طالبان کابل میں داخل، اقتدار کی پُر امن منتقلی کے لئے مذاکرات

  • اتوار 15 / اگست / 2021
  • 6740

طالبان جنگجو افغانستان کے دارالحکومت کابل میں داخل ہوگئے اور مرکزی حکومت سے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ افغان اور غیر ملکی شہری انخلا میں مصروف ہیں۔ خبروں کے مطابق کابل میں اس وقت نفسا نفسی کا عالم ہے۔

غیر ملکی خبررساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق کابل حکومت ایک عبوری حکومت کے قیام کی کوشش کررہی ہے لیکن اس کے پاس محدود اختیار باقی رہ گیا ہے۔ دوسری طرف ملک کے شہری شدید خوف کے پیشِ نظر شہر اور ملک چھوڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اندیشہ ہے کہ طالبان دوبارہ جابرانہ نظام مسلط کردیں گے جس میں خواتین کے حقوق سلب ہوں گے۔

تاہم طالبان کا کہنا تھا کہ وہ اقتدار کی پر امن منتقلی کے منتظر ہیں اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ دارالحکومت کابل پر بزور قبضہ نہیں کریں گے۔ایک آن لائن بیان میں طالبان کے ترجمان  کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے جنگجوؤں کو کابل کے دروازے پار کرکے طاقت کے ذریعے شہر کا کنٹرول نہ حاصل کرنے کی ہدایت کابل کے شہریوں کی زندگی، املاک، عزت پر سمجھوتہ کیے بغیر اقتدار کی منتقلی  یقینی بنانے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔

طالبان کے ترجمان نے قطر نشریاتی ادارے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ کابل شہر کی پر امن منتقلی کا انتظار کررہے ہیں تاہم انہوں نے جنگجوؤں اور حکومت کے درمیان ہونے والی بات چیت کی تفصیلات بتانے سے انکار کیا۔ اصرار پر سہیل شاہین نے اعتراف کیا کہ وہ مرکزی حکومت سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

ایک طالبان عہدیدار نے خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گروپ اقتدار کے حصول میں کوئی جانی نقصان نہیں چاہتا لیکن اس نے جنگ بندی کا اعلان بھی نہیں کیا ہے۔ خبروں کے مطابق طالبان مذاکرات کار اقتدار کی پر امن منتقلی کی بات چیت کرنے افغان صدارتی محل پہنچے ہیں۔ حکام کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں کہ اقتدار کی منتقلی کب ہوگی۔

ایک ویڈیو بیان میں افغان قائم مقام وزیر داخلہ نے کہا کہ کابل پر حملہ نہیں کیا جائے گا اور اقتدار کی منتقلی پر امن ماحول میں ہوگی۔

قبل ازیں اتوار کے روز ہی طالبان نے افغان حکام کے زیر انتظام آخری زمینی گزرگاہ طورخم بارڈر پر بھی قبضہ کرلیا تھا، جس کے بعد افغانستان سے باہر جانے کا واحد ذریعہ کابل ایئرپورٹ ہی بچا ہے جو فی الوقت حکومت کے زیر انتظام ہے۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے افغانستان میں موجود امریکیوں کے محفوظ انخلا کے لیے مزید ایک ہزار اہلکاروں کی تعیناتی کی اجازت دے دی ہے جس کے بعد محفوظ انخلا کے لیے مقرر کیے امریکی فوجیوں کی تعداد 5 ہزار ہوجائے گی۔ خبررساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی اہلکار 2 دہائی سے جاری جنگ کے دوران غیر ملکی افواج کے ساتھ کام کرنے والے افغانوں کے انخلا میں بھی مدد کریں گے۔

آخری لمحات میں ہزاروں امریکی فوجیوں کی دوبارہ تعیناتی افغانستان کی گھمبیر سیکیورٹی صورتحال ظاہر کرتی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہی ایک امریکی خفیہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کابل پر قبضے میں 3 ماہ کا عرصے لگ سکتا ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکی ٹیم کے اہم ترین اراکین کابل ایئرپورٹس سے کام کررہے ہیں جبکہ نیٹو حکام کا کہنا تھا کہ یورپی عملے کے اراکین کو دارالحکومت میں نامعلوم محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

