یوم اقلیت یا یوم متحدہ قومیت ؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 12 / اگست / 2021
- 8520
گیارہ اگست وطن عزیز میں ہر سال یوم اقلیت یا یوم متحدہ قومیت کی حیثیت سے منایاجاتاہے۔ اس کی بنیاد بانی پاکستان کا وہ تاریخی خطاب ہےجو انہوں نے پہلی دستور ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس میں فادر آف دی نیشن کی حیثیت سے فرمایا تھا۔
اس خطبے کی اہمیت اس حوالے سے بھی کلیدی ہے کہ یہ موچی گیٹ یا کسی عوامی و انتخابی جلسےسے نہیں بلکہ نئی مملکت کے معماروں یا آئین سازوں کے سامنے کیاجا رہا تھا۔ اس پس منظرمیں جائزہ لیاجائے تو یہ اس مملکت خداداد کے آئین و دستور کی جینوئن بنیاد تھا۔ اسی وجہ سے درویش لبرل ہیومن فورم کےزیر اہتمام برسوں سے ’’جناح کا پاکستان ‘‘ کے عنوان سے مختلف النوع افکار کی حامل شخصیات کی شمولیت سے اس روز سیمینار منعقد کرواتا رہا ہے تاکہ ملک میں قدم قدم پر موجود فکری و نظری کنفیوژن کا خاتمہ ہو سکے۔
بابائے قوم نے واشگاف الفاظ میں یہ واضح کر دیا تھا کہ ’’پاکستان کے شہری کی حیثیت سے آپ کا کوئی بھی عقیدہ ہو وہ آپ کا ذاتی معاملہ ہے۔ مملکت پاکستان کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہو گا‘‘۔ ’’آپ ہندو ہیں یامسلمان آپ اپنے مندروں اور مسجدوں میں جانے کے لئے آزاد ہو ںگے‘‘۔ سوال یہ ہے کہ جب مملکت پاکستان کو اپنے شہریوں کے مذہبی عقیدے سے کوئی سروکار نہیں ہوگا اور مذہب کسی بھی شخص کا ذاتی معاملہ ہو گا تو پھر اس کے بعد اس ملک کو ایک سیکولر ریاست قراردینے میں کیا کسر رہ جاتی ہے؟۔ یہ امربھی واضح رہے کہ دستور ساز اسمبلی کے اس ا جلاس کی صدارت محترم جو گندر ناتھ منڈل جی کر رہے تھے جنہیں بعد ازاں جناح صاحب نے اس ملک پاکستان کا وزیر قانون مقرر کیا۔ یہاں بھی سوال اٹھتا ہے کہ اگر جناح صاحب کے پیش نظر کسی نوع کی مذہبی ریاست کا قیام ہوتا تو لازمی بات ہے کہ کم از کم وزیر قانون تو وہ اس سوچ کی حامل کسی مذہبی شخصت کو بناتے۔ اس طرح انہوں نے اپنا وزیر خارجہ ایک قد آور احمدی شخصیت سر ظفر اللہ چودھری کو بنوایا۔
اتنے واضح اقدامات کے بعد رولا کس بات کا رہ جاتا ہے؟ یہ کہ دیگر تقاریر بھی ہیں؟ سوال یہ ہے کہ کسی بھی شخصیت کی اگر ہمارے سامنے دو طرح کی تقاریر آتی ہیں جن میں بظاہر تضاد دکھتا ہو تو ان تقاریر کا پس منظر اور مقام ضرور پیش نظر رکھاجائے گا۔ ظاہر ہے کوئی بھی سیاستدان جب عوامی جلسوں میں تقریر کرتا ہے تو اس کا اسلوب جذباتیت اور ولوے میں ڈوبا ہو گا مگر جب پارلیمنٹ یا دستور ساز اسمبلی میں خطاب کرے گا تو اس میں شعور و استدلال حاوی ہو گا۔ وہاں وہ ایک ایک فقرہ قانونی تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے ادا کرےگا۔ کاش جناح صاحب کی موت کے بعد برسر اقتدار آنے والے چھوٹے لوگ دستور سازی کی طرف بڑھتے ہوئے اس آئینی لائیڈ لائن کو اس سفاکی سے نظر انداز نہ کرتے وہ سستی شہرت کے لئے قرار داد مقاصد کی بجائے اپنے قائد کی اس عظیم الشان دستوری رہنمائی کے اصول کو، جوہری حیثیت دیتے جو بانی پاکستان کےپیش نظر تھی۔
