ازبکستان میں افغان فوجی طیارہ گر کر تباہ، 46 ایئرکرافٹس کی زبردستی لینڈنگ

  • بدھ 18 / اگست / 2021
  • 8220

ازبکستان کی فضائی حدود پر غیرقانونی پرواز کرنے والا افغان فوجی طیارہ گر کر تباہ ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ 585 فوجیوں کو لے کر آنے والے 46 ایئرکرافٹس کو زبردستی روک دیا گیا۔

خبر ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ازبکستان کی حکومت کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو روز کے دوران افغانستان کے 46 ایئرکرافٹ کو لینڈ کرنے پر مجبور کیا گیا جو غیرقانونی طور پر فضائی سرحد عبور کر رہے تھے اور ان میں 585 فوجی سوار تھے۔

سرکاری پراسیکیوٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ 22 فوجی جہاز اور 24 فوجی ہیلی کاپٹرز کو ترمیز ایئرپورٹ پر زبردستی اتارا گیا۔ قبل ازیں ازبکستان کی وزارت کے ترجمان نے مقامی میڈیا کی رپورٹس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوجی طیارے نے غیرقانونی طور پر ازبکستان کی سرحد پار کی تھی، جس کی تفتیش کی جارہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ افغان فوجی طیارہ اتوار کو افغانستان کی سرحد سے منسلک جنوبی صوبے سرخونداریو میں گر کر تباہ ہوا۔ روسی نیوز ایجنسیوں نے وزارت دفاع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ طیارے کو ازبکستان کی فورسز کی جانب سے مار گرایا گیا ہے۔

ازبکستان کے سرکاری پراسیکیوٹر نے حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کے حوالے سے کہا کہ افغان فوجی طیارہ اس وقت حادثے سے دوچار ہوا جب لینڈنگ کے لیے تعاون کرنے والے ازبکستان کے سرکاری طیارے سے ٹکرا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طیارے کے پائلٹس پیراشوٹ کے ذریعے جان بچانے میں کامیاب ہوئے۔

پراسیکیوٹر کے بیان میں مزید کہا گیا کہ اتوار کو ایمو دریا کے راستے 158 شہری اور فوجی اہلکار ازبکستان میں داخل ہوئے تھے اور ان سے تفتیش کی جارہی ہے۔ سرخونداریو کے علاقائی دارالحکومت ترمیز میں ایک ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ ان کے ہسپتال میں 2 افراد کو لایا گیا تھا جو افغان فوج کی وردی میں ملبوس تھے۔

ازبکستان کی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ افغان فوجیوں کو سرحد پر حراست میں لیا گیا تھا لیکن انسانی بنیادوں پر امداد بھی دی گئی۔ ازبکستان کے حکام افغان حکام سے ان کی واپسی کے لیے بات کر رہے ہیں۔

ازبکستان کے پڑوسی ملک تاجکستان کا کہنا تھا کہ اس نے ملک کے جنوبی علاقے میں واقع بوختار ایئرپورٹ میں 100 سے زائد افغان فوجیوں کو لینڈ کرنے کی اجازت دی۔ تاجکستان کی وزارت خارجہ کے شعبہ نشر و اطلاعات کی جانب سے روسی میڈیا کو بتایا گیا کہ تاجکستان کو ایس او ایس سگنلز موصول ہوئے، جس کے بعد عالمی معاہدوں کے تحت فیصلہ کیا گیا کہ افغان فوجیوں کو ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے کی اجازت دی جائے۔