یوم آزادی یا یومِ تاسیس؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 13 / اگست / 2021
- 6330
روایتی طور پر جی چاہتا ہے کہ حب ا لوطنی کی دھاک جمانے کیلئے لکھوں یہ کہ ہم نے لاکھوں جانوں کی قربانیاں دے کر 14اگست 1947 کو آزادی حاصل کی تھی، بڑا احسان ہے اے قائد اعظم تیرا احسان۔ آپ جیسا بڑا لیڈر آج تک دنیا میں پیدا ہی نہیں ہوا اور نہ کبھی ہو گا۔
آپ جارج واشنگٹن ، مہاتما گاندھی، ابراہم لنکن، ونسٹن چرچل، ڈیگال نپولین بلکہ اکبر اور اشوکا سے بھی بڑے” اعظم” تھے جبکہ آپ نے جو ملک حاصل کیا وہ امریکہ ، چین، انڈیا اور روس سے بھی بڑا اور طاقتور ملک ہے۔ رہتی دنیا تک کوئی اسے گزند نہیں پہنچا سکتا بلکہ میلی آنکھ سے دیکھ ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ یہ معجزہ خداوندی ہے جس کا ظہور ستائیسویں رمضان کی اس رات ہوا جو ہزار مہینوں سے بہتر اور مقدس ہے۔ اسی اسلوب میں لکھتا چلا جاؤں تو اخبار والوں کو بھی وڈٹک یا قطع برید کرنی پڑے گی اور نہ اس نوع کے ناپسندیدہ الفاظ لکھنے پڑیں گے کہ ’’یہ ناقابل اشاعت ‘‘ ہے یوں پاکستانیت کے مجسموں کو کوئی تکلیف پہنچے گی، نہ اس ناچیز کو حب الوطنی کے حوالے سے کوئی سرٹیفکیٹ درکار ہو گا ۔
جب بائیس کروڑ میں سے ساڑھے اکیس کروڑ یا ان سے بھی زیادہ اسی نوع کی تحریروں کو پسند فرماتے ہیں تو کسی دل جلے کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد ضرار تعمیر کرے۔ اچھا لکھاری وہ ہوتا ہے جو اپنے ایمانی حرارت والے قارئین کے دلہن جیسے نازک جذبات کا پوری طرح خیال رکھے اور کوئی ایسی ’’سچائی‘‘ بیان کرنے کی کوشش نہ کرے جس سے نزاکت بھرے جذبات کو گزند یا ٹھیس پہنچ جائے ۔ غالب نے کیا بُرا شعر کہا تھا :جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد پر طبیعت ادھر نہیں آتی۔ بندہ پوچھے زہدو تقویٰ کے سامنے بھلا طبیعت کی کیا حیثیت ہے ؟
غالب صاحب آپ براہ کرم کان کھول کر سن لیں آپ کی طبیعت ادھر آتی ہے یا نہیں آتی سب کو ثواب دارین کی اہمیت سمجھنا ہو گی ورنہ یہ قوم طبیعت صاف کر دے گی۔ نہ جانے ان لوگوں کو مسئلہ کیا ہے ؟ پاکستان میں رہتے ہیں پاکستان کا کھاتے ہیں لیکن گن ہمسائے ملک ہندوستان کے گاتے ہیں یا پھر امریکہ و یورپ کی تعریفیں کرنے لگتے ہیں۔ ان لوگوں کو احساس ہی نہیں ہے کہ اس ملک کے رکھوالوں کی شان میں رطب اللسان ہوں جو دنیا کے نمبر ون ہیں۔ جن کے جاگنے سے تم لوگ رات کو آرام کی میٹھی نیند سوتے ہوں اگر یہ نہ ہوں تو یہودوہنود کیا، امریکہ و یورپ کیا، ہمسایہ ملک افغانستان ہی آپ کو ٹھنڈی قلفی بنا کر کھا جائے ۔ ان لوگوں کو قومی جذبات کا احساس ہے اور نہ ہی ریاستی طاقت کا ادراک ، عجیب وغریب قسم کی بحثیں چھیڑ تے رہتے ہیں۔
آج جب پوری قوم خشوع وخضوع کے ساتھ یوم آزادی منا رہی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ ہمیں تو آج تک آزادی ملی ہی نہیں ہے۔ پہلے ہم سفید چمڑی والوں کے غلام تھے تو 47 کے بعد کالی چمڑی اور صحیح طرح نظر نہ آنے و الے رنگ کے لبادے میں ملبوس ہستیوں کے غلام ہیں۔ لہٰذا ہمیں یوم آزادی نہیں’’یوم جدوجہد آزادی ‘‘ منانا چاہئے کسی بھی ملک کے باسیوں یا شہریوں کے حقوق کا ضامن ان کا آئین ہوتا ہے لیکن جب طاقت کے زور پر آئین کو بوٹوں تلے روندا جائے تو پھر شہریوں کے حقوق کہاں محفوظ رہیں گے۔ جس ملک میں ہیومن رائٹس یا انسانی جانوں کو ٹکے کی اہمیت نہ ہو وہاں کیسا یوم آزادی اور کیسا جشن آزادی؟ ان میں سے بعض کو تو لفظ ’’آزادی‘‘ سے ہی چڑ ہے۔ کہتے ہیں کہ 15اگست 1947 سے قبل جب پاکستان نامی ملک کا وجود ہی نہیں تھا تو پھر کیسی غلامی اور کیسی آزادی؟
