طالبان کا چھ روز میں آٹھویں صوبائی دارالحکومت پر قبضہ

  • بدھ 11 / اگست / 2021
  • 4490

افغان طالبان گزشتہ چھ روز میں وہ آٹھ صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر چکے ہیں۔ جنگجوؤں کی پیش قدمی کے پیشِ نظر صدر اشرف غنی طالبان مخالفین کے گڑھ مزار شریف پہنچے ہیں تاکہ فورسز کی حوصلہ افزائی  کریں۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق طالبان کے جنگجوؤں نے بدھ کو بدخشاں صوبے کے دارالحکومت فیض آباد پر قبضہ کر لیا ہے۔ صوبائی کونسل ممبر جواد مجددی کے مطابق صوبائی دارالحکومت پر قبضے سے قبل افغان فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں اور کئی گھنٹوں کی لڑائی کے بعد طالبان مکمل طور پر کنٹرول حاصل کر چکے ہیں۔

یاد رہے کہ افغان صوبے بدخشاں کی سرحد تاجکستان، پاکستان اور چین سے ملتی ہیں اور اس صوبے کو اسٹریٹجک اعتبار سے خاص اہمیت حاصل ہے۔ افغان وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ طالبان کے خلاف لغمان، لوگر، پکتیا، زابل، غور، بلخ، ہلمند، کپیسا اور بغلان صوبوں میں جھڑپیں ہو رہی ہیں جس کے دوران 431 جنگجو مارے گئے ہیں۔

دوسری جانب افغان صدر اشرف غنی ملک کے چوتھے بڑے شہر مزار شریف پہنچ گئے ہیں جہاں وہ ملک کے شمالی علاقوں میں سیکیورٹی صورتِ حال کا جائزہ لیں گے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دورۂ مزار شریف کے دوران شہر کی ایک مضبوط شخصیت عطا محمد نور کے ساتھ ملاقات متوقع ہے جب کہ جنگجو سردار عبدالرشید دوستم سے بھی وہ شہر کے دفاع کے سلسلے میں بات چیت کریں گے۔

اشرف غنی نے دورۂ مزار شریف ایسے موقع پر کیا ہے جب طالبان شہر کے مضافاتی علاقوں میں اپنی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ افغانستان کی موجودہ صورتِ حال پر امریکہ کے محکمۂ دفاع نے کہا ہے کہ واشنگٹن کے فضائی حملے طالبان کی افغانستان بھر میں پیش قدمی کو متاثر کر رہے ہیں تاہم صرف امریکی قوت عسکریت پسندوں کے حملوں کو پسپا کرنے کے لیے کافی نہیں ہو گی۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق امریکہ کابل میں اپنے سفارت خانے کے خطرات کا جائزہ روزانہ کی بنیاد پر لے رہا ہے۔ محکمۂ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے منگل کو ایک پریس کانفرنس کے دوران ان خیالات کا اظہار اس سوال پر کیا جس میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ آیا طالبان کی جانب سے صوبائی دارالحکومتوں پر قبضے کے بعد سفارتی عملے میں مزید کمی لائی جا سکتی ہے؟

ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں سیکیورٹی کے اعتبار سے چیلنجنگ ماحول ہے۔ ہم روزانہ کی بنیاد پر خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ سفارتخانہ واشنگٹن میں سینئر عہدیداروں کے ساتھ مستقل رابطے میں ہے اور یہ عہدیدار وائٹ ہاؤس سے رابطے میں ہیں۔ نیڈ پرائس نے بتایا کہ فی الوقت ہم وہ تمام سرگرمیاں جاری رکھنے کے قابل ہیں جو ہمارے لیے ضروری ہیں۔