ماقبلِ داستان: اکادمی ادبیات کے جبر کی کہانی
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 09 / اگست / 2021
- 11750
اِنتساب: اُن بچوں کے نام جو بچپن میں ہی بُوڑھے ہو جاتے ہیں ۔
فکیفَ تتقون اِن کفرتم یوماٍ یجعل الولدانَ شیبا (سورہ ء مُزمل) تم کیسے صاحبِ تقویٰ ہو اگر اُس دن کا انکار کرو جو بچوں کو بُوڑھا کر دے گا
میرا خُدا داستان طراز ہے۔ کہانی کار ہے ۔ یہ کائنات اُس کی کہانیوں کی کتاب ہے جس کا آغاز ما قبلِ آدم سے ہوا ۔ آدم و حوا کی بہشت بدری اُن کی وہ کہانی ہے جس میں عہد با عہد لا تعداد کہانیاں ہیں ۔ الاساطیر الاولین۔۔ ہر آدم و حوا زاد ایک کہانی ہے۔ میں بھی ایک کہانی ہوں۔ مجھے خُدا نے خود تصویر کیا اور میری تقدیر لکھی۔ وہ کہتا ہے:
یصور کُن فی الارحام ۔ میں ہر ماں کے بطن میں بچے کی تصویر گری کرتا ہوں۔ میری کہانی بھی میری تقدیر کا نوشتہ ہے ۔ اس لیے مجھے بچپن سے کہانیوں کے جھولے میں جھُلایا گیا ۔ میری ماں نے مجھے بہت سی کہانیاں سُنائیں۔ پریوں اور دیووں کی کہانیاں۔ اپسراؤں اور اُڑن کھٹولے کی کہانیاں۔ یہ کہانیاں میرے بچپن کا وہ فکری سرمایہ ہے جس نے مجھے سوچنا سکھایا۔ دنیا بھر میں برس ہا برس کی آوارہ گردی کے دوران مجھے بہت سے ملکوں کی کہانیاں پڑھنے اور سننے کا موقع ملا۔ بہت سی کہانیاں میں نے پنجابی اور اردو میں متقل کیں۔ کچھ پنجابی کہانیاں نارویجن میں منتقل کیں۔ میری یہ چھوٹی سی کتاب سترہ کہانیوں پر مشتمل ہے ۔ ان میں سے بیشتر نارویجن سے ترجمہ کی گئی ہیں اور چند ایک مجھ سے فرمائش کر کے ترجمہ کروائی گئی ہیں ۔ مجھ سے اکادمی ادبیات کے ایک نمائندے نے جو اس شمارے کا مہمان مدیر ہے ان کہانیوں کے ترجمے اور حصول کے یے رابطہ کیا تھا۔ اُس وقت اکادمی کے سربراہ میرے ایک پرانے شناسا تھے جنہوں نے ایک زمانے میں ادیبوں کی ٹریڈ یونین بنانے کی کوشش کی تھی۔
مجھ سے یہ کہانیاں لے کر اور اُن کو چھاپ کر اکادمی نے مجھے شکریے کا ایک خط تک نہیں لکھا۔ معاوضہ تو دور کی بات ہے۔ شمارہ چھپنے کے بعد میں نے اکادمی سے فون پر رابطہ کیا اور اُن سے وہ شمارہ مانگا جس شمارے میں میری کہانیاں چھپی تھیں۔ مجھے جواب دیا کہ اکادمی کے اتنے وسائل نہیں کہ وہ رسالہ ناروے بھجوائیں۔ آپ پاکستان کا کوئی پتہ دیں تو ایک کاپی بھیج دی جائے گی۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ پرچہ لاہور میں میرے ایک عزیز کو مل گیا اور اُس کے بعد اکادمی کو سانپ سونگھ گیا۔ رسالے کی ادارت شہرِ خموشاں میں چلی گئی۔
کسی لکھنے والے سے اکادمی کا یہ رویہ میرے لیے تکلیف دہ رہا ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ بیشتر سرکاری ادارے (اور میں یہ دانستہ کہ رہا ہوں) کرپشن کی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔ مجھے اُن کے ناروا سلوک پر کوئی تعجب نہیں ہوا کہ مجھے معاوضہ نہیں دیا گیا بلکہ دکھ اس بات کا ہوا کہ میری محنت کا اعتراف تک نہیں کیا گیا۔ میں جانتا ہوں کہ پاکستان میں پبلشنگ کے شعبے کا ایک بڑا حصہ ادیبوں کا خون پی کر پلا ہے۔ وہاں لکھنے کا معاوضہ کوئی نہیں دیتا بلکہ اُلٹا اشاعت کا احسان رکھ کر تمام مدیر مفت میں ادب چھاپتے ہیں۔ مفت کا ادب۔ البتہ کہیں کہیں رائلٹی دینے کی مثالیں ملتی ہیں۔
ابھی چند مہینے پہلے مجھے جنگ میں چھپے تبصرے سے پتہ چلا کہ جہلم کے کسی ادارے نے میرا خوشونت سنگھ کی کتاب کا ترجمہ چھاپا ہے۔ میں نے پبلشر کو فون کیا تو مجھے جواب ملا کہ ہم نے تو سمجھا کہ کسی بھارتی ادیب نے کتاب ترجمہ کی ہے، سو ہم نے چھاپ دی۔ اس ادارے نے بھی کتاب کی کاپی مجھے بھجوانے کی زحمت نہیں کی۔ اس صورتِ حال میں بہتر یہی لگتا ہے کہ اپنی کتاب خود ہی چھاپی اور پڑھنے والوں میں تقسیم کر دی جائے ۔ چنانچہ عزیز گرامی اظہر غوری کی معرفت یہ کتاب وجود میں آئی ہے جس کے لیے میں اظہر غوری کا شکر گزار ہوں اور اُن استحصالی اداروں کا بھی جو لکھنے والے سے وہی سلوک کرتے ہیں جو سیاست دان غریب عوام سے کرتے ہیں اور کیوں نہ کریں۔ اداروں میں بیٹھے ہوئے سیاسی مخلوق کے گماشتوں سے اور کیا توقع باندھی جا سکتی ہے۔ تاہم میں خوش ہوں کہ میرے ساتھ جو ہوا وہ میری کہانی کا ایک ورق ہے جسے میرے خپدا نے لکھا ہے۔