اگر آپ نے اس نئی تبدیلی کو کوئی نام دینا ہے تو اس کیلئے قومی زبان اردو میں ’’تاسیس‘‘ کا لفظ موجود ہے جس سے یہ واضح ہو کہ اس نئے ملک کا قیام اس تاریخ کو ہوا تھا ۔ رہ گیا قربانیوں کاسوال، یہ کہ اسے قائم کرنے کیلئے ہم نے 15لاکھ انسانی جانوں کے ساتھ ایک کروڑ کے لگ بھگ انسانوں کو ان کے آبائی گھروں سے بے دخل کروایا تھا۔ اپنی معزز عورتوں اور بچیوں کی عزتوں کو تار تارکروایا تھا جنہیں بیان کرتے ہوئے آج بھی آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں ۔دانشوری دکھاتے ہوئے یہ لوگ عجیب استدلال کرتے ہیں کہ یہ درد ناک قربانیاں پاکستان بنوانے کیلئے نہیں تھیں بلکہ پارٹیشن کا فطری نتیجہ یا رذلٹ تھیں۔ جن کے کارن مفتی صاحب نے یہ تک کہہ دیا تھا کہ شکر ہے ہم اس گناہ میں شامل نہیں تھے۔ بلاشبہ پارٹیشن کے نتائج میں اس خطے کے خوشحال ہندوؤں اور سکھوں کو بھی اپنے تمام اثاثہ جات سے محروم ہو کر در بدر ہونا پڑا مگر اصل قیمت تو خود مسلمانوں کو چکانی پڑی جن کا جسد قومی دائمی طور پر کاٹ کر تین ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ یوں ان کی اجتماعی طاقت بٹ کر باہمی سرپھٹول کیلئے بکھر کر رہ گئی ۔
یہ لوگ عجیب وغریب قسم کی منطق جھاڑتے ہیں اور تاریخی حوالوں سے استدلال کرتے ہیں کہ فسادات کی سوچی سمجھی شعوری بنیاد 16اگست 1946 کو کلکتہ اور نواکھلی سے شروع ہونے والے ان دنگوں سے رکھی گئی جو یوم راست اقدام (ڈائریکٹ ایکشن ڈے)پر لبیک تھی ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بنگالی دیگر نسلی اقوام کی نسبت زیادہ باشعور تھے مگر یہ کیسا شعور تھا جو پاکستان بنانے میں بھی پیش پیش تھا اور پھر اسے توڑنے میں بھی سب سے آگے۔ یعنی ہراول دستہ ثابت ہوئے۔ حالانکہ ہمارے قائد نے توصاف صاف فرما دیا تھا کہ تم بنگلہ زبان کیلئے جو مرضی کرلو اس مملکت خداداد کی زبان صرف اور صرف اردو ہو گی۔ اور یہ ملک تاابد قائم و دائم رہنے کیلئے بنا ہے، کوئی اسے گزند نہیں پہنچا سکے گا۔ انہی بنگالیوں نے ان کی صاف کہی باتوں کا کتنا برا جواب دیا۔ ربع صدی بھی نہ گزرنے پائی تھی کہ اس کا تیا پانچہ کر دیا۔
مگر ہمارے یہ سیکولر دانشور خواہ مخواہ دور کی کوڑیاں لاتے ہیں کہ پاکستان توڑنے کے ذمہ دار بنگالی بھائی نہیں ہیں، جبر کی وہ طاقت ہے جو لفظی طور پر آزادی آزادی کا کھیل تو خوب کھیلتی ہے اور اسے بطور ضیائی نعرہ بھرپور اچھالتی ہے مگر انسانی وقار اور ضمیر کی آزادی کو اس بری طرح سلب کرتی ہے کہ عامتہ الناس اس نام نہاد آزادی پر غلامی کو ترجیح دینے لگیں۔ ورنہ دنیا میں کبھی یہ ہوا ہے کہ میجارٹی نے مینارٹی سے خلاصی پانے کیلئے اپنا ملک توڑ دیا ہو ۔
ہم نے 1947 میں نیا پاکستان بنایا پھر قائد عوام آئے جنہوں نے 1971 میں نیا پاکستان بنایا اور اب موجودہ قائد مدینہ ریاست بھی نیا پاکستان بنانے جا رہے ہیں۔ خدا ہمارے پیارے ملک کی آزادی تمام سازشوں سے محفوظ رکھے، جن کا کھرا کہیں باہر نہیں ملک کے عین وسط میں موجود ہے ۔