اور وہ عوامی سطح پر دستیاب ہیں۔ ’نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے پاس سب سے زیادہ مرکزی اور روزانہ اپڈیٹ کا ڈیٹا بیس سسٹم ہے۔ اس سے پہلے برطانوی حکومت نے الگ بہانہ بنایا تھا کہ بھارت سے زیادہ پاکستانی مسافروں کے کورونا ٹیسٹ مثبت آرہے ہیں، اب ہدف بدل دیا گیا ہے۔