پاکستان کا تعلیمی نصاب اور اسلام
- تحریر مسعود مُنّور
- منگل 10 / اگست / 2021
- 17600
سنا ہے کہ اب پاکستان کے نظامِ تعلیم میں انقلابی تبدیلی لائی جا رہی ہے اور قرآنیات کو ایک لازمی مضمون کے طور پر سکولوں میں نافذ کیا جا رہا ہے تاکہ بچوں کی دینی تربیت ہو سکے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا نصاب بدلنے سے انسان بدل سکیا ہے؟ اس سلسلے میں میری گزارشات یہ ہیں:
اسلام سکولوں، کالجوں، یونی ورسٹیوں اور دینی مدارس کے تعلیمی نصاب میں نہیں بلکہ ہر خاندان کے افراد کے باہمی رشتوں ناتوں اور دو طرفہ معاملات میں ہوتا ہے، جس کا ذمہ دار اور جواب دہ ہر مسلمان ہے۔ اسلام کے دو باطنی ارکان جس پر اسلامی نظام کی پوری عمارت استوار ہے اور ہم سبھی جانتے ہیں کہ وہ دو ارکان کون سے ہیں:
۱۔ صادق ہونا
۲۔ امین ہونا
حضرت فضل شاہ نور والےؒ فرمایا کرتے تھے کہ اسلام کے دو ہی بنیادی ارکان ہیں۔ اور وہ یہ کہ مسلمان کی زبان پاک ہو اور ہاتھ امین ہو۔ اور جس کے پاس یہ دو بنیادی ارکان موجود ہوں اُس کے پاس پانچ ظاہرہی ارکان تک رسائی کی استعداد ہوتی ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ نبی ﷺ نے پیغمبر مبعوث ہونے سے قبل ہی اپنے اعمال اور معاملات سے صداقت اور دیانت کی وہ مثال قائم کی تھی جس کی بنا پر وہ دوست اور دشمن میں صادق اور امین کے لقب سے جانے جاتے تھے ۔ ہر شخص گواہ تھا کہ آپ ﷺ نے زندگی بھر زبان کو باطل الفاظ سے آلودہ نہیں کیا اور نہ ہی کبھی اپنے ہاتھ سے کسی کو دکھ دیا ہے۔ اُن کا ہاتھ خیر اور رحمت کا ہاتھ ہے۔ چنانچہ جس شخص کو اسلام کی شریعت تفویض کی گئی اُن کی بنیادی تعلیم ہی صداقت اور امانت داری ہے۔ اور جہاں تک آپ کی نصابی تعلیم کا معاملہ تو آپ یکسر اُمی تھے۔ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے۔ چنانچہ مسلمان ہونے کے لیے جس بنیادی کوالی فکیشن کی ضرورت ہے، وہ صادق اور امین ہونا ہے۔
اور مسلمان بچے کی یہ تعلیم ماں کی گود اور مہد یعنی پنگھوڑے سے شروع ہوجاتی ہے کہ ماں باپ بچے کو انگلی پکرڑ کر صداقت اور دیانت کی پریکٹس کروائیں اور خود ان دونوں اقدار کا عملی نمونہ بن کر رہیں۔ کیونکہ جو شخص صادق اور امین نہیں وہ دین کے ظاہری ارکان یعنی کلمہ، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کو آلودہ کرے گا ۔ اُس کا کلمہ جھوٹ کے ہونٹوں پر نہیں جچے گا، اُس کی نماز نمائش اور دکھاوے کی ہوگی۔ اُس کے روزے سحری افطاری کلچر کا شہکار ہوں مگر عبادت کی روح سے خالی، اُس کی زکوٰۃ اصل حقداروں کے بجائے مصلحت پر خرچ ہوگی اور اُس کا حج ایک فیشن ہوگا جو اُسے صداقت اور ایماندار ی سے مشرف نہیں کرسکے گا۔
