ایک پتہ بھی سبز باقی نہیں رہے گا
- تحریر نادرہ مہرنواز
- جمعہ 13 / اگست / 2021
- 6890
طالبان آ رہے ہیں۔ چھا رہے ہیں۔ یوں جیسے لہلہاتی فصل پر ٹڈی دل کا حملہ ہو جائے اور پھر ایک بھی سبز پتہ باقی نہ رہے۔ سب تاراج ہو جائے۔
تیار ہو جائیے اب ایک بار پھر ٹی وی اسکرین پر وہی مناظر دیکھنے کے لیے۔ نیلے برقعوں میں سمٹی سمٹائی ڈری ڈری سی عورتوں پر لاٹھیاں برساتے بہادر طالبان۔ میدان میں سر سے پیر تک باپردہ دہشت میں ڈوبی شرم سے زمین میں گڑی بے بس نہتی عورت کو سنگسار ہوتے دیکھنے کو۔ افغان عورت یا گھر میں قید ہو گی یا بھوک کے ہاتھوں تنگ آ کر بچوں سمیٹ سڑک کنارے بھیک مانگے گی کیونکہ تعلیم اور کام کے دروازے ان پر بند کر دیے جائیں گے۔
پھر لڑکیوں کے اسکول جلائے جائیں گے۔ پھر موسیقی اور باربر شاپس کو مسمار کیا جائے گا؟ وہاں ہنسنا مسکرانا منع ہو جائے اور مزاح اور مذاق کو سنگین جرم جان کر مزاح کرنے والے کو واجب القتل قرار دے دیا جائے؟طالبان ایک گروہ نہیں رہ گئے۔ یہ ایک سوچ ہے جو پھیل رہی ہے۔ اس سوچ کے زہریلے بیج ہماری دھرتی پر بھی بو دیے گئے ہیں۔ اور اب ان میں سے خاردار کونپلیں پھوٹ چکی ہیں۔
ہمارے اسکول کالج سے لے کر یونیورسٹی تک کی سطح پر، طالب علموں سے لے کر اساتذہ اور پروفیسروں تک۔ ڈاکٹر انجنیئر، وکیل اور جج تک۔ وزرا سے لے کر حزب اختلاف تک۔ دانشوروں سے لے کر ٹی وی اینکرز تک ہر شعبے میں یہ سوچ رکھنے والے موجود ہیں اور اس کا پرچار بھی کر رہے ہیں۔ کھلے عام طالبان سے اظہار یک جہتی کیا جا رہا ہے۔
طالبان کی مذہبی فکر کیا ہے اسے جانے دیجئے ان کا انسانیت پر کیا اعتقاد ہے؟ میں سیاسی تجزیہ نگار نہیں ہوں۔ نہ ہی حالات حاضرہ پر میری کڑی نظر ہے۔ نہ میں امور خارجہ کے پروٹوکول جانتی ہوں اور نہ مجھے مسئلہ کو گہرائی میں جا کر دیکھنا آتا ہے۔ میں تو جو واضح نظر آ رہا ہے اس پر بات کر رہی ہوں۔ یہ منظر خوفناک ہے اور آگے چل کر اور بھی خوفناک ہو جائے گا۔
ایسے میں جب ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارا معاملہ نہیں افغان جانیں اور ان کا ملک جانے اور یہ کہ ہم غیر جانبدار ہیں۔ ہمارا کوئی فیورٹ نہیں۔ اس پر بڑی واہ واہ ہو رہی ہے کہ آخر ہم نے ماضی سے سبق حاصل کر ہی لیا اور اب ہم کسی بھی ملک کے گھریلو معاملات میں دخل نہیں دیں گے۔ افغانستان میں تو بالکل نہیں گھسیں اور نہ ہی انہیں یہاں گھسنے دیں گے۔ لیکن جب پڑوس میں آگ لگی ہو تو گھر آپ کا بھی محفوظ نہیں۔ ہم خاموش تماشائی نہیں بنے رہ سکتے۔
