افغانستان کا دفاع افغان افواج کی ذمہ داری ہے: امریکی صدر جو بائیڈن

  • منگل 10 / اگست / 2021
  • 3670

افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی کا سلسلہ جاری ہے اور مزارِ شریف اور پلِ خمری کے نواح میں شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ امریکہ کے صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ ملک کا دفاع کرنا افغان فوج کی ہی ذمہ داری ہے۔

امریکی صدر کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب افغانستان کے لیے امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد منگل کو قطر پہنچ رہے ہیں جہاں وہ افغان طالبان کے نمائندوں سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ اس ملاقات میں امریکہ کی جانب سے افغان طالبان سے عسکری کارروائیاں بند کرنے اور سیاسی طور پر معاملات حل کرنے کے لئے کہا جائے گا۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کا افغانستان میں فوجی مشن 31 اگست کو مکمل طور پر اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا اور افغانستان کے عوام کو اپنے ملک کے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ امریکیوں کی ایک اور نسل کو 20 سالہ جنگ میں دھکیلنا نہیں چاہتے۔ افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی میں گزشتہ چند دن کے دوران تیزی دیکھی گئی ہے اور انہوں نے پانچ دن میں چھ اہم شہروں پر قبضہ کر لیا ہے۔ طالبان کے قبضے میں جانے والا آخری اہم شہر شمالی صوبہ سمنگان کا دارالحکومت ایبک ہے جس کا کنٹرول پیر کو طالبان کے ہاتھ آیا۔ اس سے قبل وہ نمروز کے دارالحکومت زرنج، سرِ پُل، تخار صوبے کے شہر تالقان، قندوز اور ہلمند صوبے کے دارالحکومت لشکر گاہ پر قبضہ کر چکے ہیں۔

پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ افغانستان میں جاری صورتحال سے امریکہ کو بہت تشویش ہے لیکن افغان فوج کے پاس طالبان سے جنگ کرنے کی پوری صلاحیت ہے۔ 'یہ ان کی اپنی فوج ہے۔ یہ ان کے اپنے صوبائی دارالحکومت ہیں، یہ ان کے اپنے لوگ ہیں جن کا دفاع کرنا ہے، اور یہ سب ان کی قیادت پر آ جاتا ہے کہ وہ اس موقع پر کیسی کارکردگی دکھاتے ہیں۔'

جب جان کربی سے پوچھا گیا کہ افغانستان کی فوج کی جانب سے مناسب دفاع نہ ہونے کی صورت میں امریکی فوج کیا کرے گی، تو جواب میں ترجمان کا کہنا تھا: 'زیادہ کچھ نہیں۔'

امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکی فوج افغان افواج کی مدد کے لیے اے سی 130 گن شپ ہیلی کاپٹر اور ڈرونز کے علاوہ بی 52 بمبار طیارے اور ایف 18 جنگی طیارے بھی روانہ کر رہی ہے۔ امریکہ کا ارادہ ہے کہ وہ افغان فوج کو تربیت اور اسلحہ فراہم کرتا رہے گا لیکن ایک اہم سوال یہ ہے کہ آیا 31 اگست کے بعد وہ فضائی حملے جاری رکھیں گے یا نہیں؟

پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ اس بارے میں ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ یاد رہے کہ ماضی میں امریکہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ فضائی حملے صرف 'انسدادِ دہشت گردی آپریشن' کے لئے کریں گے۔

امریکی انتظامیہ نے طالبان کو بھی تنبیہ کی ہے کہ اگر انہوں نے طاقت کے زور پر قبضہ کیا تو ان کو کوئی تسلیم نہیں کرے گا۔