طالبان بنیادی حقوق کا احترام کریں گے تو امریکا انہیں تسلیم کرلے گا: انٹونی بلنکن
- سوموار 16 / اگست / 2021
- 4130
امریکی سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ امریکا، افغانستان میں مستقبل کی حکومت کو صرف اس صورت میں تسلیم کرے گا جب وہ اپنے لوگوں کے بنیادی حقوق کا احترام کرے اور دہشت گردوں کو ملک سے دور رکھے۔
اس دوران چین کی جانب سے طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے حوالے سے میڈیا رپورٹس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل کی افغان حکومت جو اپنے لوگوں کے بنیادی حقوق کو برقرار رکھے اور جو دہشت گردوں کو پناہ نہ دے، اس حکومت کے ساتھ ہم کام کر سکتے ہیں اور تسلیم کرسکتے ہیں۔
اس دوران تمبصرین کا بھی یہی کہنا ہے کہ اگر طالبان بنیادی حقوق کا احترام نہیں کرتے اور دہشت گردوں کو پناہ دینا بند نہیں کرتے تو کابل میں طالبان کی زیر قیادت حکومت کو بین الاقوامی امداد نہیں ملے گی، پابندیاں نہیں ہٹائی جائیں گی اور وہ سفر نہیں کرسکیں گے۔
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ امریکا سمیت عالمی برادری پر یہ لازم ہے کہ وہ معاشی، سفارتی اور سیاسی، ہر وہ آلہ استعمال کرے جو ہمارے پاس ہے اور یقینی بنائیں کہ انسانی حقوق کااحترام ہو۔ اس سے قبل ایک انٹرویو مٰن انٹونی بلنکن نے عجلت میں افغانستان سے انخلا کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر امریکہ فوج نہ نکالتا تو طالبان نے واضح کردیا تھا کہ وہ جنگ کریں گے۔ اس طرح ہمیں مزید فوج وہاں بھیجنا پڑتی جو درست فیصلہ نہ ہوتا۔
سی این این کے اینکر انٹونی بلنکن کو یاد دلایا کہ ایک حالیہ بیان میں امریکی صدر جو بائیڈن نے اصرار کیا تھا کہ کابل حکومت کا خاتمہ نہیں ہوگا اور ان سے سوال کیا کہ صدر اتنا غلط کیسے ہو سکتے ہیں۔ سیکریٹری خارجہ نے دلیل دی کہ امریکا نے افغانستان میں اپنے اہداف کو پورا کیا ہے۔
صحافی نے افغانستان میں سابق امریکی سفیر ریان کروکر کے بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکی فوجیوں کا انخلا افغانستان کو طالبان کے حوالے کرنا ہے اور سوال کیا کہ کیا امریکہ پر افغانستان سے اس تباہ کن انخلا کا الزام نہیں ہوگا۔ انٹونی بلنکن نے کہا کہ ہم نے صدر سمیت سب سے کہا ہے کہ طالبان 2001 کے بعد سے اب تک کی اپنی سب سے بہترین پوزیشن پر ہیں۔
یہ طالبان ہیں جو ہمیں وراثت میں ملے ہیں اور اسی طرح ہم نے دیکھا کہ وہ جارحانہ انداز میں پیش قدمی کرنے اور ملک کو واپس لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ امریکا نے جدید ترین فوجی سازوسامان، 3 لاکھ مضبوط افواج اور ایک فضائی قوت پر اربوں ڈالر خرچ کیے جو طالبان کے پاس نہیں تھے اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے دیکھا ہے کہ وہ قوت ملک کا دفاع کرنے میں ناکام رہی۔
سیکریٹری نے اس تجویز کو بھی مسترد کردیا کہ امریکی سفارت خانے کے عملے اور دیگر امریکیوں کو نکالنے کے لیے امریکی فوجی بھیجنا ویت نام سے امریکی انخلا جیسا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سائگون نہیں ہے، ہم 20 سال پہلے ایک مشن کے ساتھ افغانستان گئے تھے اور وہ مشن ان لوگوں سے نمٹنا تھا جنہوں نے 9/11 حملہ کیا اور ہم اس مشن میں کامیاب ہو گئے ہیں۔