ایک کے بعد ایک علاقہ گر رہا ہے اور طالبان کے قبضے میں جا رہا ہے۔ افغان حکومت اپنے فوجیوں کو لڑانے کے بجائے پاکستان کو ہی الزام دے رہی ہے۔ یہ ایک گمراہ کن بیان ہے۔ تعجب اس پر ہے کہ افغان فوج اتنی نااہل اور ناکارہ کیوں ہے؟ بیس سال امریکی ٹریننگ اور جدید ترین اسلحہ رکھنے کے باوجود وہ اپنا دفاع نہیں کر سکے۔ اشرف غنی بھول گئے کہ پاکستان بھی افغان نیشنل آرمی کی مدد کر رہا تھا۔ افغان حکومت جو بھی ہو کبھی پاکستان سے خوش نہیں رہی۔ اور نہ ہی افغان باشندے پاکستان کو دوست سمجھتے ہیں۔ یہ بے اعتمادی کیوں ہے آخر؟ یہ وقت احسان جتانے کا بھی نہیں ہے کہ ہم نے اتنے افغانوں کو پناہ دی اور ہمارے ہاں سے اتنی رسد وہاں جاتی رہی۔ ہم ان تین میں تھے جنہوں نے طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا تھا اور ڈھیروں بدنامی مول لی۔ پر اب نہیں۔ طالبان کو تسلیم کرنے کا مطلب ہے کہ ہم خود کو بھی اسی آگ میں جھونک رہے ہیں۔ اگر افغانستان میں انتخابات ہوتے ہیں اور ان کے نتیجے میں طالبان کی حکومت بنتی ہے تب بھی ان کے ساتھ کوئی تعلقات رکھنا اچھا نہ ہو گا۔
طالبان کی مذہبی فکر کیا ہے اسے جانے دیجئے ان کا انسانیت پر کیا اعتقاد ہے؟ایک عام انسان کی حیثیت سے میرے سوالات ہیں۔طالبان کون ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں؟ بے ترتیب داڑھیاں۔ دھول مٹی میں اٹے کپڑے۔ کندھوں پر بندوقیں، چہروں پر وحشت۔ یہ کون ہیں؟ ان کا نظریہ کیا ہے؟ یہ چاہتے کیا ہیں؟ ان کی تعلیم کیا ہے؟ ان کی جنگی تربیت کون کر رہا ہے؟ جدید ترین اسلحہ ان کے پاس کہاں سے آئے؟ یہ گاڑیاں، جیپیں، ٹرک، ٹینک کہاں سے حاصل ہوئے؟ ان کی آمدنی کیا ہے؟ کس نے ان کے سر پر ہاتھ رکھا ہوا ہے؟ پردے کی پیچھے کون کون ہیں؟ امریکہ نے بیس سال وہاں گزار کر جو فوج اور پولیس کی تربیت کی وہ کیا ہوئی؟ جو اسلحہ وہ افغان فوج کے لیے چھوڑ گئے تھے وہ طالبان کے ہاتھوں تک کیسے پہنچا؟
ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ امریکہ ہم پر اعتماد نہیں کرتا۔ افغان ہمیں دشمن سمجھتے ہیں۔ ہمارے سارے ہمسائے ہم سے نالاں ہیں۔ ہماری خارجہ پالیسی کیا ہے اور کیوں ناکام ہے؟ مذاکرات میں ہمیں بلایا بھی نہیں جاتا لیکن ہم سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ طالبان پر اپنے اثر رسوخ ڈالیں۔ طالبان انڈیا سے بات کر رہے ہیں چین کو دوست بنا رہے ہیں۔ روس سے پچھلی تلخیاں بھلا کر نئی پینگیں بڑھائی جا رہی ہیں۔ عربوں نے بھی ان کے سر ہاتھ رکھا ہوا ہے۔ مغرب کے ممالک بھی کوئی دشمنی مول نہیں لیں گے۔ پھر ہم کیوں اتنے برے بنے ہوئے ہیں؟
اور ایک بار پھر افغان نقل مکانی کر رہے ہیں۔ جوق در جوق ہمسایہ ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔ ہم نے باڑ لگا تو لی لیکن کیا ہم نظریں چرا سکیں گے؟ اب ان مہاجرین کو پالنے میں امریکہ بھی مدد نہیں کرے گا۔ تو اب ہماری حکمت عملی کیا ہوگی؟
(بشکریہ: ہم سب لاہور)