کسانوں کی آمدنی دگنی کرنا چاہتے ہیں: وزیر اعظم

  • بدھ 11 / اگست / 2021
  • 3990

وزیر اعظم عمرا ن خان نے کہا ہے کہ ہمارے 84 لاکھ کسان اس ملک کا اثاثہ ہیں اور ملک میں مہنگائی میں کمی کے لیے کسانوں کی آمدنی دگنی کرنا چاہتے ہیں۔

کسان کی پیداوار میں اضافے سے اشیائے خوردونوش کی قیمتیں نیچے آ جائیں گی۔ بہاولپور میں کسان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے  کہا کہ اس کنونشن کے انعقاد کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ اگر یہ ملک اپنے لاکھوں کسانوں کی مدد کرے گا تب ہی ترقی کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایک مہم چلی ہوئی تھی کہ اس ملک کو جاگیرداروں نے تباہ کردیا لیکن شہر کے لوگ تو جاگیردار اور کسانوں میں فرق ہی نہیں کر سکتے۔ اس ملک میں 26ہزار وہ لوگ ہیں جن کی زمین 125 ایکڑ سے زیادہ ہے۔ جب لوگ کہتے تھے کہ جاگیردار ٹیکس نہیں دیتے اور انہوں نے لوگوں پر ظلم کیا تو وہ یہ نہیں دیکھتے کہ یہ لوگ 26 ہزار سے بھی کم ہیں، اس ملک کی اصل جان اس ملک کے کسان ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ہمارے ملک میں 84 لاکھ کسان ہیں جو اس ملک کا اثاثہ ہیں۔ آج مجھے سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں محنت کش کسانوں کے پاس 1100 ارب روپے اضافی گئے۔ ہمارے ملک میں قانون کی نہیں طاقت کی بالادستی رہی ہے، شوگر ملز والے طاقتور تھے تو کسانوں کی ٹرالی کھڑی رہ جاتی تھی اور انہیں اپنے گنے کی قیمت بھی نہیں ملتی تھی۔

 یہ سب دیکھتے ہوئے ہم نے قانون سازی کی کہ کس دن شوگر ملز کرشنگ شروع کریں گی اور اگر وہ نہیں کریں گی تو ان پر جرمانہ کیا جائے گا۔ ہم نے کسانوں کو پوری قیمت دلوائی اور اسی طرح کسانوں کو گندم اور مکئی کی بھی صحیح قیمت ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اس سے پاکستان کو فائدہ ہو گا، جب کسان کمائے تو وہ اپنی زمین پر لگائے گا۔ زمین کی پیداوار بڑھے گی، ملک کو فائدہ ہو گ۔، ملک میں غربت کم ہوگی اور کسان کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں نیچے آجائیں گی۔

انہوں کہا کہ اس وقت ملک میں مہنگائی کی ایک وجہ یہ ہے کہ دنیا کو چیزیں برآمد کرنے والا پاکستان آج اشیا برآمد کررہا ہے۔ جب ملک بنا تو ہماری آبادی 4 کروڑ تھی لیکن آج آبادی ساڑھے 22 کروڑ تک پہنچ چکی ہے اور جب آبادی اتنی بڑھے گی تو ہمیں پیداوار بھی اسی طرح سے چاہیے۔ اس سال ہماری گندم کی ریکارڈ پیداوار ہوئی لیکن اس کے باوجود ہم 40لاکھ ٹن گندم درآمد کررہے ہیں۔

انہوں نے ملک میں تعلیم اور تحقیق کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں 12 موسم ہیں اس لیے ہم یہاں ہر چیز اُگا سکتے ہیں لیکن اگر اس پر تحقیق کی جانی تھی کہ کس جگہ پر کیا چیز اگانے سے فائدہ ہو گا۔ دنیا تحقیق کر کے ہی آگے بڑھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر مسئلہ آ رہا ہے کہ ملک میں کتنے ڈالر آ رہے ہیں اور کتنے باہر جا رہے ہیں۔ یہ مسئلہ اس لیے آ رہا ہے لوگ مشینیں باہر ممالک سے منگوا رہے ہیں، ٹیکسٹائل کے لوگ مزید فیکٹریاں لگا رہے ہیں اور جب مشین منگواتے ہیں تو ڈالر ملک سے باہر جاتا ہے۔

جب تک ہم اپنے ملک میں زیادہ ڈالر نہیں لے آتے، اس وقت تک مسئلہ رہے گا۔ اسی وجہ سے ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے کیونکہ ملک میں ڈالر کی کمی ہو جاتی ہے اور اس سال ہم نے ریکارڈ تعداد میں اناج اور اشیا باہر سے درآمد کی ہیں لہٰذا اگر ہم کسانوں کی مدد نہیں کریں گے تو تجارتی توازن خراب ہو جائے گا۔