ہیٹی میں زلزلے سے اموات کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرگئی
- سوموار 16 / اگست / 2021
- 4170
ہیٹی میں 7.2 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر ایک ہزار 297 ہوگئی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق زلزلے کا مرکز دارالحکومت سے تقریباً 150 کلومیٹر مغرب میں 10 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔ زلزلہ اس قدر شدید تھا کہ اس کے جھٹکے کیوبا اور جمائکا میں بھی محسوس کیے گئے۔
ہیٹی کے سول پروٹیکشن ادارے نے کہا کہ زلزلے سے 5700 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن کا علاج جاری ہے۔
یہ تباہی مزید بڑھ سکتی ہے کیونکہ ٹراپیکل ڈپریشن گریس کے پیر کی رات کو ہیٹی سے ٹکرانے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ امریکی نیشنل ہریکین سینٹر نے خبردار کیا ہے کہ اتوار کے روز ٹراپیکل طوفان کی قوت میں کمی آئی ہے۔ اس کے باوجود تیز بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔
جنوبی شہروں لیس کیز اور جیرمی کو آپس میں ملانے والی قومی شاہراہ سیون میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہوگئی جس کی بحالی کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ زلزلے سے متاثرہ علاقے میں پھیلے مناظر میں خاندانوں نے اپنے چند سامان کے ساتھ رات کھلی فضا میں فٹبال کے میدان میں گزاری۔
جوہانے ڈورسلی، جن کا گھر مکمل تباہ ہوگیا تھا، کا کہنا تھا کہ 'ہمارے پاس اب صرف خدا ہے، اگر یہ بھی نہ ہوتا تو میں آج یہاں نہیں ہوتا'۔
یونیسیف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہینریٹا فور نے کہا ہے کہ انسانی ضروریات بہت زیادہ ہیں، ہیٹی کی عوام کو فوری طور پر صحت کی دیکھ بھال، صاف پانی اور پناہ گاہ کی ضرورت ہے۔ جو بچے والدین سے الگ ہو چکے ہیں انہیں تحفظ کی ضرورت ہے۔
خطے بھر سے صحت ورکرز مدد کے لیے پریشان ہیں کیونکہ لیس کیز کے ہسپتالوں میں سرجری کرنے کے لیے جگہ ختم ہونے لگی ہے۔ نان پرافٹ بین الاقوامی صحت ادارے کے ایک ماہر نے کہا کہ بنیادی طور پر انہیں ہر چیز کی ضرورت ہے۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا کہ یو ایس ایڈ، ہیٹی کی حکومت کی درخواست پر ورجینیا سے سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم بھیج رہی ہے۔ 65 افراد کی ٹیم خصوصی آلات اور طبی سامان سے لیس ہوگی۔