امریکی وزیرِ دفاع کا جنرل باجوہ سے رابطہ، باہمی تعاون کا اعادہ
- منگل 10 / اگست / 2021
- 4460
امریکہ کے وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن نے پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کی ہے اور خطے میں امن اور استحکام کے مشترکہ مقصد پر باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے پریس سیکریٹری جان کربی نے پیر کو جاری ایک بیان میں بتایا ہے کہ وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن نے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں فروغ اور خطے میں مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے شراکت داری استوار کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ جان کربی کے مطابق وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان کی موجودہ صورتِ حال، علاقائی امن و استحکام اور دو طرفہ دفاعی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔
پاکستان فوج کی جانب سے اب تک اس بات چیت کے بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ اور امریکی وزیرِ دفاع کے درمیان بات چیت ایسے موقع پر ہوئی ہے جب طالبان عسکریت پسندوں نے افغانستان کے چھ صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا ہے۔
امریکہ کے محکمہ خارجہ نے پیر کے روز بتایا ہے کہ افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد قطر کے لیے روانہ ہو گئے ہیں جہاں وہ طالبان پر زور دیں گے کہ وہ اپنی جارحیت بند کریں اور سیاسی تصفیے کے لیے بات چیت کریں۔ محکمہ خارجہ نے مزید بتایا کہ تین روز پر محیط مذاکرات میں مختلف ممالک اور مختلف تنظیموں کے نمائندے اس بات پر زور دیں گے کہ افغانستان میں جاری تشدد میں کمی لائی جائے اور فوری طور پر جنگ بندی کی جائے۔ مذاکرات کے دوران اس بات پر بھی زور دیا جائے گا کہ افغانسان میں طاقت کے ذریعے مسلط ہونے والی حکومت کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ طالبان ملک میں دوبارہ سخت اسلامی قوانین کے نفاذ کے لیے لڑ رہے ہیں اور ایسے میں اپنی مہم تیز کیے ہوئے ہیں جب غیر ملکی فورسز کے انخلا کا عمل مکمل ہونے والا ہے۔ امریکہ کے صدر جو بائیڈن کہہ چکے ہیں کہ افغانستان کے اندر امریکی مشن 31 اگست تک ختم ہو جائے گا۔ ان کا مؤقف ہے کہ افغان عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہے اور وہ امریکہ کی ایک اور نسل کو 20 سال سے جاری جنگ میں نہیں دھکیلیں گے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق طالبان نے پیر کے روز شمالی صوبے سمنگان کے دارالحکومت پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ ایک افغان قانون ساز ضیاءالدین ضیا نے 'رائٹرز' سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ طالبان اس وقت پولیس ہیڈ کوارٹرز اور صوبائی گورنر کے دفتر پر قبضے کے لیے لڑ رہے ہیں۔
امریکی عہدیداروں نے اپنا نام صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پر 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ فوج نے صدر جو بائیڈن کو اس سال کے شروع میں بتا دیا تھا کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان کے صوبائی دارالحکومت طالبان فتح کر سکتے ہیں تاہم وہ اس بات پر حیران ہیں کہ طالبان اس قدر جلد قابض ہو سکتے ہیں۔
ادھر پینٹاگان کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ امریکہ کو افغانستان سے آنے والی خبروں پر گہری تشویش ہے لیکن افغانستان کی فورسز میں یہ اہلیت ہے کہ وہ حملہ آور گروہوں کے خلاف لڑ سکیں۔