افغانستان میں تشدد بند کرنے کی اپیل
- جمعہ 13 / اگست / 2021
- 4030
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان امن مذاکرات میں شریک ملکوں کے نمائندوں نے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان کے تمام شہروں اور صوبائی دارالحکومتوں پر زمینی اور فضائی حملوں کو فوری طور سے بند کیا جائے۔
قطر میں افغان اور طالبان سے ہونے والی ملاقاتوں کے بعد سفارتی نمائندوں کے مشترکہ اعلامیے میں ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ فوجی طاقت کے زور پر افغانستان پر مسلط ہونے والی کسی حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے۔ جمعرات کو جاری کردہ یہ اعلامیہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب طالبان نے ملک کے شمال اور جنوب مغرب میں واقع متعدد صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا ہے اور بین الاقوامی برداری کی تشویش اور مطالبات کے باجود طالبان اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دوحہ میں 10 اور 12 اگست کو ہونے والے ان مذاکرات میں امریکہ، چین، پاکستان، ازبکستان، برطانیہ، یورپی یونین، اقوامِ متحدہ اور کئی دیگر ممالک کے سفارت کاروں نے شرکت کی۔ مذاکرات کے بعد جاری ہونے اعلامیے کے مطابق دوحہ مذاکرات میں شریک ممالک نے افغانستان بھر میں جاری تشدد، بڑے پیمانے پر عام شہریوں کی ہلاکت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں سامنے آنے والی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کابل میں واقع کاردان یونیورسٹی سے منسلک بین االاقوامی امور کے ماہر فہیم سادات کہتے ہیں کہ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے مل کر کوششیں اسی صورت کامیاب ہو سکتی ہیں جب تک ایک جامع حکمت عملی پر اتفاق نہیں ہوجاتا۔ کابل سے فون پر بات کرتے ہوئے فہیم سادات نے کہا کہ افغان تنازع میں علاقائی ممالک کے اسٹیک ہولڈز ہیں اور ہر ایک کے افغانستان میں قیامِ امن اور مسقبل کے سیاسی نظام کے بارے میں مؤقف مختلف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، بھارت، ایران، چین اور روس کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔ امریکہ کے فوجی انخلا کے بعد علاقائی ممالک کا افغانستان میں کردار اہم ہوگا۔ دوحہ مذاکرات کے مشترکہ اعلامیے میں طالبان کا نام نہ ہونے سے متعلق فہیم سادات کہتے ہیں اعلامیے میں طالبان کا نام لیے بغیر انہیں متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر وہ طاقت کے زور پر کابل کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کریں گے توبین الاقوامی برداری اسے تسلیم نہیں کرے گی۔
ان کے بقول طالبان کو بین الاقوامی سفارتی سطح پر اپنے آپ کو تسلیم کروانا ہے تو انہیں بین الاقوامی برداری کے پیغام کو سمجھنا ہوگا کہ طاقت کے زور پر کابل کا کنٹرول حاصل کرنے سے انہیں گریز کرنا ہوگا۔