نئی سیاسی صف بندی اور جوڑ توڑ

انتخابات 2023پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے لیے ایک بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اب حکومت اور حزب اختلاف کے مابین جو بھی محاذ آرائی ہوگی اس کے پیچھے مستقبل کے انتخابات اور اپنی مرضی کے سیاسی نتائج کا حصول ہوگا۔

 حکومت کو گرانے کا سیاسی ایجنڈا تھا وہ اب کہیں گم ہوکر رہ گیا ہے اور حزب اختلاف میں بھی یہ احساس بڑھ گیا ہے کہ ان کی سیاسی توجہ حکومت گرانے سے زیادہ نئے انتخابات کی سیاست پر ہوگی۔حکومت اور حزب اختلاف کی سیاست کابنیادی نکتہ اپنے اپنے سیاسی مخالفین پر  برتری اور اقتدار کی طاقت کو یقینی بنانا ہوگا۔یہ ہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں ہمیں حکومت اور حزب اختلاف کی سیاست میں جو نئی  جھلک نمایاں طور پر دیکھنے کو مل رہی ہے اس میں انتخابی سیاست کی حکمت عملی کو فوقیت نظر آتی ہے۔

قومی سیاست میں تین بڑے سیاسی فریق ہیں۔ اول حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف اور حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتیں جن میں پیپلز پارٹی او رمسلم لیگ ن نمایاں ہیں۔ اس کے برعکس دیگر جماعتوں کے پاس واحد آپشن یہ ہی ہوگاکہ وہ ان تینوں بڑی سیاسی قوتوں کے ساتھ  تعاون  کو بنیاد بنا کر انتخابی میدان میں حصہ دار بنیں۔بظاہر جو سیاسی منظر نامہ غالب ہوگا اس میں پرو پی ٹی آئی او راینٹی پی ٹی آئی کی بنیاد پر سیاسی معرکہ سجے گا۔یہ بھی کافی حد تک نظر آتا ہے کہ یہ تینوں جماعتیں اپنے اپنے سیاسی پلیٹ فارم پر تنہا انتخاب میں حصہ لیں گی، جبکہ دیگر جماعتوں کے ساتھ انتخابات کے نتائج کے بعد سیاسی اتحاد بننے کے امکانات ہوں گے۔پنجاب میں مسلم لیگ ن اور سندھ میں پیپلزپارٹی تنہا تحریک انصاف کا مقابلہ کرے گی۔اسی طرح تحریک انصاف بھی پنجاب، خیبر پختونخواہ، سندھ میں بغیر کسی اتحاد کے انتخاب میں حصہ لے گی۔

پنجاب میں سب سے بڑا سیاسی معرکہ تحریک انصاف او رمسلم لیگ ن کے درمیان ہوگا او ریہ کانٹنے کا مقابلہ ہوگا۔ البتہ پیپلزپارٹی یہاں مسلم لیگ ق، جہانگیر ترین گروپ اور جنوبی پنجاب میں بااثر سیاسی خاندانوں کی حمایت سے ایک بڑا سیاسی گروپ بنانا چاہتی ہے۔پیپلزپارٹی کو احساس ہے کہ وہ پنجاب کی سیاست میں تنہا کچھ نہیں کرسکے گی۔اس کے پاس واحد آپشن پنجاب میں تحریک انصاف او رمسلم لیگ ن کے مقابلے میں اپنا  وجود طاقت ور سیاسی خاندانوں کی مدد سے قائم کرنا ہے۔پنجاب میں ایک بڑا فیصلہ مسلم لیگ ن کی داخلی تقسیم سے بھی جڑا ہوا ہے اور دیکھنا ہوگا کہ پنجاب کی سیاست میں اصل فیصلہ کن حیثیت شہباز شریف او رمریم نواز میں کس کی ہوگی اور انتخابی سیاست میں کون پارٹی کی قیادت کو لیڈ کرے گا۔کیونکہ مسلم لیگ ن کے ارکان اسمبلی میں یہ تشویش موجود ہے کہ پارٹی کے بیانیہ کی تقسیم او راسٹیبلیشمنٹ سے ٹکراؤکی سیاست ان کو انتخابی سیاست میں زیادہ برتری نہ دے سکے۔یہ

