محرم الحرام اور طالبان کا افغانستان پر قبضہ

امام عالی مقام کی شہادت کے بعد فضا سوگوار ہے، خوف اور سناٹے کا سایہ ہے۔ اہل بیت پر جو آفت ٹوٹ پڑی ہے اس کے بعد لوگ اہل بیت سے اپنا ادنی سا تعلق بھی جوڑنے سے گریزاں ہیں۔ اور جولوگ اس تعلق اور ساتھ کے قائل بھی ہیں تو وہ اپنے اپنے گھروں میں چھپے اور اپنے اپنے ہونٹوں پر تالا لگائے بیٹھے ہیں۔

حضرت امیر معاویہ نے جو ملکویت کی بنیاد ڈال دی ہے اور امام حسن علیہ السلام سے کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یزید کو مملکت کا نیا سربراہ مقرر کر دیا ہے تو اس سے اب تمام تر خرابیاں سامنے آنے لگیں ہیں۔  انارکی نے پوری طرح سے مملکت کو اپنی گرفت میں جکڑ لیا ہے۔ یزید کو کسی قسم کی روک ٹوک کرنے والا کوئی نہیں۔ وہ شہنشاہیت کے زعم میں ہر اچھے برے احکام کو اسلام کی مہر لگا کر جاری کر رہا ہے۔ اور تو اور اس نے مطلب پرست اور چڑھتے سورج کے پجاری دین سے لاعلم، اتباع محمدی سے دور ایسے نام نہاد علما کو اپنے اردگرد جمع کرلیا ہے جو شہادت امام عالی مقام کے ذمہ دار، اہلبیت کی بے حرمتی کے احکامات جاری کرنے والے یزید کو خلیفہ وقت تسلیم کروانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔

قتل و غارت گری، تلوار کی قوت، اور سیاسی جوڑ توڑ کی بنیاد پر کھڑی سلطنت امیہ جو کسی طور پر بھی اسلامی ریاست کہلائے جانے کی حقدار نہیں یزید جیسے جابر اور ظالم کی سربراہی میں خود کو اسلامی ریاست اور یزید کو خلیفہ کہلانے کے تمام حربے استعمال کر کے اسلامی تعلیمات کی روح کو گھائل کر رہی تھی۔ خلافت امیہ کے بعد پھر کبھی اس اسلامی مشاورتی اور عوام کی حمایت سے چنی حکومت کو کسی بھی دور میں کبھی کوئی موقع نہیں ملا۔ گو کہ ایسا اس سے پہلے بھی نہیں ہوا تھا مگر اس میں مشاورت اور چناؤ کو ایک اہم مقام حاصل تھا۔ فیصلے مشاورت سے ہوا کرتے تھے۔ نامزدگی اور قائد کے چناؤ میں حمایت اور آرا کو اہمیت دی جاتی تھی۔ یزید کو امام حسین علیہ السلام کی بیعت اسی لیے چاہیے تھی کہ وہ عوام کو بتا سکے کہ اس کی خلافت مشاورت سے وجود میں آئی ہے اور جائز ہے۔ مگر جب ایسا ممکن نہ ہوا تو زور زبردستی پر اتر آیا۔ حتی کے اہل بیت کی حرمت  اور نواسہ رسول کو شہید کرنے سے بھی باز نہ آیا۔  شہادت کے بعد اس نے اور اس کے حواریوں نے طرح طرح کی تو جیحات پیش کرنی شروع کردیں۔ اور اس کے یہ حواری، نام نہاد ملا آج بھی اسی طرح کی باتیں کرکے یزید کے دفاع میں مشغول ہیں۔ 

ان کے دلائل کی انتہا یزید کی نعوذ باللہ بخشش اور اس کے جنت میں داخل ہونے کی بشارت ہے۔ اور جو لوگ اس زور زبردستی کو جائز اور درست قرار دیتے رہے، وہی لوگ آج بھی اسلام میں زور زبردستی اور آمرانہ طرز حکومت کے حامی ہیں۔ اور یہی لوگ طالبان کی فتح کو اسلام کی فتح قرار دے رہے ہیں۔ یقیناً افغانستان کی مکمل صورتحال کا جائزہ لیے بغیر وہاں کے حالات پر کوئی تبصرہ کرنا ممکن نہیں ہے، نہ ایسا کرنا درست ہوگا۔ وہاں طالع آزما روسی، امریکی اور یورپی مداخلت کو یکسر نظر انداز کرکے وہاں کے حالات کا تجزیہ کرنا بھی غلط ہوگا۔ افغانستان کے عوام جس بھی حکومت کو چاہیں چنیں، انہیں اس کا مکمل اختیار ہے اور باہر سے فوج اور لشکر کشی کے ذریعہ ان کے معاملے میں مداخلت کرنا کسی طرح سے بھی درست اور جائز نہیں۔

یہ مداخلت کسی بھی جانب سے ہو غیر ضروری اور ناجائز ہے۔ خواہ وہ سعودی عرب کی جانب سے ہو، پاکستان کی طرف سے یا ہندوستان سے۔ افغانی عوام کو موقع ملنا چاہیےکہ وہ اسلامی، جمہوری یا جس طرح کی چاہیں حکومت کا چناؤ کرکے اپنی سمت متعین کریں۔ طالبان جو اس وقت ملک پر قابض ہو چکے ہیں وہ عوام کی مرضی سے نہیں آئے۔ زور زبردستی سے آئے ہیں۔ امریکہ اور یورپ کو جلد یا بدیر افغانستان سے نکلنا تھا۔ یہ بات افغانستان سے زیادہ خود ان کے اپنے مفاد میں تھی۔ مگر ان کے جاتے ہی طالبان کا یوں ایک بنی بنائی حکومت کو الٹ کر ملک کو انارکی اور افراتفری کے دور میں دھکیل دینا کسی بھی طرح سے قابل فخر نہیں۔

طالبان اگر افغانستان میں  حکومت کرنا چاہتے ہیں اور عوام کی ذمہ داریاں اٹھانا چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ زور زبردستی کو چھوڑ کر باہم مشاورت اور بات چیت کے ذریعے اور انتخابات میں حصہ لے کر ایسا کر یں۔