افغانستان کی صورتحال پر امریکہ کا پاکستان، بھارت، چین اور روس سے رابطہ

  • منگل 17 / اگست / 2021
  • 2710

امریکہ نے پاکستان سمیت نصف ایسے درجن ممالک سے رابطہ کیا ہے جو اس کے خیال میں افغانستان کی صورت حال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

پاکستان، چین، روس، بھارت اور ترکی کے وزرائے خارجہ اور برطانیہ کے سیکریٹری خارجہ ان اعلیٰ سفارتکاروں میں شامل تھے جن سے امریکی سیکریٹری خارجہ اینٹونی بلنکن نے رابطہ کیا۔ انہوں نے نیٹو کے سیکریٹری جنرل اور یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندوں سے بھی بات کی۔

خیال رہے کہ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ 2 ہزار 252 کلومیٹر طویل سرحد ہے جبکہ چین کی واخان راہداری کے ساتھ ایک چھوٹی لیکن حساس سرحد افغانستان کے ساتھ منسلک ہے۔ روس اور افغانستان کے درمیان سرحد نہیں تاہم 1989 میں جنگ زدہ ملک سے اپنی فوجوں کے انخلا کے بعد سے افغان باغیوں کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کر چکا ہے۔

ترکی نے بھی روایتی طور پر افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کر رکھے ہیں اور برطانیہ کا بھی وہاں کچھ اثر و رسوخ ہے۔ اس کے علاوہ یورپی یونین نے افغانستان کے ساتھ اقتصادی امداد فراہم کرنے میں امریکا کے ساتھ شراکت داری کی اور وہاں امریکا کی فوجی موجودگی کی حمایت کرتا رہا ہے۔

چین سے رابطے میں امریکا نے اپنے خدشات کا اظہار کیا کہ بیجنگ خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے افغانستان سے امریکا کے انخلا کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ امریکی پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ میں مسائل بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان تعاون کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی طرح چین بھی خطے میں مذہبی شورش نہیں چاہتا کیونکہ اس سے سنکیانگ پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ واشنگٹن کا خیال ہے کہ بھارت، افغانستان میں بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے جہاں وہ مختلف مقامات پر اثر و رسوخ رکھتا ہے۔

تاہم واشنگٹن میں پالیسی سازوں اور اسکالرز نے بارہا کہا کہ ان میں سے کوئی بھی ملک افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی گہرائی سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن دونوں انتظامیہ نے عوامی سطح پر طالبان کے ساتھ فروری 2020 کے امن معاہدے کو حتمی شکل دینے میں پاکستان کی حمایت کو تسلیم کیا ہے۔

واشنگٹن، افغانستان میں اثر و رسوخ کے لیے بھارت اور پاکستان کے درمیان جدوجہد سے آگاہ ہے اور چاہتا ہے کہ دونوں ممالک اپنی دشمنی سے حساس علاقے میں پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید کشیدہ نہ بنائیں۔ اینٹونی بلنکن نے پیر کے روز اپنے بھارتی اور پاکستانی ہم منصبوں سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے اس گفتگو میں زور دیا کہ جامع سیاسی حل ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے، افغانستان کے لیے امریکا کے معاشی تعاون کا تسلسل بھی انتہائی اہم ہے۔ شاہ محمود قریشی نے اینٹونی بلنکن کو پاکستان سے سفارتی مشنز اور بین الاقوامی اداروں کے عملے اور دیگر افراد کو افغانستان سے نکالنے میں سہولت کاری کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں سے آگاہ کیا۔

امریکی سیکریٹری خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق سیکریٹری اینٹونی بلنکن نے بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے افغانستان اور وہاں کی بدلتی ہوئی صورتحال کے بارے میں بھی بات کی۔