 ہی وجہ ہے کہ ارکان اسمبلی کی اکثریت شہباز شریف کی حمایت کو ہی اپنی طاقت سمجھتی ہے۔لیکن اصل فیصلہ نواز شریف نے ہی کرنا ہے اور دیکھنا ہوگا کہ وہ اپنا سیاسی وزن کس کے سیاسی پلڑے میں ڈالنا پسند کریں گے۔مسلم لیگ ن کی اگر داخلی لڑائی کا فیصلہ جلد نہیں ہوگا تو اس کا بڑا سیاسی فائدہ تحریک انصاف اور پھر پیپلز پارٹی کو ہوگا جو خود اپنے آپ کو ایک متبادل طاقت کے طور پر سامنے آنا چاہتی ہے۔

پیپلزپارٹی کی توجہ کا بنیادی مرکز سندھ ہی ہوگا۔ وہ پنجاب اور بلوچستان میں اپنے لیے ایک محفوظ راستہ بنانا چاہتی ہے۔ اسی بنیاد پر چند دن قبل بلوچستان سے اہم لوگوں کی مسلم لیگ ن کو چھوڑ کر پیپلزپارٹی میں شمولیت ہے۔اسی طرح کی ایک جھلک آصف زرداری جنوبی پنجاب کو بنیاد بنا کر کچھ لوگوں کی شمولیت کو ممکن بنانا چاہتے ہیں۔دیکھنا یہ بھی ہوگا کہ کیا پنجاب میں پیپلزپارٹی او رمسلم لیگ ق کا سیاسی انتخابی اتحاد ممکن ہوسکے گا۔کیونکہ اس بات کے امکانات محدود ہوں گے کہ تحریک انصاف او رمسلم لیگ ق میں انتخابی اتحاد ہوسکے او راس بار عمران خان مسلم لیگ ق کے مقابلے میں اپنے امیدوار بھی کھڑا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔یعنی مسلم لیگ ق کے مقابلے میں تحریک انصاف کا امیدوار نہ کھڑے کرنے کا فیصلہ ختم ہوسکتاہے۔یہ ہی وہ نقطہ ہوسکتا ہے جو مسلم لیگ ق اور پیپلزپارٹی میں انتخابی اتحاد کو قائم کرسکے کیونکہ تن تنہا  یہ جماعتیں کچھ نہیں کرسکیں گی۔

تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی میں اس بار سندھ کارڈ بھی نمایا ں ہوگا۔ آنے والے کچھ عرصہ میں ہمیں سندھ کی سطح پر تحریک انصاف کا ایک سرگرم سیاسی میدان دیکھنے کو ملے گا۔ اس بار تحریک انصاف گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے مقابلے میں خود بطور جماعت انتخابی سیاست میں سامنے آئے گا۔ اسی بنیاد پر پیپلزپارٹی مخالف لوگوں کی براہ راست تحریک انصاف میں شمولیت کے مناظر بھی دیکھنے کو ملیں گے۔اسی کو بنیاد بنا کر وزیر اعظم کے سندھ کے دوروں کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔کیونکہ اگر زرداری پنجاب میں سرگرم ہوتے ہیں تو جوابی حکمت عملی کے تحت سندھ میں تحریک انصاف بھی اپنا سیاسی رنگ دکھانے کی کوشش کرے گی۔

