افغانستان کے مسئلے پر دنیا اور پاکستان ایک پیج پر ہیں: وزیر خارجہ
- اتوار 15 / اگست / 2021
- 4550
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان کے مسئلے پر دنیا اور پاکستان ایک پیج پر ہیں کہ اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔
ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان بارہا یہ کہتا آیا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی عسکری حل نہیں ہے اور پاکستان کے اس موقف کو دنیا نے تسلیم کیا اور خصوصاً یہ وزیر اعظم عمران خان کا سالوں پرانا موقف ہے۔
دنیا اور پاکستان ایک پیج پر ہیں اور وہ ایک پیج یہ ہے کہ افغانستان کا مسئلہ گفت وشنید اور مذاکرات سے حل کیا جائے اور پرامن طریقے سے اقتدار کی منتقلی کا طریقہ کار سامنے آ جائے۔ جو جامع اور وسیع تر بھی ہو تاکہ افغانستان کے تمام گروپس کو اس میں نمائندگی مل سکے۔ اور وہ پرامن طریقے سے افغنستان کے مستقبل کا حل تلاش کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ اب یہ افغانستان کی قیادت کی آزمائش کے لمحات ہیں۔ افغانستان کے عوام امن چاہتے ہیں، وہ استحکام چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے گھروں میں محفوظ رہیں اور انہیں نقل مکانی نہ کرنی پڑے اور روزمرہ کا کاروبار بھی چلتا رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ معاملات اسی طرح آگے بڑھیں اور گفت و شنید سے مسئلہ حل ہو۔ ہماری کوششیں جاری ہیں، ہم تمام تر عمل کا حصہ رہے ہیں۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عاشورہ کے بعد میں وزیر اعظم کی اجازت سے افغانستان کے تمام ہمسایہ ممالک سے رابطہ کروں گا اور ان سے تبادلہ خیال بھی ہوگا تاکہ ہم ایک پرامن حل کی طرف آگے بڑھ سکیں اور دیگر ہمسایوں کے ساتھ بیٹھ کر ایک پیج پر ہوں۔ ہمیں افغانستان کی بہتری مقصود ہے، ہمارا کوئی ایجنڈا نہیں ہے۔ ہمارا ایجنڈا امن و استحکام اور افغانستان کی یکجہتی و خوشحالی ہے، عوام کا تحفظ ہمارا ایجنڈا ہے اور ہم خون خرابے سے بچاؤ چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہو رہی ہے۔ اس میں بہت ذمے دارانہ کردار ادا کرنا ہے۔ پاکستان کا کردار مثبت رہے گا، ہم واضح کہہ چکے ہیں کہ ہم نے ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ہے اور نہ ہی کرنے کا ارادہ نہیں ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سفارتخانہ وہاں کام کررہا ہے اور پوری کوشش ہے کہ اگر کوئی پاکستانی وہاں پھنسا ہوا ہے اور باہر جانا چاہتا ہے اور پاکستان اگر اسے سہولت فراہم کر سکتا ہے تو پاکستان انہیں سہولت فراہم کرنے کی پوری کوشش کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اضافی افغان مہاجرین ابھی تک نہیں آئے۔ پاکستان نے اپنی سرحد پر باڑ لگا دی ہے اور وہاں نگرانی کے سینسر نصب کیے ہیں اور ٹیکنالوجی کی تنصیب بھی کی ہے اور خاطر خواہ دستوں کو بھی سرحد پر تعینات کیا ہے تاکہ ہمارا علاقہ پرامن رہے اور ہم امن و استحکام کی طرف توجہ دے سکیں۔