تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) میں دراڑیں نمایاں ہو چکی ہیں: فردوس عاشق

  • بدھ 11 / اگست / 2021
  • 4000

پاکستان تحریک انصاف کی رہنما فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی کے اقدامات کی وجہ سے ان کی جماعت اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے تعلقات میں پڑنے والی دراڑیں نمایاں ہو چکی ہیں۔

پنجاب میں مخلوط حکومت بنانے والی جماعتوں مسلم لیگ (ق) اور تحریک انصاف کے درمیان تعلقات ایک سال قبل اس وقت شہ سرخیوں کی زینت بنے تھے جب مسلم لیگ(ق) نے حکمران جماعت پر وعدے پورے نہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ اس دوران دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات کی خبریں سامنے آتی رہیں اور رواں سال جون میں یہ اطلاع دی گئی تھی کہ پی ٹی آئی نے مسلم لیگ (ق) کے اراکین قومی اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز فراہم کرنے کے مطالبے پر رضامندی ظاہر کردی ہے جس کے بعد دونوں جماعتوں کے معاملات طے پا گئے تھے۔

آج نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے انہیں پنجاب اسمبلی میں داخلے سے روکے جانے کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان تعلقات خراب ہوتے جا رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کی سابق معاون خصوصی نے کہا کہ کچھ دن قبل میں نے مسلم لیگ (ق) کے نائب صدر کے بیٹے کو پی ٹی آئی میں شمولیت کی سہولت فراہم کی اور پھر انہوں نے پی پی-38 کا ٹکٹ حاصل کر لیا۔ اگر کوئی پرویز الٰہی کی پارٹی چھوڑ دیتا ہے، کسی دوسرے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑ کر منتخب ہونے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ دونوں جماعتوں کے درمیان کشیدہ تعلقات کا واضح ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسپیکر کی ذاتی حرکتوں کی وجہ سے دونوں اتحادی جماعتوں کے تعلقات میں دراڑیں پڑتی نظر آ رہی ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ایسی کئی مثالیں ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر کے طور پر تقرر کے بارے میں بات کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیر اعظم اور سیف اللہ نیازی نے انہیں صوبے میں ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے وہاں جانے پر قائل کیا تھا۔ الیکشن ہارنے کے باوجود میں نے تین سال صوبے میں کام کیا اور اس کے نتیجے میں پی پی-38 سے فاتح رہی۔

اگر پارٹی محسوس کرے گی کہ ملک اور صوبے کے لیے میری خدمات درکار ہیں تو وزیراعظم عمران خان مجھے ایک نیا کردار سونپیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب ایک مشکل میدان جنگ ہے، تحریک انصاف کی اہم حریف جماعت نے عوام اور بیوروکریسی میں ایک مختلف رجحان قائم کیا ہوا ہے۔