ہمارے ہاں پچھلے بہتر سال سے جو بھانت بھانت کے تعلیمی نصاب رائج ہیں وہ طلبا و طالبات کو وہ کوالیفکیشن نہیں دے سکے جس کا ثبوت ملک میں لاقانونیت، کرپشن اور منی لانڈرنگ کی بلند ترین شرح ہے۔ رشوت اور تشدد کے طوفانِ بد تمیزی نے پاکستانی معاشرت کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے لیکن ہمارے یہاں کبھی اس نہج پر سوچنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی کہ یہ نصابی کُتب طالب علم کو صادق اور امین کے راستے پر چلنے میں ممد و معاون ہو سکتی ہیں یا نہیں ۔ مولانا روم نے اس نصابی تعلیم کے بارے اپنے موقف کا اظہار یوں کیا ہے:
صد کتاب و صد ورق در نار کن
سینہ را از عشقِ او گلزار کُن
کہ ان سینکڑوں کتابوں اور کاغذوں کو چولھے میں ڈال اور اپنے سینے کو خُدا اور اُس کی مخلوق کے عشق سے گل و گلزار بنا دے۔ بُلھے شاہ نے اس ضمن میں مزید وضاحت کی ہے کہ اصل معاملہ لفظ کا نہیں عمل کا ہے۔ فرماتے ہیں:
بُلھیا، رب کہو نہ کہو
آئی صورتوں سچا رہو
یعنی مونہہ سے رام رام جپنا دین نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ آدمی جس صورت اور کیفیت میں ہو اس میں سچ کے معیار پر پورا اُترے۔ لیکن ہم سب اُن نصانی کتب اور درسِ نظامی کے مارے ہوئے ہیں جو ہمیں بنیادی اسلامی اقدار سے مشرف نہیں کر سکا مگر اس کے باوجود ایک نصابی تماشہ ہورہا ہے جو بنیادی طور پر کاروباری معاملہ ہے جس کا مقصد منافع خوری ہے۔ کتابوں کے مصنفین کی اجرت، کتب کی اشاعت سے وابستہ لوگوں کا روزی روزگار ، کتب فروش تاجروں کا کمیشن اور اساتذہ اور عملے کی تنخواہیں سب کاروباری معاملات ہیں جو لوگوں کو صادق اور امین بنانے کے طریقہ ہائے کار نہیں ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ:
تحقیق کی باتیں ہیں، یہ الہام نہیں ہے
مُلا ہیں بہت شہر میں اسلام نہیں ہے
سچ تو یہ ہے اسلام کتابوں میں نہیں معاشرتی رویوں، معاملات اور انسان کے باہمی تعلق میں ہوتا ہے جس کے لیے قرآن حکیم میں واضح راستہ متعین کیا گیا ہے کہ مومن، دوسرے مومن کا بھائی ہے مگر یہاں رشتے انسانی خون کے نہیں سیم و زر کے ہوتے ہیں جہاں ایک غریب بھائی اپنے امیر بھائی سے اخوت کا رشتہ کھو بیٹھتا ہے۔ حقیقی رشتوں ناتوں کی بنیاد صداقت اور دیانت ہے جسے اب بہتر برس بعد سکولوں کے تعلیمی نصاب میں زبردستی داخل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور ایسی سب کوششیں جہالت اور لا یعنیت پر مبنی ہیں۔
جو لوگ یہ نصاب مرتب کر رہے ہیں خود اُن کے اعمال سے محمدیت کی خوشبو نہیں آتی۔ چنانچہ اسلام ن کے نام پر اپنا چاٹ مسالہ بیچنے والے اس ملک کی حالت نہیں بدل سکیں گے کیونکہ اسلام کو کتابوں سے نکال کر زندگی میں شامل کرنا جان جوکھوں کا کام ہے ، جو ہم سے بہتر برسوں میں تو ہو نہیں پایا تو اب کیا ہوگا:
عمر ساری تو کٹی عشقِ بُتاں میں مومن
آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے
اللہ اللہ خیر سلاّ