اس صورت میں اس مظلوم قوم اور مذہبی منافرتوں میں دھنسے ہوئے بدقسمت ملک کی یہ بیچارگی پوری دنیا میں یوں جگ ہنسائی کا باعث نہ بنتی۔ کہا جاتا ہے کہ اگر سیکولر ہندوستان کے بالمقابل سیکولر پاکستان ہی بنانا تھا تو پھر پارٹیشن کی ضرورت ہی کیا تھی؟ یہ ملک تو اس لئے بنایاگیا تھا کہ یہاں مذہبی تجربات کی تجربہ گاہ یا لیبارٹری قائم کی جا سکے۔ پچھلے ستر سالوں میں ہم نے اس لیبارٹری میں جتنے تجربے کئے ہیں ان کے تلخ نتائج دیکھتے ہوئے کیا بہتر نہیں ہو گا کہ ہم اپنا طرز فکر تبدیل کرنے کا سوچیں؟ یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ ہندوستان میں مسلم کمیونٹی کو مسئلہ مذہب کا ہرگزنہیں تھا معاشی مفادات کا تھا اگر مذہبی مسئلہ ہوتا تو اتنی بڑی بڑی مذہبی شخصیات اور اسلامی پارٹیاں اس کی مخالفت میں یوں پیش پیش نہ ہوتیں۔
ہندوستان میں آج بھی ہم سے زیادہ جو کروڑوں مسلمان آباد ہیں کیا ان کا دین و مذہب ختم ہو گیا ہے یا خطرے میں ہے؟ وہ ہم سے کہیں زیاہ پکے سچے مسلمان ہیں۔ مسئلہ ان کا بھی ان کے معاشی مفادات کا ہے۔ ایک سوال ہمیشہ درویش کے ذہن میں ابھرتا رہا ہے مینارٹی صوبوں یا خطوں کے مسلمانوں نے پارٹیشن کے حق میں ووٹ کیوں دیا تھا جبکہ رہنا انہوں نے بھارت میں ہی تھا؟ سمجھ یہ آئی ہےکہ انہیں بڑی بڑی امیدیں دلائی گئی تھیں جس طرح 2018 کے انتخابات سے قبل خواب دکھلائے گئے تھے کہ ہم جو ’’نیا پاکستان‘‘ بنانے جا رہے ہیں یہ اتنا ترقی یافتہ و خوشحال ہو گا کہ بیرونی ممالک میں کام کرنے والے پاکستانی اپنا سب کچھ چھوڑ کر درخشاں مستقبل کے لئے سونے کی اس چڑیا میں آ جائیں گے۔
بس ایسی ہی چڑیا انہیں بھی دکھلائی گئی تھی اور جس طرح سے یہ 18 کے بعد اڑی ہے۔ اسی طرح 48 کے بعد بھی اڑ گئی تھی جسے مزید شک ہے وہ ان جائیدادوں کی تفصیلات ملاحظہ کر لے جو ہندو یہاں چھوڑ گئے تھے اور مسلمان وہاں چھوڑ کر آئے تھے۔ لاہور ہی کی مثال ملاحظہ فرما لیں اس وقت سب سے بڑی مارکیٹ انار کلی تھی اور پوری انار کلی میں مسلمانوں کی صرف ایک دکان تھی۔ بس یہی تھا ہمارا نظریہ ضرورت۔ قائد سے بڑھ کر ہمارے نظریاتی حقائق کو کون سمجھتا تھا؟ اسی لئے انہوں نے دہلی سے رخصت ہوتے ہوئے انڈین مسلمانوں کے وفد کو یہ پوچھنے پر کہ اب آپ ہمیں کس کے سہارے چھوڑ کر جا رہے ہو؟ فرمایا تھا کہ اب آپ لوگ ہندوستان کے وفادار شہری بن کر رہیے گا‘۔
جیسے تیسے ہم نے دو قومی نظریہ تخلیق کرتے ہوئے الگ ملک تو بنا لیا لیکن 70 سالوں سے اس کی قیمت یہ چکا رہےہیں کہ صدیوں اکٹھے رہنے والوں کے سینوں میں پیار و محبت کے رشتے بڑھانے کی بجائے نظریہ ضرورت کے تحت منافرت کی جو آگ بھڑکائی تھی وہ کسی صورت کم نہیں ہو رہی اگرچہ جناح صاحب نے قیام پاکستان کے ساتھ ہی اس کا ادراک کرتے ہوئے 11 اگست کو ہی اس پر پانی ڈالنے کی کوشش کی مگر یہ ٹھنڈی ہونے کا نام نہیں لے رہی۔
جو فرقہ پرستی ہندو مسلم فساد کی صورت شروع کروائی گئی تھی وہ بعد ازاں خود مسلمانوں کے اندر فرقہ بندیوں کی منافرت میں کہیں آگے تک بڑھ گئی۔ آج بھی نہ صرف ہندو مندروں پر حملے کئے جاتے ہیں بلکہ محرم الحرام کے مقدس مہینےمیں پوری پاکستانی انتظامیہ شیعہ سنی منافرت کا لاوا پھوٹنے سے روکنے کیلئے ایمرجنسی یا کرفیو جیسے خوف میں مبتلا رہتی ہے۔