مشکلات کے باوجود پاکستان سرخرو رہا ہے: یوم آزادی پر صدر و وزیر اعظم کے پیغامات

  • ہفتہ 14 / اگست / 2021
  • 4370

پاکستانی قوم آج 75واں یوم آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منارہی ہے۔ اس روز کی مناسبت سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان نے قوم کے نام اپنے پیغامات جاری کیے ہیں۔

صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے یوم آزادی کے موقع پر قوم کے نام پیغام میں کہا کہ اپنے 74 سالہ سفر کے دوران پاکستان نے بہت سے چیلنجز کا سامنا کیا، مگر ہم اپنی محنت، قربانیوں اور قوم کے تعاون سے ان چیلنجز میں سرخرو ہوئے۔ پاکستانی قوم ایک ذہین اور بہادر قوم ہے اور مختلف شعبہ جات میں ہماری نمایاں کامیابیاں ہمیں دوسری اقوام سے ممتاز کرتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو اس امر کی تعریف کرنا ہوگی کہ پاکستان نے انفرادی طور پر دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑی اور بالآخر اس عفریت کو شکست دی۔ اسی طرح پاکستان کا جوہری طاقت بننا بھی ایک بڑی کامیابی ہے اور ہماری جوہری صلاحیتوں نے ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کئی دہائیوں سے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں، کورونا وبا کے خلاف پاکستان کے مؤثر اقدامات کو بھی عالمی سطح پر سراہا گیا۔ کورونا وبا کے خلاف اس عظیم کامیابی پر میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس، علمائے کرام، میڈیا، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر، سیکیورٹی فورسز اور پوری قوم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

وزیر اعظم عمران خان قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ آج یوم آزادی کے موقع پر قومی پرچم لہراتے ہوئے ہمیں ایمان، اتحاد، تنظیم کی قومی اقدار کو سربلند رکھنے کے پختہ عزم کا اعادہ کرنا چاہیے جس کا تصور قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے پیش کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک متحد، پرامن اور پرعزم قوم کی حیثیت سے ابھرنے کے لیے اپنی تاریخ کے سفر میں کٹھن چیلنجز عبور کیے ہیں۔ آج بھی اندرون ملک بعض مسائل کے ساتھ ساتھ خطے کی بدلتی صورتحال ہمارے اس عزم کا امتحان ہے۔ لیکن ہمیشہ طرح ہم اپنے عزم صمیم کی بدولت ان رکاوٹوں پر قابو پالیں گے اور مضبوط تر قوم کے طور پر ابھریں گے۔

پاکستان آج اقوام عالم کے درمیان سر اٹھا کر کھڑا ہو سکتا ہے۔ معیشت کی بحالی، کورونا وبا سے نبرد آزما ہونے اور ماحولیاتی تحفظ بارے میں ہماری پالیسیوں کو دنیا بھر میں پذیرائی ملی ہے۔ اس موقع پر ہمیں اپنے کشمیری بہن بھائیوں کو نہیں بھولنا چاہیے جو انتہائی نامساعد حالات اور بھارتی غیر قانونی قبضے میں ناقابل بیان جبر میں اپنے حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ کشمیر کے عوام اپنے ساتھ کیے گئے وعدوں کی تکمیل کے لیے عالمی برادری کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد میں کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنی مغربی سرحدوں پر غیر مستحکم صورتحال کے باعث بڑی قربانیاں دی ہیں اور اس کی بھاری قیمت چکائی ہے۔ ہم نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ افغانستان کے تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ افغانستان میں دیرپا امن و استحکام کے لے پاکستان افغان تنازع کے مذاکرات سے سیاسی حل کی حمایت جاری رکھے گا۔ اپنے معاشی و سماجی ایجنڈے کی پیروی کے لیے ہم اندرون اور بیرون امن چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے پاکستان میں ہماری تمام تر توجہ جیو پالٹیکس سے اب جیو اکنامکس پر مرکوز ہوگئی ہے جس میں ہم اولین ترجیح کے طور پر پاکستانی عوام کی فلاح و بہبود اور خوشحالی پر توجہ دے رہے ہیں۔