کابل ایئرپورٹ پر افراتفری کے دوران فائرنگ، 5 افراد ہلاک
- سوموار 16 / اگست / 2021
- 5840
کابل پر طالبان کے کنٹرول کے بعد سے حامد کرزئی ایئرپورٹ پر ملک سے باہر جانے کے خواہشمند افغان شہریوں کے جم غفیر کے باعث شدید افراتفری دیکھنے میں آئی۔ بھگدڑ میں 5 افراد ہلاک ہوگئے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق سینکڑوں افراد نے زبردستی طیاروں میں سوار ہونے کی کوشش کی جس دوران کم از کم 5 افراد ہلاک ہوگئے لیکن فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ان افراد کی ہلاکت کیسے ہوئی۔ ایک امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ البتہ امریکی سفارتی اہلکاروں اور عملے کو لے جانے والی فوجی پرواز میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کرنے والے افغان شہریوں کو منتشر کرنے کے لیے فوجیوں نے ہوائی فائر کیے تھے۔
گھنٹوں سے پرواز کے منتظر ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں کہ ان افراد کی ہلاکت گولی لگنے سے ہوئی یا بھگدڑ سے اور ایئرپورٹ پر موجود امریکی عہدیدار بھی اس پر بیان دینے کے لیے دستیاب نہیں ہوئے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں 3 لاشوں کو ایئرپرٹ کے احاطے میں دیکھا جاسکتا ہے جبکہ ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ انہوں نے 5 لاشیں دیکھی ہیں۔ اتوار کی رات سے ہی سینکڑوں افغان شہریوں نے ایئرپورٹ کے رن وے پر قبضہ کرلیا تھا اور اپنے سامان سمیت آخری کمرشل پروازوں میں سوار ہونے کی کوششیں کرتے رہے۔
پاکستان جانے کی ایک خواہشمند انسانی حقوق کی رضاکار رخشندہ جلالی نے خبررساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارا ایئرپورٹ ہے لیکن ہم غیر یقینی میں انتظار کررہے اور سفارتکاروں کو انخلا کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔
ایئرپورٹ کا انتظام تاحال امریکی فورسز کے پاس ہے جنہوں نے فوجی پرواز میں سوار ہونے کی کوشش کرنے والے افغانوں کو ٹرمک پر جانے سے روکنے کے لیے ہوائی فائر بھی کیے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ درجنوں افراد نے طیارے میں سوار ہونے کے لیے اوور ہیڈ روانگی گینگ وے پر چڑھنے کی کوشش کی۔
دوسری جانب ایک بیان میں ایئرپورٹ حکام نے کہا ہے کہ حامد کرزئی ایئرپورٹ پر تمام کمرشل پروازوں کا آپریشن معطل کردیا گیا ہے۔ عوام پر زور دیا گیا کہ ایئرپورٹ پر ہجوم نہ لگائیں۔
افغان نشریاتی ادارے طلوع نیوز کے مطابق رات سے ہی لوگوں کا جم غفیرائیرپورٹ پر موجود ہے۔ ملک سے باہر جانے کی امید میں تقریباً 2 ہزار افراد ایئرپورٹ پر موجود تھے۔
اسی دوران امریکی فورسز کی سہولت کے ساتھ انخلا کی کارروائیاں جاری ہیں۔ خبررساں ادارے اے ایف پی رپورٹ کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس صورتحال کو قابو کرنے کے لیے اقدامات کرے گا۔