قبل ازیں امریکی شہریوں کے انخلا کے لیے ایک ہزار امریکی فوجی رکھنے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم حکام کو یہ تعداد ناکافی معلوم ہوئی جس کے بعد مزید 3 ہزار فوجی بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا اور اتوار کے روز اس میں ایک ہزار اہلکاروں کا اضافہ کرنے کا اعلان سامنے آیا۔

افغان صدارتی محل کی ایک ٹوئٹ میں بتایا گیا کہ کابل کے اطراف میں متعدد مقامات پر فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں لیکن سیکیورٹی فورسز بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ شہر کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں۔ اس سے قبل طالبان نے مزاحمت اور لڑائی کے بغیر افغانستان کےشہر جلال آباد پر قبضہ کرلیا تھا جس کے بعد افغان حکومت کا کنٹرول دارالحکومت کابل تک ہی محدود ہوگیا تھا۔

خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق جلال آباد کے سقوط نے طالبان کو اس سڑک کا کنٹرول بھی دے دیا تھا جو پاکستان کے شہر پشاور کو افغانستان سے ملاتی ہے اور ملک کی اہم ترین شاہراہوں میں سے ایک ہے۔

اس سے قبل طالبان نے ملک کے چوتھے بڑے شہر مزار شریف پر بھی قبضہ کرلیا تھا جس کا دفاع 2 سابق وار لارڈز نے کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ یوں طالبان کو افغانستان کے پورے شمالی حصے پر قبضہ حاصل ہوگیا۔ جلال آباد میں ایک افغان عہدیدار نے بتایا کہ شہر میں کوئی لڑائی نہیں ہورہی کیوں کہ گورنر نے طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں اور انہیں راستہ دینا شہریوں کی زندگی بچانے کا واحد راستہ تھا۔

ایک دوسرے سیکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ طالبان نے حکومتی عہدیداران اور سیکیورٹی فورسز کو جلال آباد سے نکلنے کی صورت میں محفوظ راستہ دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

حکام نے شناخت پوشیدہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ افغان صدر کے 2 اتحادی وار لارڈز عطا محمد نور اور عبدالرشید دوستم ازبکستان فرار ہوگئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی غیر مصدقہ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ افغان فوج کی گاڑیاں اور یونیفارم میں ملبوس آدمی افغان قصبے حیرتان اور ازبکستان کے درمیان لوہے کے پل پر جمع ہورہے ہیں۔

عسکریت پسندوں نے اتوار کی صبح تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کیں جن میں انہیں صوبہ ننگر ہار کے دارالحکومت جلال آباد میں گورنر کے دفتر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ کابل میں امریکی سفارت خانے کے عملے کو حکم دیا جاچکا ہے کہ وہ حساس مواد کو جلانا شروع کردیں جبکہ برطانیہ، جرمنی، ڈنمارک اور اسپین سمیت یورپی ممالک اپنے سفارت خانوں سے اہلکاروں کو واپس بلانے کا اعلان کر چکے ہیں۔

کابل کے باشندوں کے ساتھ ساتھ دارالحکومت میں پناہ لینے والے ہزاروں افراد بھی خوف اور عدم تحفظ کے احساس کا شکار ہیں۔

واضح رہے کہ افغانستان میں امریکا نے 2001 میں پہلی مرتبہ طالبان حکومت کے خلاف حملے شروع کیے تھے، جو نائن الیون حملوں کا نتیجہ تھا۔ تاہم 2 دہائیوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے بعد گزشتہ برس فروری کو امن معاہدہ کیا تھا جس کی رو سے غیر ملکی افواج کے انخلا اور افغان حکومت کی طالبان کے ساتھ بات چیت پر اتفاق ہوا تھا۔