سرکاری ملازمین کو عام معافی دینے کا اعلان، خواتین کام پر واپس آجائیں: طالبان

  • منگل 17 / اگست / 2021
  • 6190

طالبان نے سرکاری اہلکاروں کے لیے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے خواتین پر زور دیا ہے کہ وہ حکومت کا حصہ بنیں۔

طالبان کے کلچرل کمیشن کے رکن انعام اللہ سمنگنی نے کہا ہے کہ خواتین شریعت کے مطابق حکومت امور میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد حکومتی امور سے متعلق کسی بھی افغان ذمہ دار کی جانب سے آنے والا یہ پہلا بیان ہے۔ انعام اللہ سمنگنی نے سرکاری ملازمین کو کہا کہ انہیں اعتماد کے ساتھ اپنی روزہ مرہ کی زندگی دوبارہ شروع کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ امارات اسلامی خواتین کو مظلوم رکھنا نہیں چاہتی اور وہ شریعہ قوانین کے تحت حکومت میں شامل ہو سکتی ہیں۔ اس موقع پر حکومت کا ڈھانچہ واضح نہیں ہے البتہ ملک میں اسلامی قیادت پر مشتمل حکومت ہو گی جس میں تمام طبقات کی نمائندگی ہو گی۔

افغانستان پر مکمل قبضہ کے بعد طالبان نے سرکاری میڈیا کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے اور خواتین اینکرز سمیت میڈیا ورکرز کو کام پر واپس آنے کی ہدایت کی ہے۔ سرکاری میڈیا کے علاوہ نجی چینلز پر بھی خواتین اینکرز اسکرین پر نمودار ہو رہی ہیں اور طالبان کے نمائندے تازہ ترین صورتِ حال پر خواتین اینکرز سے بھی گفتگو کر رہے ہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق طالبان کو  خواتین کے ٹیلی ویژن اسکرین پر آنے سے بظاہر اب کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

افغان نیوز چینل 'طلوع' نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک تصویر شیئر کی ہے جس میں نیوز اینکر بہشتہ ارغند طالبان میڈیا ٹیم کے رکن مولوی عبدالحق حماد سے کابل شہر کی صورتِ حال پر ان کے تاثرات لے رہی ہیں۔ کابل کے مقامی صحافی بشیر نادم نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اتوار کی نسبت صورتِ حال میں کچھ نرمی دیکھنے میں آئی ہے۔

طالبان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل پر قبضہ کر لیا ہے جس کے بعد اُن کے ممکنہ دورِ حکومت میں خواتین کی تعلیم اور انسانی حقوق کے علاوہ کرکٹ کے حلقوں میں ملک میں کھیل کے مستقبل کے حوالے سے قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ کسی کا کہنا ہے کہ طالبان کو کرکٹ پسند نہیں اس لیے اسے ختم کر دیں گے۔ کوئی پیش گوئی کر رہا ہے کہ افغانستان کی کرکٹ ٹیم اب ورلڈ ٹی ٹوئنٹی (ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ) میں بھی شرکت نہیں کر سکے گی۔

افغانستان میں طالبان کا قبضہ شاید ہی کسی اور کھیل سے محبت کرنے والوں کے لیے اتنا پریشان کن ہو جتنا کہ کرکٹ کے مداحوں کے لیے ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ افغان کرکٹ ٹیم کی حالیہ دنوں میں بہتر اور ان کے کھلاڑیوں کی دنیا بھر میں شان دار کارکردگی ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور افغانستان کے سابق کوچ راشد لطیف کا کہنا ہے کہ طالبان کو کرکٹ سے کوئی مسئلہ نہیں، اس سے پہلے بھی وہ کرکٹ کے حق میں فتوٰی جاری کر چکے ہیں۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طالبان کرکٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔ اس سے پہلے بھی جب وہ حکومت میں تھے تو انہوں نے کرکٹ کھیلنے پر کوئی پابندی نہیں لگائی تھی۔