قندھار پر بھی طالبان کا قبضہ
- جمعہ 13 / اگست / 2021
- 4570
طالبان نے افغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندھار پر قبضہ کر لیا ہے۔ حالیہ لڑائی میں اسے مسلح جنگجوؤں کی بڑی فتح اور افغان حکومت کے لیے اب تک کا سب سے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
جمعے کو صوبہ لوگر کی صوبائی کونسل کے دو ارکان نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ طالبان صوبائی دارالحکومت پلِ علم میں داخل ہو چکے ہیں جہاں انہوں نے پولیس ہیڈکوارٹر پر قبضہ کر لیا ہے اور شدید لڑائی جاری ہے۔ صوبہ لوگر کی سرحد کابل کے صوبے سے ملتی ہیں اور پلِ علم سے سیدھی سڑک دارالحکومت کابل جاتی ہے۔
جمعے کو ہی خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے قندھار کی مقامی حکومت کے ایک اہلکار نے تصدیق کی تھی کہ گزشتہ رات فوج سے جھڑپوں کے بعد طالبان نے قندھار شہر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
طالبان کے ترجمان نے جمعے کو یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ زابل اور ارزگان کے صوبے بھی ان کے کنٹرول میں ہیں تاہم سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کسی لڑائی کے بغیر زابل اور ارزگان کا کنٹرول سنبھالا ہے۔
ملک میں غیر ملکی افواج کے 20 سالہ آپریشن اور انخلا کے بعد اب طالبان نے تیزی سے کئی شہری علاقوں میں قبضہ کیا ہے جس پر عالمی سطح پر کافی تشویش پائی جاتی ہے۔ طالبان نے شمالی افغانستان کے اکثر علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ جمعرات کو طالبان نے ملک کے تیسرے بڑے شہر ہرات کے علاوہ غزنی اور قلعہ نو جیسے صوبائی دارالحکومتوں پر اپنی عملداری قائم کی تھی۔
طالبان اب ملک کے بیشتر شمالی علاقے اور 34 میں سے 14 صوبائی دارالحکومتوں پر قابض ہو چکے ہیں اور ان کی نظر اب کابل پر ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں ایسے پناہ گزین بھی پہنچ رہے ہیں جن کے آبائی علاقوں پر طالبان کنٹرول سنبھال چکے ہیں۔
ادھر قطر میں افغانستان کی صورتحال پر ہونے والی بات چیت کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں افغانستان کے صوبائی دارالحکومتوں اور دیگر شہروں میں فوری طور پر تشدد اور حملوں کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شرکا نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جلد از جلد سیاسی تصفیے اور جامع جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے کوششیں تیز کریں اور یہ بھی کہا ہے کہ وہ افغانستان میں کسی ایسی حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے جو طاقت کے استعمال سے مسلط کی گئی ہو۔
کابل میں امریکی سفارتخانے نے کہا ہے کہ اسے ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ طالبان ہتھیار ڈالنے والے افغان فوجیوں کو ہلاک کر رہے ہیں جو کہ بہت پریشان کن ہے اور جنگی جرائم کا سبب بنتا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ ایک ماہ سے افغانستان میں ایک ہزار سے زیادہ شہریوں کی موت اس لڑائی کی وجہ سے ہو چکی ہے۔
ہزاروں افراد شمالی صوبے سے بے گھر ہوچکے ہیں اور کابل پہنچنے کی کوشش میں ہیں۔
افغان صدر اشرف غنی منتشر سابقہ جنگجوؤں کو طالبان کے خلاف متحد کرنے میں ناکام ہوئے ہیں۔ بدھ کو انہوں نے مزار شریف کے دورے میں حکومت کی حمایت میں گروہوں کو متحد کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ شہر روایتی طور پر طالبان مخالف سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے شہر کے تحفظ کے لیے ان مسلح گروہوں کے سربراہان سے بات چیت کی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سفارت خانہ کھلا رہے گا تاہم ہم کابل میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے باعث وہاں موجود سویلینز کی تعداد میں کمی کر رہے ہیں۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں 3000 امریکی فوجی کابل بھیجے جائیں گے۔ تاہم پینٹاگون نے زور دیا کہ یہ فوجی طالبان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں کیے جائیں گے۔