میڈیا اتھارٹی بل کی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھرپور مزاحمت کی جائے گی: سینیٹر عرفان صدیقی

  • جمعہ 13 / اگست / 2021
  • 4970

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے رکن اور قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کے چیئرمین سینیٹر عرفان صدیقی نے پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے بارے میں حکومتی تجویز پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے میڈیا کو خوفزدہ کرنے اور آزادی اظہار رائے کو کچلنے کے لئے متعارف کروایا جارہا ہے۔

سینئر صحافی و مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہونے والے عرفان صدیقی نے ایک بیان میں افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت نے گزشتہ روز کسی اپوزیشن جماعت کو اعتماد میں لیے بغیر پارلیمنٹ ہاﺅس سے باہر، پاک چین فرینڈشپ سینٹر میں قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں کی قائمہ کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس طلب کر لیا۔ چند گھنٹے قبل اجلاس کی خبر دی گئی اور بتایا گیا کہ پی ایم ڈی اے پر متعلقہ وزیر بریفنگ دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اس پر اعتراض کیا اور اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ اپوزیشن، میڈیا کی آزادی کے پَر کاٹنے کی ہر کوشش کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی، ایوان کے اندر اور باہر پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی شدید مزاحمت کی جائے گی جو دراصل میڈیا ڈیولپمنٹ نہیں میڈیا کو تباہ کرنے کی اتھارٹی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں الیکٹرانک میڈیا کے لیے ضابطہ اخلاق تیار کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس کی سربراہی مجھے دی گئی، یہ امر میرے لیے باعث اعزاز ہے کہ موجودہ نافذالعمل ضابطہ اخلاق اسی کمیٹی کا تیار کردہ ہے جس کے لیے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن نے بھی بھرپور تعاون کیا تھا۔

لیگی رہنما نے کہا کہ اسی طرح پرنٹ میڈیا کے لیے پریس کونسل کو فعال بنایا جاسکتا ہے جبکہ سوشل میڈیا کے لیے بھی ضابطے موجود ہیں۔ ان حالات میں ایک نئی اتھارٹی کا شکنجہ تیار کرنا نیک نیتی پر مبنی عمل نہیں سمجھا جاسکتا جبکہ اس سلسلے میں پی بی اے، پی ایف یو جے، اے پی این ایس، سی پی این ای اور دیگر تنظیموں کے تحفظات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

مسلم لیگ (ن) دیگر اپوزیشن جماعتوں سے مل کر اس طرح کی جابرانہ قانون سازی کا راستہ روکنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔  

یاد رہے کہ دو روز قبل میڈیا انڈسٹری کی تمام نمائندہ تنظیموں اور ایسوسی ایشنز نے مجوزہ پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو مسترد کرتے ہوئے اسے کالا قانون قرار دیا تھا۔