عام انتخابات سے قبل اس بات کے امکانات بھی موجود ہیں کہ ہمیں چاروں صوبوں میں مقامی حکومت کے انتخابات کے مناظر بھی دیکھنے کو ملیں گے۔اگرچہ صوبائی حکومتیں ان انتخابات کے انعقاد میں زیادہ دلچسپی نہیں لے رہی،مگر سپریم کورٹ کے دباؤ پر ان انتخابات کا انعقاد کا امکان ہوسکتا ہے۔  مقامی حکومتوں کے انتخابات کے نتائج بھی کافی حد تک عام انتخابات کے سیاسی نتائج کی ایک جھلک دیکھنے کو مل سکتی ہے۔صوبائی حکومتوں کی پوری کوشش ہوگی کہ وہ ان مقامی حکومتوں کے انتخابی نتائج کو اپنے حق میں تبدیل کریں تاکہ عام انتخابات کے نتائج کو اپنے حق میں کرنے کی طرف پیش رفت کرسکیں۔ مقامی حکومتوں کے انتخابات کی بڑی جنگ بھی ہمیں پنجاب کی سیاست میں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے درمیان دیکھنے کو ملے گی۔اس کی پہلی جھلک ہمیں کنٹونمنٹ بورڈ کے مقامی انتخابات ہیں جو اس برس ستمبر میں ہورہے ہیں او ریہ انتخابات بھی جماعتی بنیادوں پر منعقد ہونگے۔

تحریک انصاف کا بڑا چیلنج اپنی حکومت کی کارکردگی کو بہتر انداز میں پیش کرنا ہے۔ ان کے بقول صحت کارڈ، احساس پروگرام، خدمت کارڈ، کسان کارڈ، مکانوں کی تعمیر کے لیے کم شرح پر قرضوں کی فراہمی، تین مرحلہ تعمیر شدہ پانچ لاکھ مکانوں کی تقسیم او رانتخابات سے قبل مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سبسڈی دے کر اپنی حکومت کی بہتر تصویر پیش کرنا ہے۔لیکن اہم بات یہ ہی ہے کہ کیا عام انتخابات سے قبل حکومتی بہتر کارکردگی کی تصویر عام آدمی میں مثبت طور پرپیش ہوسکے گی۔اسی طرح اگر مسلم لیگ ن میں ٹکراؤکی سیاست برقرار رہتی ہے تو اس کے نتیجے میں تحریک انصا ف کو کچھ برتری بھی حاصل ہوگی۔مسلم لیگ ن ابھی بھی پنجاب کی سیاست میں ایک اہم طاقت ہے او راس کی سیاسی طاقت کو آسانی سے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

مذہبی سیاست کے حوالے سے ایک امکان یہ موجود ہے کہ بڑی سیاسی جماعتوں کی طرف سے کوئی بڑا انتخابی اتحاد یا  مل کر انتخاب لڑنے کی حمایت نہیں مل سکے گی۔ ایسی صورت میں مولانا فضل الرحمن کی کوشش ہوگی کہ وہ اسلامک فرنٹ کی طرز پر مذہبی جماعتوں کا انتخابی اتحاد قائم کریں۔ اسی طرح اگر تحریک لبیک پر پابندی ختم ہوتی ہے تو وہ کسی اتحاد کا حصہ بنتی ہے یا تنہا انتخاب میں حصہ لے گی اہم سوال ہوگا۔کیونکہ یہ بات کافی حد نظر آرہی ہے کہ ہر حلقہ میں ان کے پاس دس سے پندرہ ہزار ووٹ موجود ہے اور وہ تنہا اگر انتخاب میں حصہ لے گی تو اس کا نقصان پنجاب میں دونوں بڑی جماعتوں کو ہوگا۔

ایم کیوایم کی بھی کوشش ہوگی کہ وہ کراچی کا اگلا انتخاب متفقہ طور پر لڑیں اور ایم کیو ایم کی باہمی لڑائی ہے  ختم کرکے ایک ہی پلیٹ فارم پر انتخاب میں حصہ لیا جاسکے۔مولانا فضل الرحمن کو آج بھی خیبر پختونخواہ میں کافی چیلنج کا سامنا ہے او ران کے لیے سیاسی طور پرخبریں بھی اچھی نہیں ہیں۔اس لیے ساری سیاسی جماعتیں نئی صف بندی میں مصروف ہیں او رخو د کے لیے اپنا اپنا سیاسی محفوظ راستے کی تلاش میں ہیں۔